’آسٹریلیا سے کھیلنا بچوں کا کام نہیں‘

پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو متحدہ عرب امارات کے میداںوں میں کھیلی جانے والی پانچ ایک روزپ میچوں کی سیریز میں وائٹ واش اور بدترین ہزیمت کا سامنا ہے ۔

ایسے میں سوشل میڈیا پر صارفین نے موجودہ حکومت اور اس کے لگائے گئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کو آڑے ہاتھوں لیا ہے ۔

کئی صارفین نے سوال اٹھایا ہے کہ ان کو توقع تھی عمران خان کے وزیراعظم بننے سے کم از کم کرکٹ ٹیم میں تو کوئی تبدیلی آئے گی ۔ نومی نامی ایک ٹوئٹر ہینڈل سے لکھا گیا ہے کہ ’خیال تھا کارکردگی بہتر ہوگی مگر نئے چیئرمین نے تو بیڑہ ہی غرق کر دیا ہے ۔‘

ایک اور صارف کمال نے کہا ہے کہ ’ان سے نجم سیٹھی ہی اچھا تھا، سب لوگ گالیاں دیتے رہے مگر اس نے ٹیم اور کرکٹ بورڈ کے ذریعے اپنی کارکردگی دکھائی۔‘

دوسری جانب چار میچ مسلسل ہارنے والے پاکستانی ٹیم کو آخری ایک روز میچ میں ۳۲۸ رنز کا پہاڑ جیسا ہدف ملا ہے اور بظاہر یہ میچ جیتنا نئے لڑکوں مشتمل ٹیم کے لیے ممکن نہیں ۔

اتوار کو دبئی کرکٹ اسٹیڈیم میں پہلے کھیلتے ہوئے آسٹریلوی بلے بازوں نے پاکستانی بالرز کا بھرکس نکال دیا ۔ عثمان شینواری کے سوا کسی گیند باز نے آسٹریلوی بلے بازوں کے سامنے کچھ نہ کیا ۔

آسٹریلیا نے اپنے مقررہ 50 اوورز میں 327 رنز بنائے اور ان کے سات کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔

عثمان شنواری نے عمدہ بولنگ کرتے ہوئے اپنے 10 اوورز میں 49 رنز کے عوض چار کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ جنید خان نے بھی تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا مگر باقی بولرز کی طرح کافی مہنگے ثابت ہوئے۔

گلین میکسویل نے جارحانہ اننگز کھیلتے ہوئے صرف 26 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی انھیں جنید خان نے 70 کے سکور پر بولڈ کیا۔

شان مارش نے بھی اچھی اننگز کھیلی اور 53 گیندوں پر اپنے نصف سنچری مکمل کی مگر جنید خان کی گیند پر 61 رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہوگئے۔

پاکستان نے جوابی اننگز میں چھ اوورز میں ۳۰ رنز اسکور کیے ہیں اور اس کا ایک کھلاڑی آؤٹ ہوا ہے ۔

ٹوئٹر پر ایک صارف نے لکھا ہے کہ ’آسٹریلیا سے کھیلنا بچوں کا کام نہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے