کشمیری اخبارات کا احتجاج

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر سے شائع ہونے والے اخبارات نے نریندر مودی حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے صفحہ اول کو خالی شائع کیا ہے ۔

اتوار کو سرینگر اور دیگر شہروں سے شائع ہونے والے کشمیری اخبارات کے صفحہ اول پر کوئی بھی خبر شائع نہیں کی گئی ۔ اخبارات نے فرنٹ پیج کے درمیان میں ایک چھوٹا سا پیغام لکھا ہے کہ ’یہ فیصلہ کشمیر ایڈیٹرز گلڈ کی جانب سے روزنامہ گریٹر کشمیر اور روزنامہ کشمیر ریڈر کو اشتہارات نہ دینے پر کیا گیا ہے۔‘

ایڈیٹرز گلڈ کے پیغام کے مطابق حکومت کی جانب سے ان دو اخبارات کو اشتہارات نہ دینے اور اس کی وجہ نہ بتانے کے خلاف احتجاج کے طور پر صفحہ اول کو خالی چھوڑا جا رہا ہے ۔

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں سینکڑوں اخبارات شائع ہوتے ہیں تاہم زیادہ پڑھے جانے والے اخبارات میں گریٹر کشمیر شامل ہے جس کو حکومت سرکاری اشتہارات جاری نہیں کر رہی ۔

خیال رہے کہ انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں اخبارات اپنی اشاعت کے لیے سرکاری اشتہارات پر انحصار کرتے ہیں ۔

کشمیری اخبارات نے اپنے اداریوں میں لکھا ہے کہ اشتہارات بندش میڈیا کو خاموش کرنے کا ایک طریقہ ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے