انڈین فوجی ٹوپیاں اور محمد حفیظ

پاکستان میں کرکٹ کی واپسی کو چار سال پہلے دیوانے کا خواب سمجھنے والے آج حیرت کا شکار ہیں۔ سابق پی سی بی چئیرمین نجم سیٹھی کو موجودہ حکومت کریڈیٹ دے نہ دے لیکن یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔

پی ایس ایل سیزن فور کے میچز کا انعقاد کراچی میں ہونا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ گزشتہ حکومت کی کارکردگی مثالی رہی اور آج ملک میں امن کی جو بہار ہے اس میں پاکستان آرمی کے ساتھ سابق حکومت نے بہت محنت کی۔

خیر چلیں یہ تو ہو گئی بات پی ایس ایل کے حوالے سے ایسے میں کچھ پاکستانی کھلاڑی جو پی ایس ایل کے باوجود بھی کوئی خاطر خواہ توجہ نہ حاصل کر سکے انھوں نے اوچھے ہتھکنڈے اپنا کر اپنا الو سیدھا کرنے کی بھرپور کوشش کی ۔ ان ہی میں ایک موصوف ہمارے پروفیسر صاحب ہیں جن کی اپنی کارکردگی تو عموما صفر ہی ہوتی ہے لیکن وہ پوری ٹیم کو اکثر نصیحتیں کرتے پائے جاتے ہیں تو جناب کو سونپی گئی ایک مشکل ذمہ داری اور وہ تھی لاہور قلندر کی کپتانی، پہلے میچ میں کارکردگی کوئی خاطر خواہ نہ تھی اور اس پر شو مئی قسمت کے جناب زخمی ہو کر ٹیم سے باہر ہوگئے اب ایسے میں خبروں میں رہنے کے لیے آسان طریقہ بھارت اور پاکستان کی کشیدگی والی گنگا میں ہاتھ دھونا ہی بنتا تھا۔

یہاں اس بات کا خلاصہ کرنے سے قبل آپ کو یہ بتا دوں کہ آسٹریلیا اور بھارت کے مابین رانچی میچ میں انڈیا نے آئی سی سی سے باقاعدہ اجازت لے کر پلواما حملے میں مرنے والے فوجیوں کے خاندان کے لیے چیریٹی میچ (حالانکہ میچ کا باقاعدہ آفیشل سٹیٹس تھا) میں فوجی ٹوپیاں پہنی، بھارتی ٹیم کے سابق کپتان مہندرہ سنگھ دھونی جو کہ اعزازی طور پر فوج کے لفیٹینٹ کرنل بھی ہیں نے تمام کھلاڑیوں کو فوجی ٹوپیاں پہنائی ۔ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا سے بھارتی ٹیم کے اس اقدام کی مذمت کی گئی کہ جنٹلمین گیم میں سیاست کو گھسانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور آخری خبریں آنے تک پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی اس اقدام پر آئی سی سی میں معاملہ اٹھانے کا عندیہ دے دیا ہے۔

ٹوئٹر سے لےکر فیس بک غرض یہ کہ سماجی رابطے کی ہر ویب سائٹ پر بشمول میرے ہزاروں افراد نے انڈیا کے اس اقدام کی بھرپور مذمت کی کیونکہ کھیل کے میدان میں کھیل اچھے لگتے ہیں سیاست نہیں ۔ بھارتی بورڈ اور حکومت کی جانب سے کرکٹ فیلڈ میں اس طرح سے سیاسی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تھی تاکہ عوامی جذبات کو مزید پاکستان کے خلاف کیا جا سکے لیکن دوسرے ہی دن ہمارے پروفیسر صاحب (محمد حفیظ) نے پائلٹ صدیقی کو چیمپئنز ٹرافی کی اپنی شرٹ دینے کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ سوشل میڈیا پر حفیظ کے اس اقدام پر پاکستانی عوام نے تعریفوں کے پل باندھ دئیے کہ جناب نے ایک عظیم کارنامہ سرانجام دیا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر بھارتی ٹیم ٹوپیاں پہن کر میچ کھیلے تو غلط لیکن حفیظ جب ایسا کرے تو تعریف اور اس کی وضاحت کچھ یوں پیش کی جائے کہ حفیظ کا یہ ذاتی فعل ہے اور اس میں پی سی بی کا کچھ لینا دینا نہیں ہے اور حفیظ نے اپنے ملک سے محبت کا اظہار کیا ہے۔ لیکن کیا بھارتی کھلاڑیوں کو اپنے ملک سے محبت نہیں؟

سہواگ اور گوتم گھمبیر نے جب پلواما کے بعد ٹویٹس کی تو ہم نے ان کو آڑے ہاتھوں لیا کہ کھلاڑی یا فنکار کا ایسے معاملوں سے کیا لینا دینا۔ حفیظ کی پاکستان سے محبت پر کوئی شک نہیں بلاشبہ پائلٹ صدیقی ہمارے ہیرو ہیں لیکن کیا حفیظ کی جانب سے بھارتی ٹیم کی بیوقوفانہ حرکت کے دوسرے روز ہی ایسا کرنا ضروری تھا اگر حفیظ واقعی وہ شرٹ گفٹ کرنا چاہتے تھے تو پہلے کر دیتے ایک دن بعد ہی کیوں؟۔

بھارتی ٹیم کی جانب سے ٹوپیوں کے معاملہ کو پی سی بی آئی سی سی میں اٹھانے والا ہے لیکن اس سے پہلے انھیں چاہئے کہ وہ حفیظ کی بھی سرزنش کریں کہ ایسے معاملات میں کھلاڑیوں کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے۔ کھلاڑی ہمارے قومی ہیرو ہیں لیکن ان کی ایسی کسی بھی حرکت سے ملک وقوم کے نام پر حرف بھی آ سکتا ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے