طالبان رہنماؤں کا پاکستان آنے سے انکار

محمد ماجد جرال

پاکستان کے دورے اور اسلام آباد میں مذاکرات پر طالبان کے اہم رہنماؤں کے درمیان اختلاف سامنے آیا ہے ۔ طالبان – امریکہ مذاکرات سے منسلک سفارتی اور سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان نمائندے پاکستان نہیں آ رہے ۔

مذاکرات کی دعوت حکومت پاکستان نے دی تھی ۔ افغان طالبان نمائندوں نے مذاکرات کے بعد وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات کرنا تھی جس کی تصدیق افغان طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے جانب سے جاری اعلامیہ میں کی گئی تھی ۔


افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بیان میں کہا تھا کہ "جیسا کہ افغان طالبان اور امریکی حکومت کے درمیان مذاکراتی عمل جاری ہے جس کا گزشتہ دور دوہا قطر میں ہوچکا ہے اور طے شدہ معاہدے کے تحت آئندہ مذاکراتی دور 25 فروری کو دوبارہ قطر میں ہوگا، حکومت پاکستان کی درخواست پر فریقین کے مابین 18 فروری کو اسلام آباد میں اہم میٹنگ طے پائی ہے، جس کے بعد افغان طالبان کے نمائندے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات کریں گے۔”


افغان طالبان کے جاری کیے گئے اعلامیے کو سنجیدگی سے دیکھا گیا جس کے بعد اسلام آباد میں افغان طالبان اور امریکی حکام کے درمیان ہونے والی ملاقات کی پاکستان کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی تصدیق کی تھی ۔

اسلام آباد میں 14 فروری کو میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ "ملاقات گیم چینجر ثابت ہوگی، ملاقات افغانستان میں قیام امن میں مددگار ثابت ہوگی۔”

افغان طالبان کے بیان پر امریکی محکمہ خارجہ نے حیرت کا اظہار کیا تھا ۔ محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیدر نوئرٹ نے ردعمل میں کہا کہ "افغان طالبان کی طرف سے جاری اعلامیہ ہمارے علم میں آیا ہے، مگر امریکہ کو تاحال بات چیت کے لیے رسمی دعوت نامہ موصول نہیں ہوا۔”

صحافی حامد میر نے 2 فروری کو جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا حوالہ دے کر دعوی کیا تھا کہ افغان طالبان وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے لیے رضامند نہیں ہیں ۔


قبل ازیں رواں برس 19 جنوری کو ترکی کے اخبار Yani Safak نے بھی خبر شائع کی تھی کہ "افغان طالبان امریکی نمائندوں سے پاکستان میں ملاقات کے معاملے پر ہچکچاہٹ کا شکار ہیں، پاکستان افغان طالبان اور امریکی نمائندوں کے مابین پاکستان میں مذاکرات کی کوشش کر رہا ہے تاکہ افغان حکومت کو مذاکرات میں جگہ دی جا سکے۔”

اس سے قبل افغان طالبان کر ترجمان ذبیح اللہ مجاہد واشنگٹن کی جانب سے افغان حکومتی نمائندوں کو مذاکرات میں شامل کرنے کے مطالبے کو مسترد کرچکے ہیں۔
افغان طالبان کے ترجمان کی جانب سے واضح کیا گیا کہ ’قطر میں 25 فروری کو ہونے والے مذاکرات میں افغان حکومت یا کسی بھی اور ملک کا نمائندہ شریک نہیں ہو گا، مذاکرات براہراست افغان طالبان اور امریکی حکومت کے نمائندوں کے درمیان ہوں گے۔‘


ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان طالبان کے مابین اسلام آباد میں ہونے والی میٹنگ پر رائے منقسم ہوگئی تھی، امریکی حکام بھی بظاہر اس پر رضا مند نظر نہیں آ رہے تھے جس کے بعد باضابطہ اعلامیہ جاری کیے بغیر افغان طالبان کی جانب سے خبر جاری کی گئیں کہ اسلام آباد میں ہونے والے 18 فروری کو ملاقات منسوخ کر دی گئی ہے

اس سے قبل افغانستان کے سفارت کاروں نے بھی اسلام آباد کو اپنے اعتراض سے آگاہ کیا تھا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان اور امریکہ کے مابین مذاکرات قطر کے دارالحکومت دوحا میں ہی ہونے ہیں تاہم پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی خواہش تھی طالبان رہنما اور امریکی مذاکرات کار اسلام آباد کا بھی دورہ کریں ۔

سفارتی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی نمائندے اور طالبان مذاکرات کاروں کے مابین 18 فروری کو اسلام آباد میں ملاقات طے تھی جس کے بعد طالبان رہنماؤں کو وزیراعظم عمران خان نے کھانے پر بھی ملاقات کی دعوت دی تھی لیکن امریکی حکومت کے بیان اور طالبان رہنماؤں کے اندرونی اختلاف کے سبب یہ ملاقاتیں منسوخ کرنا پڑی ہیں ۔

ذرائع کا یہ بھی دعوی ہے کہ وزیراعظم عمران خان سعودی ولی عہد کے استقبال کے ساتھ اسی ہفتے طالبان رہنماؤں اور امریکی نمائندے سے ملاقات کر کے پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کا تاثر دینا چاہتے تھے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے