الیکشن کمیشن اور خواتین کا عالمی دن

عمار مسعود
خواتین کے عالمی دن پر جہاں سارے ملک میں تقریبات کا سلسلہ جاری تھا وہاں ایک تقریب کا د عوت نامہ ہمیں بھی موصول ہو گیا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی اڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نگہت صدیقی جو ایک نہائت محنتی اورذمہ دار آفیسر ہیں ان کا فرمانا تھا کہ اس موقعے پر ایک سیمنار الیکشن کمیشن میں ہونا قرار پایا ہے اور اس میں آپ کی شمولیت لازم ہے۔
Gender and Disability Electoral Working Group (GDEWG)
کے حوالے سے ہونے والے اس سیمنار کے موقع پر الیکشن کمیشن کا ہال کچھا کھچ بھرا ہوا تھا۔ صحافی، سول سوسائٹی کے نمائندے ، خواجہ سراوں کی تنظیموں کے سرگرم ارکان، معذور افراد کی تنظیمیں، ڈی اے آئی تعبیرکی انتظامیہ ، معروف صحافی ،نادرا کے نمائندے، غیر ملکی مندوب ، خواتین کے حقوق کی جنگ لڑنے والی پرعزم خواتین بڑے ولولے سے اس سیمنار میں شرکت کے لیئے موجود تھیں۔ اس سیمنار کی صدارات چیف الیکشن کمشنر جناب سردار محمد رضا خان نے کی، سیکرٹری الیکشن کمیشن اور الیکشن کمیشن کے معزز ممبران بھی اس موقعے پر موجود تھے۔ سیمنار ہال میں چھائی سنجیدگی اس بات کا ثبوت تھی کہ یہاں بات سنجیدگی سے ہو گی۔ نیشنل کمیشن آن سٹیٹس آف وویمن کی سیکرٹری ثمینہ حسن صاحبہ نے ایک پریزینٹیشن میں اپنے مطالبات پیش کیئے ۔ اس مختصر مگر جامع پریزنٹیشن میں قریبا قریبا ان تمام نکات کا ذکر ہوا جو خواتین کو درپیش ہیں ۔ اپنی گفتگو میں ثمینہ حسن صاحبہ نے ان تجاویز کا بھی ذکر کیا جن کی مدد سے خواتین کی الیکشن کے عمل میں شرکت کو بہتر اور فعال بنایا جا سکتا ہے۔
پاکستان کی نصف آبادی الیکشن کے حقوق کے حوالے سے جن مشکلات سے دوچار ہے اس کے حوالے سے یہ سیمنار خصوصی حیثیت کا حامل تھا۔ بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں خواتین کے ووٹ ڈالنے پر ابھی بھی قدغنیں ہیں۔ کہں شناختی کارڈ کی رسائی ممکن نہیں۔ کہیں خواتین کے لیئے پولنگ کی سہولت ہی میسر نہیں۔ کہیں مرد آبادی فیصلہ کر بیٹھتی ہے کہ خواتین ووٹ نہیں ڈالیں گی۔ کہیں خواتین امیداور کو انتخابی مہم چلانے کی سہولت میسر نہیں۔ کہیں خوف ہے کہیں ہراس ہے۔ کہیں سیاسی جماعتوں کی بے اعتنائی ہے، کہیں سسٹم ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ کہیں دیگر عوامل الیکشن کے عمل میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ اس طرح ملک کی نصف آبادی الیکشن کے عمل میں اس طرح شریک ہونے سے قاصر رہتی ہے جس طرح کی شرکت جموری معاشرہ تقاضا کرتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ خواجہ سراوں کے لیئے علیحدہ پولنگ بوتھ نہیں ہیں۔ انکے لیئے الیکشن میں کھڑا ہونا بھی اتنا سہل نہیں ہے۔ تضحیک اور تمسخر کی روایتوں سے کس طرح جان چھڑا کر ان کو معاشرے میں باعزت مقام دیا جائے۔ ان کے جمہوری حقوق کا تحفظ کیا جائے۔
اس حوالے سے معذور افراد کی صورت حال بہت مخدوش ہے۔ انکے درست اعداد و شمار ہی موجود نہیں ہے۔ بے شمار ایسے ہیں جن کو شناختی کارڈ میسر نہیں ہے۔ کچھ ایسے ہیں جن کے پاس وہیل چیئر کے نشان والا نیا شناختی کارڈ ہی نہیں۔ بہت سارے لوگوں کو پولنگ سٹیشن تک رسائی کی سہولت میسر نہیں ہے۔ سیمنار میں معذور افراد کے لیئے پوسٹل بیلٹ کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ اس سے صورت حال میں بہتری ممکن ہے۔ لیکن اگر پوسٹل بیلٹ پر اتفاق رائے نہ ہوسکا تو
الیکشن کمیشن کو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ انکے ووٹ کے حصول کو کس طرح یقینی بنایا جائے۔ معذور افراد کو پولنگ اسٹیشن تک لے جانے کے لئے کیا ٹرانسپورٹ موجود ہے؟
کیا نابینا افراد کے لئے بریل میں بیلٹ پیپر شائع کیا گئے ہیں؟ کتنے معذور افراد کے شناختی کارڈ بنے ہیں اور کتنے لوگ اس دور میں بھی اس سہولت سے محروم ہیں؟ کیا معذور افراد کے ساتھ کسی مددگار کو پولنگ بوتھ میں جانے کی اجازت ہو گی؟ کیا پولنگ کا عملہ معذور افراد کی مدد کرنے کو تیار ہو گا؟ کیا اس سلسلے میں پولنگ کے عملے کو کسی بھی قسم کی ٹریننگ دی گئی ؟کیا تمام پولنگ بوتھ میں وہیل چیئر پہنچنے کا انتظام کیا گیا ہے؟ کیا قوت سماعت و گویائی سے محروم افراد کے لئے ووٹ ڈالنے کا طریقہ سائن لینگویج میں دستیاب ہے؟ ذہنی معذور افراد کے لئے الیکشن کمیشن کا کیا حکم ہے؟ کیا سیکورٹی اسٹاف کو یہ پتہ ہے کہ نابینا افراد کی سفید چھڑی ہتھیار کے زمرے میں نہیں آتی؟ کیا کسی چینل پر قوت سماعت و گویائی سے محروم افراد کے لئے اشاروں کی زبان میں نتائج بتانے کا انتظام کیا گیا ہے؟
سیمنار میں چیف الیکشن کمیشنر جناب سردار محمد رضا خان نے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ الیکشن کمیشن تمام خواتین اور پسماندہ گروپس کو الیکشن کے عمل میں شریک کرنے کے لیئے سر گرام عمل ہے اور خواتین ووٹرز کی تعداد میں اضافے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔
سچی بات تو یہ کہ الیکشن کمیشن سے ہمارا پرانا ناطہ ہے۔ ہر دفعہ الیکشن سے پہلے بہت بلند و بانگ دعوے کیئے جاتے ہیں۔ خواتین کے حقوق کے نعرے لگائے جاتے ہیں۔ معاشرے کے پسماندہ طبقوں کو جمہوری دھارے میں لانے کا عزم کیا جاتا ہے۔ معذور افراد کے ووٹ کاسٹ کروانے کے لیئے تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے مگر نتیجہ عموما صفر رہتا ہے۔جو چیز اس دفعہ منفرد ہے وہ یہ ہے کہ اس دفعہ اس بات پر نہ صرف تحقیق کی جاری ہے بلکہ ان طبقات سے مشورہ بھی لیا جا رہاہے۔ ان کے نمائندوں کو تکریم بھی دی جا رہی۔ ان کی بات کو احترام دیا جا رہا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے جس عزم کا اظہار کیا ہے اور جس دلچسپی سے اس تمام گفتگو کو سنا ہے اس سے خوش آئند کل کی امید رکھنی چاہیئے۔ توقع رکھنی چاہیئے کہ اب جب الیکشن ہوں گے تو خواتین کو انکے جمہوری حق سے روکنے میں بیشتر روکاوٹیں ختم ہو چکی ہو نگیں۔ معاشرے کے پسماندہ طبقوں کو ان کاجمہوری حق ملے گا۔ معذور افرد کے ووٹ ڈالنے میں کوئی روکاوٹ حائل نہیں ہو گی۔ خواجہ سراوں کے اس جمہوری حق کا تمسخر نہیں اڑایا جائے گا۔
اس ملک کے جمہوری نظام میں ووٹر کو اپنی بات منوانے کا صرف ایک موقعہ ملتا ہے۔ اس جمہوری موقعے کو ہم الیکشن کا نام دیتے ہیں۔ اس جمہوری عمل میں شرکت کا حق ہر پاکستانی کو ہے۔ اس عمل سے محرومی آئین کے منافی ہے۔ الیکشن کمیشن کو اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہر شخص آذادانہ طور اپنے جمہوری حق کا استعمال کرے۔ اپنے ووٹ کے ذریعے اپنی پسند اور نا پسند کا اظہار کرے۔ اپنے نمائندے کو منتخب کرے۔ اپنے وجود کے ہونے کا ووٹ کے ذریعے یقین دلائے۔
ہر الیکشن میں بہت سے پاکستانی بے پناہ روکاوٹوں کی وجہ سے اس جمہوری حق سے محروم رہتے ہیں۔ ان محروموں میں سے زیادہ تر تعداد خواتین کی ہوتی ہے۔ ان کے ووٹ کو یقینی بنانا الیکشن کمیشن کا فرض ہے۔ جو گفتگو اس سیمنار میں ہوئی ، جو تجاویز سامنے آئیں، جن طبقات کو اس سیمنار میں بہت احترام سے نمائندگی ملی اگر اسی طرح ان کی نمائندگی انتخابات کے موقع پر ہوئی تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کا جمہوری مستقبل بہت روشن ہے۔
خواب دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اس وقت یہ گفتگو خواب سی لگتی ہے۔ لیکن خواب کی تعبیر کے لیئے اگر اسی تندہی سے الیکشن کمیشن کام کرتا ہے تو امید کرنی چاہیئے کہ اس دفعہ کے انتخابات میں خواتین کی شرکت پہلے سے بہت زیادہ ہوگی۔ جو کہ کسی بھی معاشرے کے لیئے ایک نہائت خوش آئند بات ہے۔ فی الوقت الیکشن کمیشن کے جذبے کی تعریف کرنا بنتا ہے۔ اس سیمنار میں ہونے والی نصف تجاویز پر بھی اگر عمل درآمد ہو گیا تو یہ پاکستان میں ایک بہت بڑا جمہوری انقلاب ہو گا۔

متعلقہ مضامین