’مشرف کے وکیل نے عدالت کا وقت کیسے گزارا‘

 خصوصی عدالت سے آنکھوں دیکھا حال

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کا سنگین غداری کیس میں ٹرائل کرنے والی خصوصی عدالت کے سامنے ان کے وکیل سلمان صفدر نے دو گھنٹے میں چھ مؤقف بدلے اور عدالت کے ججوں کو اس وقت حیران کر دیا جب کہا کہ ’ملک سے باہر جانے والوں کو عدالت کہاں واپس لا سکتی ہے۔‘

اسلام  آباد میں جمعرات کو فیڈرل شریعت کورٹ کی عمارت میں قائم سپیشل کورٹ نے مقدمے میں ملزم پرویز مشرف کا ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت ٹرائل میں بیان ریکارڈ کرنے کے لیے طریقہ کار طے کرنا تھا تاکہ قانون کے مطابق کیس کو آگے بڑھایا جائے ۔

جسٹس طاہرہ صفدر کی سربراہی میں جسٹس نذر اکبر اور جسٹس شاہد کریم پر مشتمل تین رکنی خصوصی عدالت نے سماعت کا آغاز کیا تو ساڑھے دس بج رہے تھے ۔

پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر نے پیش ہو کر کہا کہ امید ہے مجھے پورا موقع دیا جائے گا کہ مقدمے میں تفصیل سے بات کر سکوں۔ انہوں نے کہا کہ آج تک اس کیس کو پوری طرح عدالت کے سامنے پیش ہی نہیں کیا گیا ۔

وکیل نے کہا کہ چونکہ آج عدالت اہم حکم جاری کرنے والی ہے اس لیے تفصیل سے میری گزارشات سنی جائیں ۔

اس کے بعد وکیل نے گذشتہ دنوں سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کی کارروائی اور جاری کیے گئے حکم نامے کی تفصیل بتانا شروع کی ۔

وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جو درخواست سنی وہ سنہ ۲۰۱۳ میں دائر کی گئی تھی تاکہ یہ مقدمہ دائر کیا جا سکے، اب وہ درخواست غیر مؤثر ہو چکی ہے مگر سپریم کورٹ نے اس لیے سنی کیونکہ پرویز مشرف اس عدالت کے سامنے بیان ریکارڈ کرنے کے لیے پیش نہیں ہو سکے ۔

وکیل نے کہا کہ اس کیس میں میری حیثیت کا تعین ہونا بھی باقی ہے کیونکہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ اشتہاری ملزم کی جانب سے پیش ہوا جا سکتا ہے یا نہیں، پہلے اس نکتے پر مطمئن کیا جائے ۔

وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم پڑھ کر سناتا ہوں ۔ پندرہ منٹ اسی طرح گزر گئے تو جسٹس نذر اکبر نے مداخلت کی اور وکیل سے کہا کہ اس عدالت میں یہاں کی کارروائی تک محدود رہیں ۔ ہم سپریم کورٹ کے حکم یا سماعت سے متاثر نہیں ہوتے ۔

وکیل نے کہا کہ اس مقدمے میں ہم ایک منفرد صورتحال سے دوچار ہیں جہاں ملک کو قانون آگے بڑھنے کا کوئی راستہ نہیں دکھاتا ۔

عدالت کی سربراہ جسٹس طاہرہ صفدر نے کہا کہ ’ملزم کا بیان کیسے ریکارڈ کیا جائے صرف اس نکتے تک محدود رہیں اور قانون پوزیشن بتائیں۔‘

وکیل نے کہا کہ اس مقدمے کو ہائی پروفائل بتایا جاتا ہے، مگر کوئی کیس ہائی پروفائل نہیں ہوتا۔ سارے جرائم پر ضابطہ فوجداری کی ایک ہی کتاب میں موجود شقوں کا اطلاق ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے برطانیہ کے اولیور کرامویل کی مثال دی جس کو قبر سے نکال کر پھانسی دی گئی تھی، اگلے دن تمام اخبارات نے شہ سرخیاں لگائیں۔

جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ سپریم کورٹ میں دیے گئے ریمارکس اور اپنے وہاں کے دلائل کو الگ رکھیں، اس عدالت کو مخاطب کریں۔ ہم وہاں کی کسی آبزرویشن سے متاثر نہیں ہوتے ۔

وکیل نے کہا کہ دفعہ 342 کا بیان عدالت میں پیش ہو کر ہی قلمبند کیا جا سکتا ہے اس کے علاوہ کوئی قانونی طریقہ موجود نہیں ۔ جسٹس طاہرہ صفدر نے پوچھا کہ جب ملزم آنے سے انکاری ہو تو مقدمے میں آگے بڑھنے کا کیا راستہ ہوگا؟

وکیل نے کہا کہ یہ عدالت سے جان بوجھ کر فرار ہونے کا معاملہ نہیں ہے، میرا یہاں پر ان کے وکیل کی حیثیت سے کھڑے ہونا ہی یہ ثابت کرتا ہے کہ ملزم اپنا دفاع کرنا چاہتا ہے ۔

وکیل نے کہا کہ اس خصوصی عدالت کے قانون میں کل 12 شقیں ہیں ۔ یہ مقدمہ دوسرے مرحلے میں ہے، استغاثہ کے گواہوں کے بیان قلمبند ہو چکے، ملزم کا دفعہ 342 کا بیان ریکارڈ ہونا ہے اور اس کے بعد اس نے اپنے دفاع میں شواہد اور گواہ پیش کرنے ہیں ۔

وکیل نے کہا کہ عدالت میں خصوصی قانون کی شق چھ کی غلط تشریح کی جا رہی ہے، ہر ایک مقدمے میں کہا جاتا ہے کہ ٹرائل تاخیر کا شکار نہ ہو، یہ صرف اس مقدمے کے لیے نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی مفرور ملزم کو واپس لانے کا قانون میں ایک ہی بامعنی طریقہ ہے کہ ضابطہ فوجداری کی شق 88 کے تحت اس کی جائیداد ضبط کر لی جائے ۔ حکومت نے انٹرپول کے ذریعے مشرف کو واپس لانے کی کوشش کی تھی، انہوں نے جواب دے دیا ہے ۔

جسٹس نذر اکبر نے وکیل سے کہا کہ کیا آپ ہمیں یہاں قانون کا اعادہ کرانا چاہتے ہیں، ان تمام قوانین کا پڑھ رکھا ہے ۔ انہوں نے پوچھا کہ ’یہ بتائیں کہ کیا آپ خود کو مفرور ملزم یا اشتہاری سمجھتے ہیں؟‘ عدالت کا آخری حکم نامہ پڑھ لیں جب ہم نے بیان قلمبند کرنے کے لیے کمیشن کی تشکیل کے لیے کہا تھا ۔

وکیل نے کہا کہ ضابطہ فوجداری کی شق 512 بھی ہے ۔ مقدمہ آگے اس لیے جلدی بڑھایا جاتا ہے کہ کہیں ثبوت ضائع نہ ہوجائے، گواہ مر نہ جائے ۔

جسٹس طاہرہ صفدر نے کہا کہ یہاں 512 کا اطلاق کہاں سے ہوگا؟ اس مقدمے میں تو ملزم ہی ایک ہے ۔

وکیل نے کہا کہ اگر مقدمے میں ایک ہی ملزم ہو تو عدالت حاضری سے استثنا نہیں دیا جا سکتا مگر اس عدالت نے کئی مواقع پر دیا ۔ جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ استثنا کے لیے درخواست کس نے دی؟

وکیل نے کہا کہ اس وقت کے پرویز مشرف کے وکیل نے دی تھی میں نے نہیں دی ۔ جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ وہ وکیل آپ کا بڑا بھائی تھا ۔

وکیل نے کہا کہ اسکائپ پر بیان اس لیے ریکارڈ نہیں کیا جا سکتا کہ ہزاروں دستاویزات ہیں جن کا ملزم کو دکھایا جانا ضروری ہے جس پر ان کا جواب لیا جائے گا ۔

وکیل نے کہا کہ عدالت نے پہلے بھی ملزم کی غیر حاضری میں شہادتیں ریکارڈ کرائیں جو قانونی نہ تھا ۔ جسٹس طاہر نذر نے کہا کہ اس وقت پرویز مشرف کے وکیل موجود تھے اور انہوں نے تمام دستاویزات پر گواہوں سے جرح کی ۔

وکیل نے کہا کہ یہ رعایتیں ملزم کو نہیں دی جاتیں مگر اس عدالت نے دیں ۔

وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میں پڑھ کر آیا ہوں اور ساری کتابیں بھی ساتھ لایا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پوری تاریخ میں ایسا کیس کبھی نہیں ہوا، اس مقدمے میں غیر حاضری میں ٹرائل ہو ہی نہیں سکتا ۔ سزا تو بالکل بھی نہیں سنائی جا سکتی ۔

جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ کبھی پیش نہیں ہوں گے؟

وکیل نے کہا کہ ’مشرف چاہتے ہیں کہ وہ پیش ہوں‘۔ ویسے بھی حکومت نے ان کو باہر جانے کی اجازت دی ۔ یہ لمبی بیماری کا معاملہ ہے ۔ کچھ ویڈیوز بطور شواہد سامنے لائی جاتی ہیں کہ وہ بہت اچھی صحت میں ہیں، اچھی طرح رہ رہے ہیں ۔

وکیل نے کہا کہ ان کی صحت خرابی کے بھی شواہد موجود ہیں، وہ واش روم میں گرے ہیں، ان کی ریڑھ کی ہڈی متاثر ہوئی ہے ۔ ان کی بیماری اصلی ہے، درخواست گزار کی استدعا پر ایک طبی بورڈ بنا کر ان کے پاس بھیجا جائے تو عدالت کو معلوم ہو جائے گا ۔

جسٹس طاہرہ صفدر نے پوچھا کہ ملزم کب تک تندرست ہو کر عدالت میں پیش ہو سکتے ہیں ۔

وکیل نے کہا کہ درمیان میں ایک وقت آیا تھا کہ ان کی صحت بہتر ہوگئی تھی۔ مگر یہ جیل توڑنے کا معاملہ نہیں ہے، درخواست گزار نے خود ملزم کو جانے دیا ۔ وکیل نے کہا کہ جب ایک ملزم کو چھوڑ دیا جاتا ہے تو کون واپس آتا ہے۔ جب کوئی باہر چلا جاتا ہے تو پھر کون سی عدالت واپس لا سکتی ہے ۔

ایک لمحے کے لیے تینوں ججز اور عدالت میں موجود ہر شخص اس بات پر حیران رہ گیا کہ وکیل نے کتنے دھڑلے سے یہ کہہ دیا ہے ۔

جسٹس ںذر اکبر نے فورا وکیل کو روکتے ہوئے کہا کہ ’کیا ہم آپ کا یہ بیان ریکارڈ کر لیں۔‘

وکیل سلمان صفدر ہنس پڑے اور کہا کہ وہ عمومی بات کر رہے تھے کیونکہ ایسا ہوتا ہے ۔

وکیل نے کہا کہ پرویز مشرف بیان قلمبند کرنے کے لیے پیش نہیں ہوسکتے، ان کا بیان اسکائپ پر بھی نہیں لیا جا سکتا اور بطور وکیل میں ان کی جگہ بیان نہیں دینا چاہوں گا ۔

جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ آپ کو کس نے ان کی جگہ دفعہ 342 کا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے کہا؟

وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اگر میں جواب دوں گا تو آپ ڈانٹ دیں گے ۔

جسٹس طاہرہ صفدر نے پوچھا کہ آگے بڑھنے کا قانونی راستہ کیا ہے؟

وکیل نے کہا کہ میں آپ کے سامنے کینوس پر فل پکچر پینٹ کر دوں گا ۔ آگے’بڑھنے کا راستہ بھی آئے گا ۔

جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ ’لے آؤ نا یار ، جلدی کرو۔‘ باہر تو نہیں بیٹھے وہ کہیں؟

وکیل نے کہا کہ خود اسی عدالت کا آرڈر ہے کہ ملزم کا غیر موجودگی میں دفعہ 342 کا بیان ریکارڈ نہیں جا سکتا ۔

جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ ان آرڈرز کی موجودگی میں کیا آج کی سماعت کے بعد نیا حکم نامہ جاری کرنے کی اجازت ہوگی یا وہ بھی نہیں ہوگی؟

طنز کو سمجھتے ہوئے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ملزم نے بیان قلمبند کرنے کے بعد اس پر دستخط کرنے ہیں اور پھر ججوں نے بھی دستخط کرنے ہیں ۔ ملزم کو غیر موجودگی میں بیان ریکارڈ کرانے کی رعایت نہیں دی جا سکتی ۔

جسٹس طاہرہ صفدر نے کہا کہ کیا خصوصی عدالت کچھ نہیں کر سکتی؟ کیا سب کچھ یہاں پر آ کر رک جائے گا؟۔

وکیل نے کہا کہ یہ عام مقدمہ نہیں، یہ ملک کے سب سے بڑے جرم کا الزام ہے، سنگین غداری کا مقدمہ ہے ۔

اس کے ساتھ ہی ایک فائل اٹھاتے ہوئے وکیل نے کہا کہ وہ ایک درخواست دائر کر رہے ہیں جس کو سن کر اس مقدمے سے سابق فوجی صدر کو بری کیا جائے ۔ 

وکیل سلمان صفدر نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا حکم غیر قانونی طور پر اس وقت کے وزیراعظم نے وزارت داخلہ کے سیکرٹری کو دیا تھا ۔ وکیل کے مطابق یہ وفاقی حکومت کا اختیار تھا اور سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ وفاقی حکومت کا مطلب وفاقی کابینہ ہے اور یہ فیصلہ کابینہ نے نہیں کیا تھا ۔

عدالت نے کہا کہ یہ درخواست الگ سے بعد میں سنی جائے گی ۔ 

خصوصی عدالت کی سربراہ جسٹس طاہرہ صفدر نے کہا کہ اس مرحلے پر ملزم کا بیان ریکارڈ کرانے کے قانونی آپشن زیرغور ہیں اس پر عدالت کی معاونت کی جائے ۔ 

وکیل سلمان صفدر نے عدالت سے اجازت طلب کی کہ ان کو اپنے مؤکل سے بات کرنے کی مہلت دی جائے تاکہ ’واپسی کی تاریخ بتا سکیں۔‘

وقفے کے بعد وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سابق صدر کے اہل خانہ کے مطابق پرویز مشرف 12یا 13 مئی کو عدالت میں پیش ہوں گے ۔ وکیل نے بتایا کہ ان کی پرویز مشرف کی اہلیہ سے بات ہوئی ہے اور ان کا کہنا ہے پرویز مشرف ملک واپس آئیں گے اور اپنا دفاع کریں گے ۔

وکیل نے کہا کہ مشرف ملک کے آئین کو توڑنے کا الزام ہے مگر وہ چاہتے ہیں ان کے کا ٹرائل آئین میں دیے گئے طریقہ کار کے مطابق شفافیت سے چلایا جائے ۔

وکیل نے کہا کہ پرویز مشرف کو جو بیماری لگی ہے وہ دنیا کے ایک ارب میں سے ایک شخص کو لگتی ہے ۔ ان کو صبح نو بجے ہسپتال لے جایا جاتا ہے اور شام سات بجے تک وہیں پر کیمو تھراپی کی جاتی ہے ۔ یہ کینسر نہیں ہے مگر زیادہ سنگین بیماری ہے ۔

جسٹس طاہرہ صفدر نے کہا کہ 13 مئی کو رمضان ہوگا، میرے لیے کوئٹہ سے اس کیس کی سماعت کے لیے آنا ممکن نہ ہوگا اس لیے ایک دو ہفتے پہلے سنیں گے ۔

عدالت نے پرویز مشرف کودو مئی کو پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی ۔ 

متعلقہ مضامین