معاشی حالات پر مایوسی ہوتی ہے، چیف جسٹس

پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہا ہے کہ معیشت کے حوالے سے خبریں سن کر مایوسی ہوتی ہے، امن و امان کے حالات بھی سب کے سامنے ہیں، ہزارہ برادری کو احتجاج کرتے دیکھتے ہیں لیکن کوئی نہیں سنتا ۔

سپریم کورٹ میں منگل کی رات گئے اپنے اعزاز میں عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ معاشرے میں سب برا نہیں، انصاف کے شعبے میں اچھے کام بھی ہو رہے ہیں ۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کا کہنا تھا کہ ملک میں قائم کی گئی ماڈل کورٹس بہت تیزی سے مقدمات نبٹا رہی ہیں، ماڈل کورٹس کے لیے نہ ہی نئے ججز کی تعیناتی کی گئی اور نہ ہی قانون میں ترمیم کی گئی ۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں تین ماہ کے عرصے میں زیر التوا مقدمات کی تعداد انیس لاکھ سے کم ہو کر 17 لاکھ رہ گئی ہے، سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد چالیس ہزار پانچ سو سے کم ہو کر 38 ہزار تین سو رہ گئی ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ملک کے ہر ضلع میں قتل اور منشیات کے مقدمات کے لیے ماڈل کورٹس قائم کی گئی ہیں، ماڈل کورٹ نے بارہ روز میں 1618 مقدمات کے فیصلے کیے ۔

انہوں نے کہا فوری انصاف کے لیے نہ ہی نظام بدلا اور نہ ہی قانون سپریم کورٹ میں فوجداری مقدمات سے متعلق صرف 581 درخواستیں زیر التوا ہیں، سروس مقدمات کے لیے جلد ہی اسپیشل بنچ تشکیل دیا جائے گا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ نظام انصاف کا حصہ قانونی چارہ جوئی کرنے والے سائلین ہیں، اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ کیا ہم سائلین کے لیے وہ سب کر رہے ہیں جس کی ضرورت ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کا پہلا فرض عوام کی خدمت ہے، پولیس کے خلاف شکایات کے لیے ایس پی رینک کے افسر کو مقرر کیا گیا ہے، ایس پی شکایات اب تک 21 ہزار سے زائد عوامی شکایات پر احکامات جاری کر چکے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے