خواہش تھی کہ کام میری موجودگی میں ہو جاتا

سپریم کورٹ نے سندھ کے نئی گاج ڈیم تعمیر کیس میں وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر توانائی عمر ایوب خان اور سیکرٹری کابینہ ڈویژن کو طلب کر لیا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ راضی ہو گیا ہے اب کہیں یہ معاملہ قومی اقتصادی رابطہ کمیٹی میں نہ پھنس جائے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل دو رکنی عدالتی بنچ نے سندھ کے نئی گاج ڈیم کی تعمیر کیلئے لئے گئے ازخود نوٹس کی سماعت کی ۔ عدالت کو بتایا گیا کہ پلاننگ کمیشن کی سنٹرل ورکنگ ڈویلپمنٹ پارٹی کا اجلاس ہو چکا ہے، سفارشات ایکنک کو بھجوا دی ہیں، سیکریٹری خزانہ کو ایکنک اجلاس جلد طلب کرنے کا بھی کہا ہے، کوشش کی جائے گی کہ 17 جنوری سے پہلے ایکنک کی میٹنگ ہو جائے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ڈیم سے متعلق بہت سی چیزیں فائنل ہو چکیں، یہ معاملہ تو پھر ایکنک میں پھنس جائے گا، میری خواہش تھی کہ یہ معاملہ میری موجودگی میں ہو جاتا، بہت ساری خواہشات رہ جاتی ہیں۔ حکومت نئی گاج ڈیم تعمیر کا مکمل شیڈول فراہم کرے اور تاریخ بتائے کب تک یہ سارا عمل مکمل ہوگا۔ سپریم کورٹ نے وزیر بجلی عمر ایوب، وزیر خزانہ اسد عمر اور سیکرٹری کابینہ ڈویژن کو منگل کے روز طلب کرتے ہوئے سماعت 15 جنوری تک ملتوی کر دی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے