ڈی ایچ اے حکومت کے اندر حکومت ہے

رضوان عارف

پاکستان کی سپریم کورٹ نے فوج کے زیر انتظام ہاؤسنگ اسکیم ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کو آڈٹ کرانے کے لیے مزید دو ہفتے کی مہلت دے دی ہے ۔

ڈی ایچ اے کے وکیل نے عدالتی حکم پر عمل نہ ہونے پر مزید مہلت طلب کی جس پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے پوچھا کہ ڈی ایچ اے کو آڈٹ کرانے میں کیا مسئلہ ہے؟۔

جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ڈی ایچ اے کراچی کے آڈٹ کیس کی سماعت کی ۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ عدالت نے ڈی ایچ اے کے آڈٹ کا حکم دیا تھا، آڈٹ نہ کروا کر ڈی ایچ اے توہین عدالت کر رہا ہے۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ ڈی ایچ اے کو آڈٹ میں مسئلہ کیا ہے؟ کیا عدالت حکومت کو قانون پڑھائے گی؟ حکومت لکھ کر دیدے کہ اسے قانون سمجھ نہیں آتا ۔

جسٹس گلزار احمد نے استفسار پوچھا کہ کیا عدالت حکومت کی متبادل ہے؟۔ ہر کام اور حکم عدالت کو ہی کیوں دینا پڑتا ہے؟ کیا حکومت سپریم کورٹ کے حوالے کر دی گئی ہے؟۔

جسٹس گلزار نے کہا کہ لگتا ہے ڈی ایچ اے حکومت کے اندر حکومت ہے۔ عدالتی ابزرویشنز پر ڈی ایچ اے وکیل نے تیاری کیلئے مہلت مانگی ۔ عدالت نے کیس کی سماعت دو ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔

ادھر سپریم کورٹ نے حکومت کو ٹیلی فون انڈسٹریز پاکستان (ٹی آئی پی) ملازمین کی مستقلی کا مسئلہ ملازمین کے نمائندوں سے مذاکرات کر کے حل کرنے کی ہدایت کی ہے ۔

جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے استفسار کیا کہ اگر کچھ ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک دیا ہے تو بقیہ کو کیوں نہیں دیا گیا؟
دوران سماعت ٹی آئی پی کے وکیل شعیب شاہین نے موقف اختیار کیا کہ ٹی آئی پی ادارہ عملی طور پر بند ہو چکا ہے۔ ٹی آئی پی کا خسارہ دو ارب سے تجاوز کر گیا ہے۔
عدالت نے کیس کی سماعت سماعت دو ماہ کیلئے ملتوی کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ملازمین کے ساتھ پیکج مذاکرات میں طے کیا جائے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button