سوڈان میں بھی عرب بہار؟

سال 2010 کے آخر میں سیاسی بیداری کی لہر الجزائر سے شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے نام نہاد عرب بہار کے عنوان سے خطہ عرب میں پھیل گئی۔
یہ "عرب بہار” دہائیوں سے جاری کئی مطلق العنان حکمرانوں کے ذوال پر منتج ہوئی، یار دوست اسے عرب بہار کا نام دے کر گلشن میں رنگ و بو کے پھریروں کی امید لگائے بیٹھے رہے لیکن خطے کی سیاسی قیادت یہ یہ جاننے سے قاصر رہی کہ یہ عرب بہار دراصل گزشتہ ایک سو سال سے جاری اسی گریٹ گیم کا حصہ تھی، جس نے خطے کو لہولہان کیے رکھا تھا۔ یہ نام نہاد عرب بہار دراصل خطے پر سامراج کی گرفت مضبوط کرنے کیلئے اور عوامی غیظ و غضب کو ذرا ٹھنڈا کرنے کیلئے تھا۔
اس عرب بہار کا پہلا بھانڈا اس وقت پھوٹا، جب تحریر اسکوائر میں مظاہرین بٹھا کر پہلے حسنی مبارک کے اقتدار کے کفن میں آخری کیل ٹھونکے گئے اور پھر وہی منظر دہراکر "عرب بہار” کی تجہیز و تکفین کا عمل دہرایا گیا۔ اب مصر میں عرب بہار کا نام لینے والا بھی نظر نہیں آتا۔
جن لوگوں کو اب سوڈان میں عرب بہار دکھائی دے رہی ہے، انہیں الجزائر، تیونس، لیبا، مصر اور دیگر ممالک میں عرب بہار کا انجام ذہن میں رکھنا چاہیے۔


سوڈان بھی ان ممالک میں شامل ہے، جہاں عوام میں شعوری سطح بہت بلند نہیں ہوتی اور عوام کو بڑی آسانی سے کبھی مذہب، کبھی حقوق اور کبھی ملکی سلامتی کے نام پر بیوقوف بنالیا جاتا ہے، سوڈان میں بھی حقیقی تبدیلی کے آثار دور دور تک دکھائی نہیں دیتے۔ موجودہ اکھاڑ پچھار کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یا تو سوڈان لیبیا، عراق اور شام کی طرح خانہ جنگی کا شکار ہوجائے گا یا پھر فوج ہی دوبارہ اقتدار میں آجائے گی۔ یہ بات تو میرا خیال ہے سب ہی جانتے ہیں کہ "زیر حراست” معذول سوڈانی صدر عمر البشیر کا فوجی پس منظر تو سب ہی جانتے ہیں، جی ہاں بریگیڈیئر جنرل عمر البشیر کو بھی ایئر چیف مارشل حسنی مبارک کی طرح کچھ نہیں ہوگا اور ممکن ہے صدارتی محل کے باہر بیٹھے بہت سے مظاہرین اگلے چند ماہ میں جیلوں میں ہوں ۔

متعلقہ مضامین