پاکستان کا ایٹمی بلف

پاکستان کا ایٹمی بلف اپنی جگہ برقرار ہے جبکہ بھارت کا روایتی جنگ میں سبقت کا بلف دنیا کے سامنے ننگا ہو گیا ہے ۔ بھارتیوں نے پاکستان پر رات کی تاریکی میں ناکام حملہ کیا اور پاکستانیوں نے دن کی روشنی میں جس طرح جواب دیا اس نے بھارتیوں کی روائتی ہتھیاروں میں سبقت کا تماشا بنا دیا ہے بھارتیوں نے پاکستانیوں کے جوابی حملے کا جواب نہیں دیا اور پاکستانیوں نے للکار کر دن کے اجالےمیں معنی خیز حملہ کیا جس میں جنگی اہداف سے چند فٹ کے فاصلے پر میزائل مارے گئے اور بمباری کی گئی ۔پاکستانیوں نے بھارتیوں کو پیغام دیا تمہارہ بالا کوٹ میں نشانہ چوک گیا تھا اور ہم تمہیں نشانے پر لے کر بھی چھوڑ رہے ہیں ۔پاکستانیوں نے بھارتی فضائیہ کو نو خیز حسینہ کی طرح ورغلایا اور اپنے پیچھے لگا کر اپنے علاقے میں لے آئے مار گرایا اور گرفتار پائلٹ جذبہ خیر سگالی کے طور پر بھارت کے حوالہ کر دیا ۔
بالا کوٹ پر بھارتی حملہ ایک مکمل ناکام داستان ہے جو خفیہ اطلاعات ،آپریشن اور نتایج کے حوالہ سے بھارتی فوجی اور انتہا پسند ہندو سیاسی قیادت دونوں کیلئے ڈوب مرنے کا مقام ہے ۔ اس حملہ میں جدید ترین میراج 2000 استمال کئے گئے جن میں اسرائیل کے سمارٹ آئی لیزر گائیڈڈ میزائل نصب تھے یہ مہنگے ترین میزائل اسقدر جدید ٹیکنالوجی کے حامل ہیں ہدف کو سو فیصد درستگی کے ساتھ نشانہ بنا سکتے ہیں ۔امریکی فضائیہ انہیں افغانستان، عراق اور شام میں کامیابی کے ساتھ استمال کر چکی ہے لیکن بالا کوٹ میں یہ میزائل ہدف تلاش نہیں کر سکے اور صرف جنگل میں لینڈ کرنے پر اکتفا کیا ۔
ہم نے دفاعی معاملات کے متعدد ماہرین کے اسرائیلی سمارٹ آئی میزائیلوں کی بالا کوٹ میں ناکامی کے متعلق آرٹیکل دیکھے ہیں بیشتر کا خیال ہے میراج طیاروں پر نصب میزائل ہدف سے 60 کلو میٹر دور سے سو فیصد درست نشانہ لگا سکتے ہیں ۔بھارت نے اپنے جو بہترین طیارے اور پائلٹ استمال کئے وہ بالا کوٹ کی فضاؤں میں پہنچے ہی نہیں ۔لائین آف کنٹرول سے بالا کوٹ کا فاصلہ 90 کلو میٹر ہے بھارتی طیارے یقینی طور پر صرف 25 یا 30 کلو میٹر اندر آئے پاکستانی ائر فورس کے چیلنج سے بچنے کی کوشش میں عجلت میں اپنا پے لوڈ گرا کر محفوظ نکل گئے اور ساتھ ہی اسرائیلیوں کے سمارٹ آئی میزائل کی عالمی مارکیٹ بھی برباد کر گئے ۔
بھارتی دہشت گردوں کے تربیتی کیمپ کی تباہی اور تین سو دہشت گردوں کی ہلاکت کے کوئی شواہد پیش نہیں کر سکے ۔ اسرائیلی سمارٹ آئی میزائلوں کا ہدف بنے علاقے کے سیٹلائٹ امیج بھی بھارتی دعووں کی نفی کرتے ہیں ۔ بھارتیوں کی جو عالمی رسوائی ہو چکی ہے نئے آئے ائر چیف کو یہ کہنا پڑا "ہم ہدف کو نشانہ بناتے ہیں نقصان کتنا ہوا یہ نہیں گنتے” جبکہ بالا کوٹ حملے کے دس گھنٹے بعد بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے "300 دہشت گردوں” کی ہلاکت کا دعوی کیا تھا ۔
بھارتی 2016 کی سرجیکل سٹرائیک کے دعوے کے بعد سے پوری دنیا کے سامنے اور عام بھارتیوں کے سامنے خاص طور پر بدمعاش بنے ہوئے تھے ۔پاکستان کو کمزور اور حقیر ترین حریف ظاہر کرنے میں مسلسل مصروف تھے ۔بھارتیوں کا تصور تھا سرجیکل سٹرائیک کے دعوے کی طرح بالا کوٹ سٹرائیک بھی پاکستان خالی پیٹوں پی جائے گا ۔ پاکستانی جنرل نواز شریف آپریشن کے نتیجہ میں ہونے والی بدنامی اور تیزی سے تباہ ہوتی معیشت کی وجہ سے جوابی کاروائی نہیں کریں گے اورمحدود جنگ کے خدشات کی وجہ سے چپکے بیٹھے رہیں گے لیکن پاکستانیوں نے بھرپور جوابی کاروائی سے گیند بھارتیوں کی کورٹ میں پھینک دی "ہم جنگ کیلئے تیار ہیں کیا تم بھی تیار ہو؟”
بھارتیوں نے اپنے مگ 21 کی تباہی پائلٹ کی گرفتاری پاکستانیوں کی طرف سے لائین آف کنٹرول کے پار چھ اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کو”ایکٹ آف وار” تو کہا لیکن جوابی کاروائی نہیں کی ۔بھارتیوں نے پاکستان کی سبقت ہی تسلیم نہیں کی یہ بھی ظاہر کر دیا بھارتی جنگ نہیں چاہتے نہ محدود نہ مکمل ۔
بھارتی الیکشن کے شیڈول کا اعلان ہو چکا ہے ۔شیو سینا جس کی کوکھ سے بی جے پی نے جنم لیا کے سربراہ نے صرف پلوامہ حملہ نہیں پٹھانکوٹ دہشت گردی کے واقعہ کی صداقت پر بھی سوال اٹھا دیا ہے ۔بھارت ایک بڑی جمہوریت ہے وہاں کی سیاسی جماعتوں نے سرجیکل سٹرائیک پر بھی سوالات اٹھائے تھے اور پلوامہ حملہ پر بھی اب استفسارات کئے جا رہے ہیں ۔فرانسی ساختہ رافیل طیاروں کا ریکارڈ بھی جل چکا ہے ۔بھارتی فوج کیلئے الیکشن سے قبل پاکستان میں دوبارہ کوئی ایڈونچر کرنا ممکن نظر نہیں آتا ۔ روائیتی ہتھیاروں میں بھارتیوں کا خوف محض ایک بلف تھا جو بالا کوٹ حملے اور پاکستان کی جوابی کاروائی سے عریاں ہو گیا ہے ۔
ہمارا خیال ہے بھارتی آبدوز جو پاکستانی پانیوں میں تلاش کر لی گئی تھی مگ 21 کی طرح تباہ کر دی جاتی ۔بھارتی فصائیہ 60 کی دہائی کے مگ 21 ،80 کی دہائی کے میراج اور 90 کی دہائی کے سخوئی ایس یو 30 پر مشتمل ہے ۔پے اے ایف کو ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ اہلیت میں ہمیشہ بھارتیوں پر سبقت حاصل رہی ہے ۔کارگل اور موجودہ لڑائی میں بھارتی طیارے کبوتروں کی طرح گرائے گئے ۔مستقبل قریب میں بھارتی اپنی ائر فورس کے ذریعے ایڈونچر نہیں کریں گے یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے ۔
بھارتی زمینی فوج کی طرف سے ایڈونچر ممکن نہیں کہ اس میں سبقت کیلئے مکمل اور بھرپور جنگ کا خطرہ مول لینا پڑے گا ۔ بنیا سلامتی کونسل میں مستقل نشست ،تیزی سے ترقی کرتی معیشت اور عالمی طاقت بننے کا خواب داو پر نہیں لگائے گا ۔
بھارتیوں نے اپنی بحریہ پر بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے یہاں بھارتیوں کو سبقت کی خوش فہمی ہے ، بھارتی آبدوز تباہ کر دی جاتی بھارتی بحریہ کی خوش فہمی بھی دور ہو جاتی ۔پاکستان کے ایٹمی طاقت ہونے کا خوف اور میزائل ٹیکنالوجی میں سبقت بھارتیوں کو اپنی آبدوز کی تباہی اسی طرح ہضم کرنے پر مجبور کرتی جس طرح وہ خاموشی سے پاکستان کے جوابی حملے اور اپنے طیاروں کی تباہی پی گئے ہیں ۔
پاکستانی جنرلوں نے نواز شریف آپریشن سے بدنامی کمائی ہے ملکی معیشت تباہی کے دھانے پر پہنچ گئی ہے ۔وزیراعظم سلیکٹ سے بھارتی پائلٹ کی رہائی کا جس طرح فیصلہ کرایا گیا ہے کاش حکمت ساز قومی اتفاق رائے کیلئے بھی اقدامات کریں تاکہ بھارتیوں کو مسلہ کشمیر پر مجبور کیا جا سکے ورنہ تو بھارتی اب سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کا پانی بند کرنے کیلئے عملی اقدامات کرنے لگے ہیں ۔

متعلقہ مضامین