کامیابی مبارک

اظہر سید
موجودہ دنیا معیشت کی دنیا ہے ۔ بھارت ایک ارب صارفین کی منڈی ہے دنیا ان صارفین کی طرف للچائی نظروں سے دیکھتی ہے ۔یہاں کوئی اسلامی امہ نہیں صرف مارکیٹ ہے ۔بھارتی وزیرخارجہ اسلامی کانفرنس تنظیم کے اجلاس میں دھڑلے کے ساتھ جھوٹ بول رہی تھی ۔
پاکستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہہ رہی تھی "دنیا کو دہشت گردی کی حمائت کرنے والی ریاستوں کے خلاف متحد ہونا چاہے” ۔ اسلامی ممالک کے مندوب ڈیسک بجا کر اس بھارتی وزیر خارجہ کی تحسین کر رہے تھے جنہوں نے افغانستان کو ٹھکانا بنا کر اپنی پراکسیوں کے ذریعے پاکستان کو آگ اور خون میں نہلا دیا ۔سقوط ڈھاکہ کے روز آرمی پبلک سکول میں دہشت گردی کرنے والے دہشت گرد بھارتیوں کی پراکسی تھے ۔ جی ایچ کیو پر ہی حملہ نہیں ہوا 70 ہزار پاکستانی بھی شہید ہوئے تھے اور دہشت گردی کا الزام بھی پاکستان پر ۔
بھارت 70 سال سے نہتے کشمیریوں کو شہید کر رہا ہے لیکن اس کی مضبوط معیشت نے دنیا کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے اور پاکستان کی کمزور معیشت نے اس کے سچ کو جھوٹ بنا رکھا ہے ۔اسلامی کانفرنس تنظیم کی بنیاد 1969 میں رکھی گئی لیکن اس کو اصل طاقت سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو جنہیں مرد مومن مرد حق نے عدالتی قتل کے ذریعے راستے سے ہٹا دیا نے دی تھی ۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد لاہور میں منعقدہ اجلاس میں شاہ فیصل ،کرنل قذافی اور بھٹو اس تنظیم کے نہیں بلکہ عالم اسلام کے راہنما کی صورت میں سامنے آئے تھے جنہیں ایک ایک کر کے راستے سے ہٹا دیا گیا ۔
پاکستان کے احتجاج کے باوجود تنظیم نے بھارتی وزیر خارجہ کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی عدم شرکت کی پاکستانی دھمکی کو بھی حقارت سے مسترد کر دیا ۔
آج ان منصوبہ سازوں کو مبارک باد دینی چاہئے جنہوں نے ٹیک آف کی پوزیشن میں آئی پاکستانی معیشت کو اس طرح برباد کروا دیا ہے ادائیگیوں کے توازن کیلئے در در بھیک مانگنا پڑ رہی ہے ۔ان منصوبہ سازوں کو سلام جنہوں نے اپنے حلف سے انحراف کیا اور سیاسی امور میں مداخلت کی ۔اداروں کا ستیا ناس ہی نہیں ہوا تباہ حال معیشت کی وجہ سے بھارتی پاکستان پر محدود جنگ مسلط کرنے کی سازش رچانے لگے ہیں ۔
آج بھارت کو جنگ سے روکنے کیلئے قومی عزت ،وقار اور غیرت کا ہی سودا نہیں کیا بھارتی وزیراعظم سے ایک ٹیلی فون کال کی بھیک مانگی جا رہی ہے اور وہ اس قدر خبیث ہیں اپنے پائلٹ کی رہائی کے ساتھ ہی لائین آف کنٹرول پر خوفناک گولہ باری کا آغاز کر دیا ۔
منصوبہ سازوں نے میاں نواز شریف کو مودی کا یار قرار دے کر اور کرپشن کے الزامات لگا کر پاکستان کی ٹیک آف کی پوزیشن میں آئی معیشت کا بھٹہ بٹھا دیا ۔مودی کے یار کو نہ جانے "ناقابل شکست نہ ہوجائے” کے خوف سے فارغ کرایا ہے یا جمہوریت کے استحکام کے خوف سے یا پناما ڈرامے کے پیچھے اصل میں وہ کھیل تھا جو آج لائین آف کنٹرول اور بھارت کی طرف سے پاکستان پر محدود جنگ مسلط کرنے کی سازش کی صورت میں کھیلا جا رہا ہے ۔
ڈان لیکس میں مولانا مسعود اظہر اور حافظ سعید کو پاکستان کے اثاثوں کے بجائے بوجھ قرار دیا گیا تھا کیا طوفان اٹھایا گیا اور اب کس معصومیت سے دونوں عظیم بزرگوں کے مدارس کو سرکاری تحویل میں لے لیا گیا ہے کیا کبھی اس کا بھی حساب ہو گا ؟۔ بھارتی پاکستان کا ٹھٹا اڑا رہے ہیں ۔اسلامی ممالک کی تنظیم کے اجلاس میں پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگا رہے ہیں اور عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت اسلامی کانفرنس تنظیم کے اجلاس سے باہر ہو گئی ہے ۔
ان منصوبہ سازوں کیلئے ایک زور دار سلوٹ تو بنتا ہے جنکی مہارتوں کی وجہ سے آج یہ دن دیکھنا نصیب ہوئے ہیں ۔دنیا میں ایک ہی دوست تھا جو حقیقی سپر پاور بھی ہے اس دوست نے اس وقت پاکستان میں 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جب یہاں روز خود کش دھماکے ہوتے تھے ۔چین کے سفیر نے لاہور میں پہلی مرتبہ زبان کھولی اور منصوبہ سازوں کی پالسیوں پر تنقید کی لیکن افسوس حب الوطنی کے پہاڑوں نے چین کے تحفظات پر بھی توجہ نہیں دی ۔آج گلیاں سنجیاں ہیں اور 200 ارب ڈالر والا مرزا یار ملک کا تماشا بنا رہا ہے ۔
بھارتی پاکستان کی امن کی.خواہش سے ہرگز متاثر نہیں ہونگے انہیں خوف زدہ کر کے ہی جنگ سے روکا جا سکتا ہے ۔پاکستان کے پاس کھونے کیلئے کچھ نہیں بھارتیوں کے پاس تیزی سے ابھرتی معیشت،سپر پاور اور سلامتی۔کونسل کا مستقل رکن بننے کا خواب ہے ۔بھارتیوں کا یہ خواب توڑنے کے اقدامات کئے جائیں تو وہ باز آئیں گے ۔
پاکستان کے پاس دنیا کی بہترین تجربہ کار فوج ہے ۔جدید ترین ہتھیار ہیں اور پراکسیوں کی لڑائی لڑنے کا 40 سالہ تجربہ بھی ۔بھارتی اگر باز نہیں آتے انکی معیشت کو نشانہ بنایا جائے ۔بھارتیوں کی غلط فہمی دور کی جائے ایٹمی جنگ کا خطرہ بلف نہیں بلکہ حقیقی ہے یہ پیغام اگر عالمی سرمایہ کاروں کو چلا گیا تو بھارتی بلبلاتے ہوئے خود امن مذاکرات کریں گے ۔بھارتی کو حقیقی خطرہ کا احساس کیسے دلانا ہے منصوبہ ساز کم از کم اس میں مہارت ضرور رکھتے ہیں خارجہ پالیسی کے مالک ہوتے ہوئے بھی بھلے اس میں مہارت نہ رکھتے ہوں ۔

متعلقہ مضامین