بڑے لوگوں کی سنہری یادیں ۔ یونس ریاض ۔۳

یونس بھائی کے ساتھ گزرے دن ایک ایک کر کے یاد آرہے ہیں وہ بہت ہی نفیس انسان اور دوسروں کا خیال رکھنے والی مہربان شخصیت ہونے کے ساتھ بڑے محنتی اور خوددار تھے اور انہوں نے اپنی خودداری پر کبھی آنچ نہیں آنے دی۔ ان کا تعلق دہلی سوداگروں سے تھا لیکن اس کے باوجود صحافت کو ہی آ خر تک ذریعہ معاش بنائے رکھا۔ ہمارے درمیان دوستی اور گہرے برادرانہ تعلقات شروع ہی سے قائم ہو گئے تھے۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے ایک واقعہ کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں۔ 15 مئی 1970 کو میری شادی طے تھی.جس کا دعوت نامہ دینے کے لئے ایک مینارہ مسجد عالمگیر روڈ پی ای سی ایچ سوسائیٹی ان کے گھر گیا۔اس وقت میرے مالی حالات کچھ اچھے نہیں تھے اور 343 روپے ماہانہ تنخواہ میں اچھے ہو بھی کیسے سکتے تھے اس لئے شادی نہائت سادگی کے ساتھ ہو رہی تھی۔مجھے یاد تھا کہ حال ہی میں یونس بھائی کی بھی شادی ہوئی ہے ،مجھے اچانک خیال آیا کہ دولہا کا عروسی جوڑاکرتا شلوار اور شیروانی تو سل کر آ چکا ہے لیکن عروسی پگڑی موجود نہیں ہے اور وہ یونس بھائی کے پاس موجود ہوگی چنانچہ میں نے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے نہائت خندہ پیشانی کے ساتھ فوری طور پر وہ پگڑی میرے حوالے کر دی اور بہت خوش ہوئے۔ میں بڑا خوش تھا کہ اب میرا عروسی جوڑا مکمل تھا اور اس طرح میں اور یونس بھائی پگ برادر بھی بن گئے تھے۔

یونس بھائی 21 جولائی 1939 کو دہلی کی تاجر برادری کے ایک خوشحال گھرانے میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم و تربیت کے مراحل طے کرتے ہوئے 1960 میں دہلی یونیورسٹی سے اردو میں ماسٹر کیا اور اگلے سال پورے خاندان کے ساتھ ہجرت کرکے کراچی آگئے۔صحافت سے ان کا لگاؤ بچپن ہی سے تھا۔اسی لئے انہوں نے اردو میں مہارت کے لئے اردو میں ماسٹر کرنے کا فیصلہ کیا۔ کراچی آتے ہی انہوں نے صحافت میں طبع آزمائی شروع کردی۔ سب سے پہلے 1963 میں روزنامہ انجام میں سب ایڈیٹر کی حثیت سے باقاعدہ صحافت کا آغاز کیا وہ مختصر عرصے کے لیے روزنامہ نوروز،ہفت روزہ نو جہاں اور ریڈیو پاکستان سے بھی وابستہ رہے۔ 1965 میں وہ روزنامہ جنگ کے ادارتی عملے میں شامل ہوئے اور 60 سال کی عمر میں جولائی 1989 کو جنگ سے ریٹائر ہوگئے۔وہ چاہتے تو ایڈیٹر کی حثیت سے ان کی اعلی کارکردگی اور ادارتی عملے کے ساتھ حسن سلوک کی وجہ سے ان کو ملازمت میں توسیع مل سکتی تھی لیکن انہوں نے اس کو کبھی پسند نہیں کیا۔ وہ مجھ سے اس کا ذکر کرتے رہتے تھے کہ وہ اپنا اخبار نکالنا چاہتے ہیں۔یہ ان کا ایک خواب تھا جس کی تعبیر ان کو تین سال بعد اس وقت مل گئی جب ممتاز تاجر اور ہمارے مشترکہ دوست طاق سعید اور عبدالحمید چھاپرا کے تعاون اور اشتراک سے تاجر برادری کےلیے روزنامہ بیوپار نکالنے کا پروگرام بنایا اور 1993میں ضروری تیاریوں کے بعد اس کی اشاعت شروع کردی۔ کچھ عرصے تک ان تینوں دوستوں کا ساتھ رہا اور پھر طارق بھائی اور چھاپرا بھائی اس سے عملی طور پر پر الگ ہو گئے۔ اور یونس بھائی ہی کو اس کا مختار کل بنا دیا اور اب اس نے کامیابی کے ساتھ شائع ہونے کے 26 سال مکمل کر لئے ہیں۔ جس کے ایڈیٹر ان کے فرزند علی یونس ہیں اور وہ اس کو کامیابی کے ساتھ چلا رہے ہیں۔

یونس ریاض

‎یونس بھائی تین سال کی طویل علالت کے بعد
‎اسی سال 27 جنوری کو 79 سال 6 ماہ کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے اور ان کی بے قرار روح کو آخر کار سکون مل گیا۔ کہتے ہیں،شدید بیماری کی وجہ سے اللہ تعالی بیمار کو گناہوں سے پاک کر دیتے ہیں اگر یہ سچ ہے اوراس کے سچ ہونے میں کوئی شک نہیں ہے تو بھائی یونس ریاض اس دنیا سے اس حالت میں رخصت ہوئے ہیں کہ گناہوں اور لغزشوں کا کوئی بوجھ ان پر نہیں ہے ان شااللہ۔ اللہ تعالی ان کے درجات بلند کرے،ان کے ساتھ آسانی اور راحت کا معاملہ کرےاور ان کی چار بیٹیوں اور بیٹے علی کو یہ صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ اور صبر دے۔اور یونس بھائی کی صبر آزما بیماری کے دوران ان کی خدمت کو قبول کرے اور اس کا انہیں اجر بھی دے۔

————————————————————————————————————

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے