سوشل میڈیا کے انتہائی استعمال کا ایوارڈ

شہزاد حسین

جرمنی تعلیمی میدان میں دنیا بھر میں ایک بڑا نام ہے، مگر انتہائی ناکارہ قوم ہے کہ سوشل میڈیا پر آپ کو اکا دکا ہی نظر آئیں گے۔ انکو تو جیسے علم ہی نہیں کہ اس نام کی شے بھی دنیا میں آگئی ہے۔ میری اس حیرت میں اضافہ تب ہوا جب میں نے بہت ڈھونڈتے ہوئے جرمن سیاسی پارٹیوں اور کچھ سیاستدانوں کے ٹویٹر آئی ڈیز نکالے اور ان کی شہرت نہ ہونے کے برابر پائی۔ ہمارے ہاں تو یہی ہے نا کہ ٹویٹر پر جن سیاسی شخصیات کی ٹویٹر پر بلے بلے ہے وہی بڑا سیاستدان ہے، اور وہی بڑا صحافی۔

ہمارے ہاں تو جناب صبح اٹھتے جمائی اور انگڑائی تک نہیں آتی کہ جب تک یہ دیکھ نا لیا جائے کہ رات کو کی گئی پوسٹ پر کتنے ہارٹ آئے ہیں اور کتنے کمنٹس ۔ اب اس میں بھی فرق کرنا بڑا مشکل ہوگیا ہے کہ ہمارے ہاں سوشل میڈیا صارفین صرف ایک ہی ایج گروپ سے ہونگے۔ ہاں اس بات میں کوئی شک بھی نہیں کہ پاکستانی نوجوان کل آبادی کا لگ بھگ ساٹھ فیصد تو ہیں ہی۔ اور زیادہ تعداد ان میں ویلوں کی ہے۔ مطلب کہ پہلے تو وہ لوگ جو زیادہ پڑھ لکھ گئے ہیں مگر ہاتھ ابھی تک کچھ نا لگا، سوشل میڈیا کے علاوہ۔ دوسرے وہ لوگ جو لوڈ والی سادیہ کے میسج پر کم از کم آدھا دن تو سوچتے ہیں کہ اس بار کرا ہی دوں، کیا پتا کوئی سین بن جائے۔ پھر کچھ ایسے بھی جن کو سوشل میڈیا پر اپنی ہی پوسٹ پر سب سے پہلے خود ہارٹ بنانا ہوتا ہے۔ اچھا اس سے زیادہ دلچسپی کا سامان ہمارے لوکل ٹرینڈز نے کررکھا ہے۔

کانڈم بیچنے والوں سے لے کر بریزر اور انڈروئیر تک کی دکانیں سوشل میڈیا پر سجادی گئی ہیں۔ اب نوجوان کو ہر برانڈ کا نام فٹ یاد تو ہوگا ہی، کیوں نہ ہو، دکان ان کے ٹھکانے کے عین اوپر جو سج گئی ہے۔

میرا گلہ تو بس یہ ہے کہ سوشل میڈیا نے جتنی ترقی پاکستان اور اس جیسی اقوام میں کی ہے، جرمنی اس دوڑ میں اتنا پیچھے آخر کیسے رہ گیا۔

یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ جرمنی میں 46 فیصد سے زیادہ لوگ تو 50 سے ٹاپ چکے ہیں اور نوجوانوں میں بھی کوئی خاص تحریک اور ذوق نہیں پایا جاتا۔ میں جب ان کی آنکھوں میں جھانکتا ہوں تو زندگی سے بالکل خالی سی لگتی ہیں۔ مگر شائد کہ میں غلط ہوں۔ اس حوالے سے ایک انگریزی ویبسائٹ کہتی ہے کہ سوشل میڈیا پر جرمن کبھی نظر آبھی جائیں تو وہ تعداد خواندہ لوگوں کی نہیں ہوتی۔ یہ بھی بتایا گیا کہ ممکن ہے کہ یہ امریکی دب دبے کا اثر ہو کہ جو آج بھی جرمن مارکیٹ کی جڑوں میں بیٹھا ہوا ہے، شائد اس وجہ سے جرمن نوجوان اپنی سوشل لائف میں اس قدر خوفزدہ سے نظر آتے ہیں۔ اس خوف کی جڑیں تاریخ سے بھی جوڑی جاسکتی ہیں۔ یا یہ بھی کہ کیا اس کو ڈر اور خوف سے تعبیر کرنا درست عمل بھی ہے یا نہیں۔ جرمنوں میں عام طور پر بھی شورشرابہ کم ہی نظر آتا ہے، شائید کہ یہاں زندگی کا معمول ہے ہی ایسا؟ کوئی مسئلے مسائل ہوں تو تحریک بھی ہو؟ میں پاکستانی ہوں، مجھ میں اس احساس کی چبھن شائید عام لوگوں سے زیادہ پائی جاتی ہے۔ جب میں اپنی ہی سرزمین پر اپنا ہی لہو بہتے اور عالمی منڈیوں میں ان کو آزادی کے نام پر کیش ہوتا دیکھتا ہوں تو ان درندوں کے سامنے کھڑی بے بس چھوٹی قوموں کی وہ اذیت ناک کیفیت محسوس کرتا ہوں، مجھ میں کوئی تحریک کیسے نہ ہو۔

ہاں مگر سوتے جاگتے سوشل میڈیا کے پاکستانی بھوت پر سوال میرا وہیں ہے۔ کیا ہم سوشل میڈیا کو واقعی میں اگنور نہیں کرسکتے؟ چلیں نا سہی۔ مگر پھر مارک زوکربرگ سے اور ٹویٹر کے مالک سے میری درخواست ہے کہ سوشل میڈیا کے انتہائی استعمال پر بھی کسی عالمی ایوارڈ کا اعلان کیا جائے، مجھے امید ہے کہ پاکستان اس دوڑ میں دنیا کو مایوس نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین