سیلفی اور تصویر سے اکتائے جج

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ یوں تو کئی حوالوں سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور مختلف قوانین کی تشریح میں بھی دونوں ججز کی رائے میں بہت بڑا فرق ہے جو حالیہ فیصلوں میں بھی سامنے آیا ہے مگر تصویر کے مسئلے پر دونوں کی رائے تقریبا ایک جیسی ہے ۔

پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے اعزاز میں اختتامی تقریبات کے دوران چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ سیلفی بنانے والے وکیلوں اور صحافیوں سے پریشان دکھائی دیے تو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ بھی تصاویر بنانے والوں کے طور طریقوں سے مشکل میں دکھائی دیے ۔

ایک موقع پر چیف جسٹس آصف کھوسہ نے لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک رپورٹر کو سیلفی بنانے سے روک دیا جبکہ فل کورٹ ریفرنس کے بعد چائے پر انہوں نے کئی وکلا اور مہمانوں سے درخواست کی سیلفی نہ بنائی جائے ۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اس سے چہرہ بہت بڑا اور عجیب سا دکھائی دیتا ہے ۔

پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے تقریب کے دوران کئی سینئر وکلا کو بھی اپنے ساتھ تصاویر بنانے سے روک دیا ۔ انہوں نے وکیلوں اور مہمانوں سے معذرت بھی کی ۔ ایک موقع پر بہت زیادہ اصرار کرنے والے وکیلوں سے انہوں نے گزارش کی کہ گروپ فوٹو بنا سکتے ہیں جس میں دیگر لوگ بھی شامل ہوں ۔

معزز ججز نے اس حوالے سے کوئی وجہ تو نہیں بتائی تاہم یہ سمجھا جاتا ہے کہ ماضی میں بہت سے وکیلوں اور دیگر افراد نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ تصاویر بنا کر ان کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا ۔ کچھ وکلا کے بارے میں یہ باتیں بھی سامنے آئیں کہ انہوں نے ان تصاویر سے اپنے موکلین کو متاثر کرکے فیس بھی بڑھائی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button