غریدہ فاروقی نے بھی عدالت میں معافی مانگ لی

سپریم کورٹ میں دیامر بھاشا مہمند ڈیم تعمیر فیصلے پر عمل درآمد کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے بتایا کہ مہمند ڈیم کا ٹھیکہ دینے پر 76 ٹاک شوز ہوئے۔اٹارنی جنرل کے مطابق تمام پروگرام کمپنی کو ٹھیکہ دینے پر تھے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پروگرامز میں ڈیم یا ڈیم فنڈز کیخلاف بات نہیں کی گئی۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ٹی وی چینلز مفت میں ایڈز چلا کر ڈیمز فنڈ کو فروغ دے رہے ہیں۔چینلز نے اب تک 13 ارب کے مفت اشتہار چلائے ہیں۔ تمام الیکٹرانک چینلز ڈیمز فنڈز میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔

جسٹس عمر عطا نے کہا کہ ٹی وی چینلز مذموم مقاصد کیلئے پروگرام کرینگے تو اس کا اثر ڈیمز فنڈ پر پڑے گا ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ٹھیکہ کے خلاف پروگرام بھی ڈیمز فنڈ کو متاثر کرے گا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ڈیمز فنڈ کی مہم میں میڈیا کا اہم کردار ہے، سارے پاکستانی میڈیا نے حب الوطنی سے ڈیم فنڈ کیلئے کام کیا، مجموعی طور پر میڈیا کوڈیم کے معاملے پر ستائش کرتے ہیں، میڈیا نے ڈیمز فنڈ کیلئے خود کام کیا ہے۔

نجی ٹی وی کی اینکر غریدہ فاروقی سپریم کورٹ پیش ہوئیں تو ان سے پوچھا گیا کہ پیپرا کا مطلب کیا ہے. جسٹس عمر عطا بندیال کے غریدہ فاروقی سے استفسار پر وہ پیپرا کا مطلب نہ بتا سکیں جس پر عدالت میں قہقہے گونجے ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ آپ کو ریسرچ کون کر کے دیتا ہے ۔ غریدہ فاروقی نے کہا کہ سر میری پوری ریسرچ کی ٹیم ہے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ گندی مٹھائیوں کے لیے کوئی ٹیم نہیں بنائی، مٹھائیوں میں جراثیم پکڑے جائیں تو رونا دھونا شروع کر دیتے ہیں، آپ کیا چاہتے ہیں کہ ڈیم نہ بنے ۔ پیمرا کے سربراہ نے کہا کہ نجی ٹی وی کو شوکاز دے کر وضاحت مانگیں گے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جی این این کا لائسنس منسوخ کریں. بعد میں ریسرچ ٹیم دیکھیں گے  ۔ غریدہ نے کہا کہ ڈیم کے خلاف کوئی مہم نہیں چلائی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ بتائیں پیپرا رولز کے کس شق کی خلاف ورزی ہوئی، ڈیم کے کسی حصے پر تنقید بھی ڈیم پر ہی تنقید ہے۔ خاتون اینکر نے کہا کہ وکیل کے زریعے جواب دینا چاہوں گی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پروگرام آپ نے کیا ہے وکیل نے نہیں۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ پروگرام میں آپ نے کہا میرٹ کا قتل ہوا، اپ نے سوال نہیں کیا اپنا فیصلہ سنایا تھا۔

غریدہ فاروقی نے کہا کہ میرٹ کا قتل مفادات کے ٹکراؤ پر کہا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جی این این ہمیشہ عدالت کی توہین کرتا ہے۔ غریدہ نے کہا کہ آپ ملک کے مسیحا ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اچھے کام میں ہمارا ساتھ دیں، جی این این کے مالکان کیوں نہیں آئے ۔

پیمرا کے چیئرمین نے کہا کہ تمام چینل مالکان سے مثبت رویہ اختیار کرنے پر بات کی ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پیمرا کو گرفت مضبوط اور دانت دکھانے پڑیں گے، پیمرا ٹی وی چینلز کو کھلی چھٹی نہیں دے سکتا، پیمرا کو کاروائی کرنے کیلئے ہمت کرنا ہوگی، صرف ایڈوائس بھجوانے سے کام نہیں چلے گا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ مستقبل میں امید ہے چیزیں بہتر ہونگی۔

اینکر نے عدالت سے درگزر کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے رحم و کرم پر ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آئندہ احتیاط کریں ڈیم کے معاملے ایک لفظ برداشت نہیں کریں گے ۔ غریدہ نے کہا کہ پروگرام میں بھی وضاحت کریں گے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو اندازہ ہونا چاہیے ملک کے باہر کتنے دشمن بیٹھے ہیں۔

خاتون اینکر نے کہا کہ خود بھی ڈیم فنڈ میں عطیہ کیا ہے اور جی این این بھی ڈیم فنڈ میں عطیات دے چکا ہے۔

گورنر سٹیٹ بنک نے بتایا کہ ڈیمز فنڈز میں پچاس ممالک سے پیسہ آ رہا ہے،تجویز ہے رجسٹرار سپریم کی سربراہی میں سرمایہ کاری کمیٹی بنائی جائے، کمیٹی میں سٹیٹ بنک کے دو ڈاریکٹرز بھی شامل ہوں گے ۔ گورنر سٹیٹ بنک نے بتایا کہ ڈیمز فنڈز کی رقم ٹریژری بلز میں لگانے کی تجویز ہے، ریژری بلز کا ریٹ 10.3 فیصد ہے ۔

بعد ازاں عدالت نے ڈیمز فنڈز میں جمع رقم کی سرمایہ کاری کے لیے رجسٹرار سپریم کورٹ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کرنے کا حکم جاری کیا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے