اسحاق ڈار تو وہیں بیٹھ گئے ہیں، چیف جسٹس

سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو وطن واپس لانے کے ازخود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ مجھے نہیں لگتا اس معاملے پر دفتر خارجہ نے کوئی کردار ادا کیا ہو ۔ ڈار کو لانے کیلئے عملی کام نہیں ہوا صرف خطوط لکھے جا رہے ہیں ۔
سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے سماعت کا آغاز کیا تو جسٹس اعجاز الاحسن  نے پوچھا کہ اسحاق ڈار کی واپسی کیلئے نیب نے برطانوی حکومت کو خط لکھنا تھا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق وزارت خارجہ کے نمائندے نے بتایا کہ کہ اسحاق ڈار کو واپس لانے کیلئے دفتر خارجہ نے برطانوی سینٹرل اتھارٹی کو خط لکھا ہے جواب کا انتظار ہے ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ صرف خطوط لکھے جارہے ہیں ۔  چیف جسٹس نے کہا کہ عملی کام کچھ نہیں ہوا، مجھے نہیں لگتا اس معاملے پر دفتر خارجہ نے کوئی کردار ادا کیا ہو، اسحاق ڈار خود بھی تو نہیں آتے، وہیں بیٹھ گئے ہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اسحاق ڈار، فواد حسن فواد اور عطا الحق قاسمی سے ایک اور کیس میں پیسوں کی ریکوری کیوں نہیں ہوئی، پرویز رشید سے بھی ریکوری کرنی تھی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق وزارت اطلاعات کے پرنسپل انفارمیشن آفیسر نے بتایا کہ فیصلے کو دو ماہ کل پورے ہوئے آج سب کو ریکوری کا نوٹس جاری کریں گے ۔
عدالت نے کیس کی سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کر دی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے