بحریہ ٹاؤن کے قبضے پر کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟

سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاون عمل درآمد کیس کی سماعت 15 جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے 7068 ایکڑ سرکاری اراضی کی قیمت کے تعین کے لیے بحریہ ٹاون کو مہلت دے دی ہے ۔ عدالت نے کہا ہے کہ 2014 کے نرخوں کے مطابق 7068 ایکڑ اراضی کا تخمینہ 225 ارب روپے لگایا گیا ۔

جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی عمل درآمد بنچ کو بحریہ ٹاون کے وکیل خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ معاملے میں تیسرے فریق کے مفاد کا تحفظ کیا جائے ۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ہم اپنے حکم پر عمل درآمد چاہتے ہیں، کیا نیب نے تحقیقات مکمل کر لی ہیں؟ تفتیشی افسر نے بتایا کہ نیب کی تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں، ضمنی ریفرنس بہت جلد فائل کر دیا جائے گا، نیب نے بتایا کہ علاقے میں بحریہ کے پاس کل رقبہ 25 ہزار ایکڑ ہے جس میں سے 7 ہزار 2 سو ایکڑ 2015 میں غیر قانونی طور پر بحریہ ٹاؤن کو منتقل کی گئی ۔ بحریہ ٹاؤن کے وکیل نے کہا کہ اراضی کی قیمت کا تعین کرنے کیلئے مہلت دی جائے رقم ادا کرنے کیلئے تیار ہیں ۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ دیے گئے فیصلے کے ساتھ جسٹس فیصل عرب کے اضافی نوٹ میں اس اراضی کی قیمت کا تعین کیا گیا ہے ۔ بحریہ کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ یہ اضافی نوٹ ہے عدالتی فیصلہ نہیں یہ ہم پر لاگو نہیں ہوتا ۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ پھر ہم قیمتوں کا فرانزک تجزیہ کروا لیتے ہیں، جسٹس فیصل عرب کے اضافی نوٹ کے مطابق 1 ایکڑ اراضی کی قیمت ساڑھے 3 کروڑ بنتی ہے، 2018 کی قیمت کے مطابق اس میں 40 فیصد تک کا اضافہ ہو سکتا ہے، اگر آپ کو یہ نرخ قابل قبول نہیں تو سوچ لیں اس میں مزید اضافہ بھی ہوسکتا ہے ۔

بحریہ ٹاون کے وکیل نے کہا کہ نیب نے جو اراضی کے اعدادوشمار شمار بتائے وہ درست نہیں ۔ جسٹس عظمت سعید نے پوچھا کہ کتنی سرکاری اراضی بحریہ ٹاون کے پاس ہے ۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ 23 ہزار 744 ایکڑ اراضی بحریہ کے پاس ہے، اس میں 7220 ایکڑ بھی شامل ہے، 1414 ایکڑ اراضی نجی ملکیت ہے، کچھ گاوں والے بھی شکایت کنندہ ہیں ان کی اراضی پر بھی بحریہ ٹاون نے قبضہ کر رکھا ہے ۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ہم اس معاملے کو الگ سے دیکھیں گے ۔ بحریہ ٹاون کے وکیل نے کہا کہ 1700 ایکڑ اراضی جامشورو کی ہے جو غلط شامل کی گئی ہے، ہم نے 18 ہزار ایکڑ اراضی تسلیم کی تھی، وکیل بحریہ ٹاون نے کہا کہ قیمت کا تعین کا ہونا باقی ہے 2014 کے مطابق دی جائے یا 2018 کے مطابق ۔

جسٹس عظمت سعید نے پوچھا کہ پنجاب کے جنگلات کی اراضی پر قبضے سے متعلق کیا ہوا ۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ لوئی بھیر اور تخت پڑی سے متعلق رپورٹ جمع کروائی ہے ۔ جسٹس عظمت سعید نے پوچھا کہ کتنے درخت کاٹے ہیں ۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ تخمینے کے مطابق 80 ہزار درخت بحریہ ٹاون نے کاٹ دئیے ۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اتنی تعداد میں درخت کاٹ کر ماحول کو نقصان پہنچایا گیا، ہمیں سن کر حیرت اور شرمندگی ہو رہی ہے ۔ عدالت نے بحریہ ٹاون سے پنجاب کی جنگلات کی اراضی پر جمع کروائی گئی رپورٹ سے متعلق جواب طلب کر لیا گیا ۔

عدالت نے اپنے آرڈر میں لکھا کہ نیب کی رپورٹ کے مطابق 25ہزار 601 ایکڑ کل اراضی ہے، 7220 ایکڑ غیر قانونی طور پر 2015 میں بحریہ ٹاون کو منتقل ہوئی، اس غیر قانونی اراضی پر بحریہ کا جواب ہے کہ یہ قبضے کی نہیں ہے، عدالت نے ہدایت کی ہے کہ حکومت سندھ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس اراضی کا قبضہ واگزار کروائیں ۔

عدالت نے کہا ہے کہ 59 غیر قانونی ٹیوب ویل اور زمین کی خرید و فروخت کی رقم کی ادائیگی سے متعلق نیب اور متعلقہ ادارے کاروائی کریں، اس حوالے سے نیب الگ ریفرنسز دائر کرے، اگر ریفرنسز دائر نہ ہوئے اور عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہوا تو نیب کے خلاف کاروائی کریں گے ۔

عدالت نے ہدایت کی ہے کہ کے فور روٹ کا معاملہ بھی نیب اور متعلقہ ادارے دیکھیں، اس حوالے سے بھی الگ ریفرنسز دائر کیے جائیں، املیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تین پراجیکٹس کی 1.5 ارب واجب الادا رقم کو بھی نیب دیکھ اور کارروائی کر کے رپورٹ عدالت میں پیش کرے ۔

متعلقہ مضامین