حقوق، آزادی اور حب الوطنی کی جنگ

خرم شہزاد

مجھےاپنے وطن پاکستان سے بہت پیار ہے۔ لیکن نہ جانے کیوں کبھی بھی مجھے اپنے وطن کو وطن عزیز لکھتے ہوئے وہ طمانیت محسوس نہیں ہوتی جو اصولی طور پر ہونی چاہیئے۔ حالانکہ 80 کی دہائی میں عین اس وقت سکول کی راہ دیکھی جب سرکاری ٹاٹ سکولوں میں پڑھائے جانے والے "ضیاءالحقی سرکار” کے بنائے نصاب/سلیبس میں وطن عزیزسے محبت کا درس کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا- ایسا نہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ خدانخواستہ میرے دل میں وطن کی محبت کا جذبہ کمزور ہوگیا ہے، بلکہ یہ آج بھی اسی طرح جوان ہے جس طرح بچپن میں والد صاحب سے ۷۱ء میں کاٹی گئی بھارتی قید کی کہانیاں سنتے اور ریٹائرڈ فوجی حوالداروں اور صوبیداروں جنہوں نے بعد ازاں تدریس کا شعبہ اختیار کر لیا تھا سے معاشرتی علوم کے درس لیتے ہوئے ہوتا تھا۔ آج بھی اگر کوئی پاکستان یا افواج پاکستان تو درکنار، اس کے کسی رواج کے بارے میں کوئی منفی بات کر دے تو خون کھولنے لگتا ہے، لیکن نہ جانے کیوں ‘وطن عزیز’ کے الفاظ نہ تو میرے قلم پر بیٹھتے ہیں اور نہ ہی زبان پر۔ بہت سوچنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ شاید اس وجہ سے ہے کہ میرے ملک کے حکمرانون نے یہ الفاظ اتنی مرتبہ بولے ہیں کہ اب کم از کم مجھے ان کی تاثیر محسوس نہیں ہوتی۔
فوجی حکومت کے زیرسایہ گزرے ہوئے بچپن کے بعد شعور کے دریچوں پر دستک دیتے ہی جمہوریت کا راگ الاپتے سویلین حکمرانوں کے دلفریب نعروں اور پھر جوانی کی جولانی میں ایک بار پھر فوجیوں کے "سب سے پہلے پاکستان” کے بعد "نیا پاکستان” کے سویلین نعروں کے سفر میں یہ الفاظ سینکڑوں بار سماعتوں سے ٹکرائے۔ لیکن ان کی تعبیر ہمیشہ شرمندہ خاطر ہی رہی۔ نتیجہ یہ کہ آج جب کبھی بھی کوئی ان الفاظ سے ملتا جلتا بھی کچھ بولتا ہے تو مجھے اس کی منافقت اور فریب کاریوں کا یقین ہوجاتا ہے۔ اور آج کے ‘ففتھ جنریشن وار’ کے دور میں جب "فیک نیوز” نے وطنیت اور سماج کے معنوں کو دھندلا کر رکھ دیا ہے تو فکر لاحق ہوتی ہے کہ وطن، آزادی اور حقوق کے بیچ میں کہیں سب کچھ گڈمڈ نہ ہو جائے۔
وطن کیا ہے؟ زمین کا ایک ٹکڑا؟ یا زمین کا وہ ٹکڑا جہاں کچھ لوگ رہتے ہوں؟ سماج کیا ہے؟ زمین کے اس ٹکڑے پر بسنے والے لوگوں کے مابین مشترکہ زندگی گزارنے کے لئے طے پانے والے رسم و رواج اور ضابطوں کا مجموعہ؟ حقوق کیا ہیں؟ ان لوگوں کے مرضی سے زندگی گزارنے اور آزادی کا تحفظ؟ آزادی کیا ہے؟ اپنی مرضی سے زندگی گزارنا یا اپنی حرکتوں سے دوسروں کی زندگیاں اور آزادی متاثرکرنا اور اپنے وطن کے مفادات کےخلاف کام کرنا؟ وطن کے مفادات کیا ہیں؟ اس میں رہنے والے لوگوں کی آزادی، خوشحالی اور بہترین زندگی یا چند اداروں میں کام کرنے والوں کی مرضی؟ وطن کے مفادات کا محافظ کون ہے؟ اس میں جنم لینے والا ہر فرد یا بندوقیں اٹھائے اور شیروانیاں پہنے چند لاکھ لوگ؟ اگر وطن کے تمام افراد کو اس کے مفادات کا ادراک نہیں تو ان کو اس بارے میں آگاہی دینے کا فریضہ کس کا ہے؟ آزادی اظہارکے متوالوں کا، بندوق والوں کا، شیروانیاں پہن کر ووٹ بٹورنے والوں کا یا آزادی اظہار کے نام پر دشمن کے اشاروں پر شرانگیزی کرنے والوں کا؟ وطن اور اس کے افراد کے مفادات میں فرق کیا ہے؟ یہ فرق مٹانا کس نے ہے؟
یہ سب سوالات اور ان جیسے بہت سے مزید ان تمام افراد کی وطن سے عزیزیت کو مشکوک بنا دیتے ہیں جوحقوق، آزادی، تحفظ اور حب الوطنی کے راگ تو الاپتے ہیں لیکن ان کو یقینی بنانے کیلیئے کام نہیں کرتے۔
اگر اس ملک کا کوئی ادارہ یہاں بسنے والے تمام لوگوں کو محب الوطن دیکھنا چاہتا ہے تو اس کو ان تمام لوگوں کو اپنی مرضی سے زندگی گزارنے اور اس کے تحفظ کا حق بھی دینا چاہیئے۔ اسی طرح اگر کوئی گروہ آزادی اظہار اور افکار کا طالب ہے تو اس کو اس آزادی کے ساتھ مشروط زمہ داری کا ادراک بھی ہونا چاہیئے۔ اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ جو چاہے بولے اور جو چاہے کرے یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اس کا اس وطن کی سلامتی اور آزادی پر کیا اثر پڑے گا تو پھر وہ حقوق اور طاقت، چاہے وہ بندوق کی ہو یا قانون سازی کی ، کے مطالبے میں حق بجانب نہیں ہے۔
یہ رویہ سراسر غلط ہے کہ میں اپنے، اپنے کسی گروہ، تنظیم یا لسانی حسب نسب کی بناء پر آذادی اظہاراور آذادی افکار کا مطالبہ کرتے کرتے اس سرزمین اور اس پر رہنے والے لوگوں یا اس کے اداروں کو گالیاں دینا شروع کر دوں، اسی طرح یہ رویہ بھی غلط ہے حب الوطنی کا درس دیتے دیتے اتنی زبردستی شروع کر دوں کہ جو ہتھیار مجھے قوم نے دشمنوں سے نپٹنے کیلئے سونپے ہوں انہی سے اپنے ہی لوگوں کے ساتھ دشمنوں جیسا سلوک شروع کر دوں۔ ہمارے ہاں حقوق، آزادی اور حب الوطنی کی اسی جنگ نے اس مملکت کو اتنا کمزور کر دیا ہے کہ اب یہ کسی کو اس کا حق آسانی سے نہیں دے سکتی اور یہاں وہی کامیاب ہے جو اپنا حق چھین سکتا ہے۔
سابق وزیراعظم نواز شریف سے منسوب ڈان لیکس اور پھرممبئی حملوں سے متعلق مشہور زمانہ انٹرویو کے بعد ہماری ریاست کے منظرنامے پر چند انتہائی نمایاں بیانیئے رونما ہوئے ہیں اور بعض میں شدت آئی ہے۔ میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کیلئے ایک مشترکہ اتھارٹی کا قیام، آزادی اظہار کا حق، لسانی بنیادوں پر حقوق کا حصول، ففتھ جنریشن وار کے نام پر سائبر آزادیوں کو کنٹرول کرنے کی مہم، اور اب ایک تازہ ترین میثاق گورننس بیانیہ ۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہم سب لوگ جو اپنے اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھا رہے ہیں، ریگولیشن کا حق، اظہار کا حق، کنٹرول کا حق، حفاظت کا حق اور حکومت کا حق، ہم ان تمام حقوق کی روح سے کتنے موافق ہیں۔ کیا ہم ان حقوق کا حصول اجتماعی بہتری کیلئے چاہتے ہیں یا اپنی انفرادی اور طبقاتی بہتری کیلئے۔ اور اگر ہم اپنی جدوجہد میں مخلص ہیں تو اس کی کامیابی کیلئے لگائے جانے والے نعروں میں تاثیر کتنی ہے۔ کیونکہ اگر ہمارے نعروں میں تاثیر نہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے مطالبات روح سے مطابقت نہیں رکھتے۔ پھر ہم وطن کیلئے چاہے عزیزیت کا خطاب دیں یا کوئی اور، اس کی تاثیر ہمیشہ تشنہ کام ہی رہے گی۔

خرم شہزاد سینئر صحافی ہیں جو عرصہ دراز تک اسلام آباد سے بین الاقوامی خبر رساں ادارے کیلئے کام کرتے رہے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button