ریپ کے بعد قتل کی دھمکیاں

اسلام آباد میں ایک وکیل کی مبینہ جنسی درندگی کا نشانہ بننے والی قانون کی طالبہ س نے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ اسے قتل کئے جانے کی دھمکیاں مل رہی ہیں ۔

تھانہ رمنا میں ۲۷ جنوری کو درج کی گئی ایف آئی آر میں متاثرہ س ر نے الزام عائد کیا تھا کہ اس کے ساتھ اسد ہاشمی نامی وکیل نے اپنے چیمبر میں زیادتی کی ہے اور ریپ کرتے ہوئے اسے قتل کی دھمکیاں دیتا رہا ۔

مقدمے کے اندراج کے تین روز بعد متاثرہ لڑکی نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ملزم کا ماموں جاوید ہاشمی اسلامک یونیورسٹی میں پروفیسر ہے ۔

اسلامک انٹرنیشل یونیورسٹی اسلام آباد کی طالبہ نے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ مجھے ملزم اسد ہاشمی کا ماموں جاوید ہاشمی، جو کہ اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد میں پروفیسر ہے، دھمکی دے رہا کہ کورٹ میں بیان دو کہ میں رات کے اندھیرے میں ملزم کو پہچان نہ سکی، وہ اسد نہ تھا کوئی اور تھا ۔

ویڈیو بیان میں لڑکی نے کہا ہے کہ مجھے دھمکی دی گئی ہے کہ اپنا بیان بدل لو کورٹ میں ورنہ تمھیں کسی بھی روڈ پر گولی مار دیں گے ۔

مظلوم طالبہ نے چیف جسٹس سے انصاف کی اپیل کی ہے ۔

متعلقہ مضامین