احتساب یا سیاسی ٹارگٹ کلنگ؟

عبدالجبارناصر
اسپیکر سندھ اسمبلی آغاسراج درانی کو قومی احتساب بیورو (نیب )نے اسلام آباد میں گرفتار کرکے کراچی منتقل کردیا ہے اور اس گرفتاری نے سیاسی فضا میں ہلچل پیدا کردی ہے ۔ آغا سراج درانی کی ممکنہ گرفتاری اور مختلف الزامات کے حوالے سے بازگشت تقریباً ایک سال سے تھی ،مگرایک سال کے دوران گرفتاری ہوئی اور نہ ہی اب گرفتاری میں مبینہ الزامات کا ذکر ہے۔ گرفتاری کے حوالے سے نیب کے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ’’ قومی احتساب بیورو کراچی نے نیب راولپنڈی اور نیب ہیڈکوارٹرز کے انٹیلی جنس ونگ کی معاونت سے آغا سراج درانی کو گرفتار کیا، ملزم پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے‘‘،جبکہ نیب نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ’’ آپریشن نیب کے چیئرمین کی نگرانی میں ہواہے‘‘۔احتساب عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے’’ آغا سراج درانی نے کہا کہ’ ’میں اسلام آباد میں ایک دعوت (شادی)پر آیا تھا اور مجھے گرفتار کرلیا گیا، گرفتاری کے بارے میں پہلے اطلاع نہیں دی گئی اور نہ ہی نیب دفتر بلایا گیا۔نیب کی طرف سے ایک پرفارما بھیجا گیا تھا جسے پُر کرکے واپس بھیج دیا تھا، عدالت میں اپنا کیس لڑوں گا، سب کو پتا ہے کہ کیا ہورہا ہے‘‘۔
حکومتی حلقے اس کو احتساب کا عمل قرار دے رہے ہیں ،جبکہ اپوزیشن اس کو سیاسی ٹارگٹ کلنگ قراردے رہی ہے۔ اس سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آغا سراج درانی کی گرفتاری مبینہ احتساب کا تسلسل ہے یا مبینہ سیاسی ٹارگٹ کلنگ کا ؟
آغا سراج درانی کی گرفتاری کی ٹائمنگ اور وزیر اعظم اوروفاقی کے وزراء کے بیانات کو مد نظر رکھا جائے تو صورتحال اتنی سادہ اور صاف نہیں ہے کہ یہ احتساب کا تسلسل ہے ۔ آغاسراج درانی کی گرفتاری کے لئے جو جواز پیش اور جس انداز میں گرفتاری ہوئی ہے یہ دونوں باتیں نہ صرف بچکانہ اور افسوسناک ہیں ۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’آمدن سے زیادہ اثاثوں ‘‘ کا نیب کے پاس ایک ایسا ہتھیار ہے جو اگر استعمال کیا جائے تو کوئی شخص نہیں بچ پائے گااور یہ بات درست معلوم ہوتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھاکہ اتنی بڑی گرفتاری کے لئے کوئی واضح الزام ہوتا مگر نیب نے حسب معمول وہی حرکت کی جس سے اداروں کی سبکی ہو۔ آغا سراج درانی سندھ کے سب سے بڑے عوامی فورم سندھ اسمبلی کے اسپیکر ہیں اور وہ سندھ میں ہی رہتے ہیں ، ان پر الزامات بھی سندھ میں ہیں ، آغا سراج درانی نے کوئی روپوشی اختیار نہیں کی تھی وہ آزادانہ روز اپنے دفتر آتے اور گھر جاتے تھے ۔ آخر کیا طوفان آیا تھا یا مجبوری یا دبائوتھا کہ دودن کے لئے آئے ہوئے مہمان کو اسلام آباد میں ’’قید‘‘کرکے کراچی لایا جائے ؟ اور نیب کے چیئرمین کو خود ہنگامی آپریشن کی نگرانی کرنی پڑی ۔ نیب کا یہ عمل نہ صرف سوالیہ نشان بلکہ صوبوں کے مابین نفرت کو پروان چڑھانے کی دانستہ یا غیر دانستہ کوشش ہے۔
بات الزامات کی ہے تو کیا وزیر اعظم عمران خان ، وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک ، خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی، پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چودھری پرویز الٰہی اورتحریک انصاف کے متعدد وفاقی و صوبائی وزراء اور رہنمائوں پر نہیں ہیں ؟ ان کو گرفتار کیوں نہیں کیا جاتا ہے ؟ایک طرف حکومت کہتی ہے نیب خود مختار ادارہ ہے اور دوسری جانب وزیر اعظم سمیت مختلف حکومتی ذمہ داران ’’نہ چھوڑنے ‘‘کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور پہلے سے بتاتے ہیں کب اور کس کا نمبر ہے اور یہ بھی اب کون کون ٹارگٹ ہیں۔
آغاسراج درانی کی گرفتاری کے حوالے سے پیپلزپارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ماہ سے ان پر شدید دبائو تھا اور اس کا اظہار کئی بار سندھ اسمبلی میں آغا سراج درانی خود بھی اشارتاً کرچکے ہیں کہ ’’ہم جیلوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں‘‘۔جس سے یہ اندازہ ہوتا تھا کہ کوئی تو کہانی ہے ۔ بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ چند ہفتے قبل تحریک انصاف نے سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ختم کرنے کے لئے جو ہلجل کی تھی اس کی کامیابی میں اسپیکر آغا سراج درانی رکاوٹ بننے والوں میں سر فہرست تھے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن بالخصوص تحریک انصاف نے 9 جنوری سے جاری سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکر کے خلاف سخت رویہ اختیار کیا اور اکثر اوقات اجلاس ہنگامے کی نظر ہوا۔سندھ میں تحریک انصاف کے کئی رہنماء اور ارکان سندھ اسمبلی سندھ میں تبدیلی اور پیپلزپارٹی کے حوالے سے’’مارچ ‘‘ کو اہم قراردیتے رہے ہیں۔
حکومت اور نیب دونوں کو یہ یاد رکھنا ہوگا کہ آغا سراج درانی کی گرفتاری کے دوران جس طرح سندھ اسمبلی کے قوائد وضوابط کار کو پامال اور غیرضروری طور پر گرفتاری کے لئے سندھ کی بجائے اسلام آباد کا انتخاب کیا ہے اس کے عوامی حلقوں میں منفی اثرات مرتب ہونگے اور عوام میں منفی پیغام جائے گا۔اس لئے بھی کہ دو روز قبل آصف علی زرداری اور ان کے ساتھیوں کے مقدمات کی سماعت اسلام آباد کی بجائے سندھ میں کرانے کی اپیل مسترد ہونے کے بعد بعض حلقوں میں بازگشت ہے کہ ’’اپوزیشن اور حکومتی افراد کے ساتھ یکساں نہیں بلکہ اپوزیشن کے ساتھ امتیازی سلوک ہے‘‘۔
آغاسراج درانی کی گرفتاری آصف علی زرداری ، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور فریال ٹالپور سمیت ایک درجن سے زائد پیپلزپارٹی رہنماء ، ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور صوبائی وزراء کے لئے ریہرسل ہے تو کم سے کم سندھ میں اس کے نتائج مثبت نہیں ہونگے ۔ کسی بھی گرفتاری کے لئے ٹھوس ثبوت ہونے چاہئے اور نیب کے اقدام سے ’’ احتساب کی بجائے سیاسی ٹارگٹ کلنگ ‘‘کا جو تاثر گہرا ہوتا جا رہا ہے اس کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین