ملکہ اور کریلے گوشت

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مُلکِ شام سے آگے کسی ملک میں ایک نیک دل بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ ایک دن وہ وفات پاگیا۔ اس کی کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی کیونکہ اس ملک میں ایسا کوئی پیر یا درگاہ نہ تھی جس پر چڑھاوا چڑھانے سے بیٹا ملتا ہو۔ اس بادشاہ کی ایک خوبصورت اور نیک سیرت بیٹی تھی۔ اس کا نام مہرالشگفتہ تھا۔ بادشاہ کی وفات کے بعد وہ اس ملک کی ملکہ بن گئی۔ ملکہ یوں تو بہت سادہ اور نیک دل تھی لیکن اس کی ایک کمزوری تھی۔ اس کو کریلے گوشت بہت پسند تھے۔ ملکہ کے مرحوم اباجان جب تک زندہ رہے، محل میں کبھی کریلے گوشت نہیں پکے کیونکہ مرحوم بادشاہ کا خیال تھا کہ "تکّہ و کباب اوّل، کریلے و ٹینڈے آخر”۔ مہرالشگفتہ نے ملکہ بنتے ہی حکم جاری کیا کہ جو شخص اسے مزے دار کریلے گوشت پکا کر کھلائے گا، اس کو شاہی شیف مقرر کیا جائے گا۔ 12 ہزار ڈالر ماہانہ راتب کے علاوہ ھواوے کا نیا فون اور ان لمیٹڈ ڈیٹا بھی دیا جائے گا۔ پورے ملک سے لوگ کریلے گوشت لے کر ملکہ کے دربار میں حاضر ہوئے لیکن ملکہ کو کسی کے بھی کریلے گوشت پسند نہ آئے۔ ملکہ نے طیش میں آکر مقابلے کے تمام شرکاء کی سمیں دو مہینے کے لیے بند کرا دیں اور سختی سے ہدایت کی کہ انہیں نئی سم جاری نہ کی جائے۔ ملکہ نے اگلے دن منادی کرا ئی کہ دس دن تک اگر کسی نے اسے مزے دار کریلے گوشت نہ کھلائے تو سارے ملک کی بجلی چھ مہینے کے لیے بند کر دی جائے گی۔ موسمِ گرما کی آمد آمد تھی۔ اس اعلان سے تمام ملک میں دہشت کی لہر دوڑ گئی۔یہ خبر شکور محمد تک بھی پہنچی جو بھاگٹانوالہ سے آگے اپنے کھیتوں میں چھوٹی سی جھگّی بنا کر اکیلا رہتا تھا۔ اس نے فورا سائیکل اٹھائی، پیڈل مارا اور مارا مار استاد پیارے لال خاں کے گھر موضع لدھیانوالہ پہنچ گیا۔ استاد اس وقت ریاض میں مصروف تھے۔ انہوں نے تانپورے سے ہاتھ اٹھائے اور شکور سے اس کے اچانک آنے کا سبب پوچھا ۔ شکور محمد نے تمام ماجرا استاد کے گوش گذار کیا۔ استاد نے شکور کو گھورتے ہوئے کہا کہ اب تم مجھ سے کیا چاہتے ہو۔ شکور نے نظریں جھکا کر لجاجت سے کہا کہ استاد! پوری زندگی میں آپ کے گھر سے مزے دار کریلے گوشت کہیں نہیں کھایا۔ اگر ممکن ہوسکے تو مجھے کریلے گوشت پکوا دیں تاکہ میں ملکہ کی خدمت میں پیش کرکے رعایا کو آنے والے عذاب سے بچا سکوں۔ استاد سوچ میں پڑ گئے۔تھوڑی دیر بعد تانپورے پر تان لگائی تو اندر سے آواز آئی، "جی سرتاج! ابھی بناتی ہوں”۔ تھوڑی دیر بعد اندر سے سٹیل کا ٹفن آیا جس میں کریلے گوشت تھا۔ شکور محمد نے تشکر سے ٹفن لیا اور استاد سے کہا کہ اگر ملکہ کو یہ کریلے گوشت پسند آگئے تو۔۔۔ شکور ابھی یہاں تک ہی پہنچا تھا کہ استاد نے تانپورہ اٹھا کر شکور کے سر پہ دے مارا اور چلاّئے۔۔۔۔ ناہنجار، ہمارے گھر کے پکے ہوئے کریلے گوشت بارے ‘اگر’ کا لفظ استعمال کرنے کی جرات کیسے ہوئی؟ شکور محمد نے ٹفن بغل میں دابا اور سر سہلاتا ہوا رخصت ہوا۔ شکورمحمد ملکہ کے دربار میں حاضر ہوا اور ملکہ کی خدمت میں کریلے گوشت کا ٹفن پیش کرتے ہوئے عرض کی کہ اس کو کھانے کی ایک شرط ہے۔ ملکہ نے غضب ناک نگاہوں سے شکور کی طرف دیکھا اور کہا کہ تم ملکہ سے شرطیں منواؤ گے؟ شکور محمد نے ملکہ کے سامنے کورنش بجاتے ہوئے عرض کیا کہ آپ پہلے شرط سن لیں۔ ملکہ نے سر اثبات میں ہلایا تو شکور گویا ہوا کہ یہ کریلے گوشت تندور کی تازہ اور کراری روٹی کے ساتھ تناول کیے جائیں اس کے علاوہ کوئی شرط نہیں۔ ملکہ نے غلام کو بلانے کے لیےتالی بجائی تو تمام درباری تالیاں بجانے لگے۔ ملکہ طیش میں آکر چلاّئی، "یہاں کیا عاطف اسلم کا کنسرٹ چل رہا ہے؟ بدبختو بات تو سمجھ لیا کرو”۔ تمام درباری یہ سن کر شرمندہ ہوئے اور منہ پر انگلیاں رکھ کر چپ کرکے بیٹھ گئے۔ قصّہ مختصر، تندور لگا، روٹی اتری، ملکہ نے لقمہ لیا اور خوشی سے نہال ہو کر بولی، "میں نے پا لیا، میں نے پالیا”۔ شکور محمد کو فوری طور پر شاہی شیف مقرر کردیا گیا۔ ہواوے کا فون دیا گیا تو اس نے آئی فون لینے پر اصرار کیا۔ ملکہ نے ہنستے ہوئے کہا کہ وہ تو زنانہ فون ہے۔ بہرکیف شکور محمد کو آئی فون دے دیا گیا۔ شکور محمد نے ملکہ سے درخواست کی کہ اسے پچاس روپے کا بیلنس بھی کرا دیا جائے کیونکہ اس نے اپنی بیوی سے بات کرنی ہے۔شکور محمد نے دربار سے رخصت چاہی تو ملکہ نے کہا کہ تم اب محل میں رہو کیونکہ اب تم شاہی شیف ہو۔ شکور محمد نےجواب دیا کہ وہ اپنی جھگی میں ہی خوش ہے۔ وہ روز محل آکے کریلے گوشت پکا دیا کرے گا لیکن رہائش اپنی جھگی میں ہی رکھے گا۔ کل کو اگر ملکہ کی شادی ہوگئی اور بادشاہ سلامت نے اسے محل سے نکال دیا تو وہ کیسے محل کی پر تعیش زندگی چھوڑے گا۔ اس کے لیے بہت مشک ہو جائے گی۔ لہذا ملکہ اسے اجازت دے کہ وہ روزانہ آ ئے، کریلے گوشت پکا ئے اور اپنے گھر چلا جائے ۔ ملکہ یہ سن کر گہری سوچ میں گم ہوگئی۔ اس نے چند ثانیوں بعد سر اٹھایا اور شکور محمد سے کہا کہ وہ اسے ایسی آفر کرے گی کہ وہ انکار نہیں کرسکے گا۔ شکور محمد نے گاڈ فادر دیکھ رکھی تھی۔ اسے بہت افسوس ہوا کہ ملکہ گاڈ فادر والے ڈائیلاگ اپنے بنا کر استعمال کر رہی ہے۔ ملکہ نے شکور محمد سے کہا کہ وہ اس سے شادی کرلے۔ اس کےبعد اسے کوئی خوف نہیں رہے گا کہ کوئی اسے محل سے نکال سکتا ہے۔ شکور محمد فرطِ مسرّت سے جھوم اٹھا۔ فورا شادی کی تیاریاں شروع ہوگئیں۔ اسی دن بعد از نمازِ عشاء ملکہ اور شکور محمد کا نکاح ہوگیا۔ شبِ زفاف کی صبح شکور اور ملکہ نے غسل کیا، شاہی لباس زیبِ تن کیا اور دربار میں جا پہنچے۔ شکور محمد اب بادشاہ بن چکا تھا۔ شکور شاہی تخت پر براجمان ہوا۔ سر پر تاج رکھا۔ وزیر خاص کو اپنے پاس بلایا اور اپنا پہلا حکم نامہ لکھوایا۔ "آج سے سلطنت میں کوئی فرد کریلے گوشت پکاتا، کھاتا یا ان کا نام لیتا پکڑا گیا تو اس کا سر تن سے جدا کر دیا جائے گا۔”

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے