علیمہ خان سے کچھ نہ پوچھا گیا

بیرون ملک اثاثے بنانے اور بنک اکاؤنٹس کھولنے والے پاکستانیوں کے مقدمے کی سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اپنے وکیل سلمان اکرم راجا کے ہمراہ پیش ہوئیں مگر ان سے کچھ نہ پوچھا گیا ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے فیڈرل بیورو آف ریونیو (ایف بی آر) کی ممبر آڈٹ کی رپورٹ ملاحظہ کرنے کے بعد سماعت مزید پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کے ساتھ ایک ماہ کیلئے ملتوی کر دی ۔

پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کہ ممبر آڈٹ نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے نے 895 لوگوں کا ڈیٹا فراہم کیا تھا، دبئی میں پاکستانیوں کی 1365 جائیدادیں تھیں، اب تک صرف 27 لوگوں نے ادائیگیاں کی ہیں اور ان سے 270 ملین سے زائد کی ریکوری ہو چکی ہے جب کہ 768 ملین کی مزید ریکوری ہوگی، اس طرح مجموعی طور پر ایک ارب سے زائد کی ریکوری ہوگی۔ 116 افراد نے ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھایا، انہوں نے 38 ارب کی جائیدادیں ظاہر کی، 125 لوگ ایف بی آر میں پیش نہیں ہوئے، علیمہ خان نے ایمنسٹی اسکیم میں ایک جائیداد ظاہر کی، دبئی والی جائیداد ظاہر نہیں کی ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جو لوگ ایف بی آر میں پیش ہو کر اپنی جائیداد کے بارے میں مطمئن نہیں کرتے ان کی جائیدادیں ضبط ہونا چاہئیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جو ڈیٹا فراہم کیا گیا اس کے مطابق ایف بی آر کی ریکوری کی رفتار بہت کم ہے، ایف بی آر کو شریفوں کا تھانہ کہا جاتا ہے، اب تک شریفوں کو اندر بٹھایا جانا چاہیے تھا، رفتار یہ ہے تو پھر ایف بی آر نے واقعتا کوئی کام نہیں کیا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق ایف بی آر کی ممبر آڈٹ نے کہا کہ دبئی جائیدادوں کی اصل مالیت ابھی تک معلوم نہیں اس لئے ٹیکس یا جرمانے کا تعین نہیں ہو سکا، 156 جائیدادیں ایسی ہیں جن پر ابھی کام ہونا ہے ۔ ایف آئی اے کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات میں سے 75 فیصد پر کام کر لیا ہے، مزید 76 کروڑ کی ریکوری کی توقع ہے ۔

چیف جسٹس نے ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن سے پوچھا کہ کیا ایف بی آر کی ریکوری سے مطمئن ہیں؟ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق ڈی جی نے کہا کہ جس رفتار سے کام کی توقع تھی نہیں ہوا مگر طریقہ کار کے مطابق چلنا پڑتا ہے ۔ عدالت نے ایک ماہ بعد پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے