ججز تعیناتی اور عدلیہ کی آزادی

"عدلیہ کی آزادی” سے مراد ہمارے ہاں عموما عدلیہ کی دیگر ریاستی اداروں انتظامیہ اور مقننہ سے آزادی لیا جاتا ہے۔ عدلیہ کی آزادی کا یہ مفہوم غلط تو نہیں لیکن ادھورا ضرور ہے۔ عدلیہ کی آزادی مکمل اسی وقت ہوتی ہے جب نہ صرف اسے مذکورہ اداروں کی طرف سے کسی دباو کا سامنا نہ ہو بلکہ عدلیہ میں موجود ہر جج اپنے جوڈیشل مائینڈ کے مطابق فیصلے کرنے میں بھی مکمل طور پر آزاد ہو اور اسے عدلیہ کے اندر سے بھی کسی قسم کے دباو کا سامنا نہ ہو۔ اسی چیز کو یقینی بنانے کے لیے آئین کی اٹھارویں ترمیم کے ذریعے اعلی عدلیہ میں عملی طور پر اکیلے چیف جسٹس کی طرف سے کی جانے والی ججوں کی تعیناتی کے طریقہ کار کو یکسر بدل کر زیادہ لوگوں کو مشاورتی عمل میں شامل کر کے ایک collegial process کو متعارف کروایا گیا تھا۔ مقصد یہی تھا کہ کوئی بھی ایک شخص یا ادارہ اس پوزیشن میں نہ ہو کہ وہ اکیلا اعلی عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی کر سکے یا ایسی تعیناتیوں کے عمل میں اثر انداز ہو سکے۔ ظاہر ہے کہ اس کا مقصد قابل ترین شخص کو جج کے منصب پر اس طرح سے فائز کرنا تھا کہ وہ بغیر کسی بیرونی یا اندرونی دباو کے اپنے جوڈیشل مائینڈ کے مطابق غیر جانبداری سے فیصلے کرنے میں آزاد ہو۔

اٹھارویں ترمیم کے ذریعے ججوں کی تعیناتی کے لیے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ یہ کمیشن چیف جسٹس آف پاکستان، سپریم کورٹ کے دو سینئیر ترین جج، اٹارنی جنرل آف پاکستان، وفاقی وزیر قانون، پاکستان بار کونسل کے نامزد کردہ ایک سینیئر وکیل پر مشتمل تھا۔ ہائیکورٹ میں ججوں کی تعیناتی کے لیے متعلقہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس، متعلقہ ہائیکورٹ کے دو سینئیر ترین جج، متعلقہ صوبائی وزیر قانون اور متعلقہ صوبائی بار کونسل کے نامزد کردہ ایک وکیل بھی مذکورہ کمیشن میں شامل کیے گئے۔ کمیشن کے فرائض میں شامل تھا کہ وہ کثرت رائے سے خالی آسامیوں پر تعیناتی کے لیے ججوں کے نام منظور کرکے پارلیمانی کمیٹی کو بھجوائے۔ اس کمیشن میں وکلا، حکومتی نمائندوں اور متعلقہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ سے اراکین شامل کر کے اداراجاتی توازن قائم کرنے اور ان تعیناتیوں پر کسی ایک شخص یا ادارے کی اجاراداری ختم کرنے کی کوشش نظر آتی ہے۔

آٹھ رکنی پارلیمانی کمیٹی میں چار ارکان سینٹ اور چار قومی اسمبلی سے شامل کیے گئے اور اس میں بھی حکومت اور اپوزیشن کو برابر نمائندگی دی گئی۔ جوڈیشل کمیشن کی طرف سے بھیجے گئے ناموں کا جائزہ لے کر انھیں منظور کرکے صدر مملکت کو بھجوانا یا مسترد کرنا پارلیمانی کمیٹی کے فرائض میں شامل کیا گیا۔

بعدازاں سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے ججوں کی تعیناتی کے مذکورہ طریقہ کار اور جوڈیشل کمیشن کے قیام کے خلاف دائر مختلف پیٹیشنز پر فیصلے کے نتیجہ میں پارلیمنٹ نے انیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے جوڈیشل کمیشن میں سپریم کورٹ کے سینئیر ترین دو ججوں کو بڑھا کر سپریم کورٹ کے سینئیر ترین چار ججوں کو مذکورہ کمیشن میں شامل کرلیا۔ اس کے علاوہ چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے مذکورہ چار ججوں کی مشاورت سے نامزد کردہ ایک ریٹائرڈ چیف جسٹس یا ریٹائرڈ سپریم کورٹ کے جج کو بھی کمیشن میں شامل کر لیا گیا۔ اسی طرح ہائیکورٹ میں تعیناتی کے لیے متعلقہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے ساتھ دو سینئرترین ججوں کو کم کر کے ایک سینئر ترین جج کر دیا گیا۔ اس ترمیم کے نتیجے میں ججوں کی تعیناتی کے لیے سپریم کورٹ کا کردار بہت حد تک بڑھ گیا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق کی جانے والی انیسویں ترمیم کے ذریعے پارلیمانی کمیٹی کے لیے بھی ضروری قرار دیا گیا کہ وہ کمیشن کے فیصلے سے متفق نہ ہونے کی صورت میں اختلاف کی وجوہات ضرور مہیا کرے۔ نہ صرف یہ بلکہ انیسویں ترمیم کے بعد منیر حسین بھٹی کیس میں سپریم کورٹ نے پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے جوڈیشل کمیشن کے بھجوائے ہوے ناموں کو مسترد کرنے کی وجوہات کو justiciable بھی قرار دے دیا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ عدالت پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے مہیا کی جانے والی مذکورہ وجوہات کا جائزہ لے کر انہیں قانون کے مطابق غلط یا درست قرار دینے کا اختیار رکھتی ہے۔ اس طرح سے انیسویں ترمیم اور منیر حسین بھٹی کیس کے بعد سے پارلیمانی کمیٹی کا ججوں کی تعیناتی میں کردار بہت حد تک محدود ہو گیا۔

منیر حسین بھٹی کیس میں سپریم کورٹ کا استدلال یہ تھا کہ ججوں کی تعیناتی کے لیے غور کیے جانے والے ناموں کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا جائزہ لینا جوڈیشل کمیشن کا کام ہے کیونکہ کمیشن میں موجود تمام ارکان قانون کے شعبے سے وابسطہ ہوتے ہیں جبکہ پارلیمانی کمیٹی میں ایسی ٹیکنیکل مہارت دستیاب نہیں۔ اس لیے پارلیمانی کمیٹی کے لیے ضروری ہے کہ اگر وہ کوئی نام مسترد کرے تو اس کے لیے پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی بجائے دیگر ٹھوس وجوہات مہیا کرے۔

جوڈیشل کمیشن نے اپنی کاروائی کا طریقہ کار وضع کرنے کے لیے جو رولزمرتب کیے ہیں اس کے مطابق جج کی ہر خالی آسامی کو پر کرنے کے لیے کسی بھی نام کو initiate (تجویز) کرنے کا اختیار کمیشن کے چئیرمین (چیف جسٹس آف پاکستان) کے پاس ہے۔ اس طرح سے مجموعی طور پر انیسویں ترمیم، منیر حسین بھٹی کیس اور کمیشن کے مذکورہ رول کی بدولت سپریم کورٹ کے چار سینئیر ترین ججوں کا بالعموم اور چیف جسٹس آف پاکستان کا بالخصوص ججوں کی تعیناتی میں کردار کلیدی حیثیت حاصل کر گیا ہے۔ سپریم کورٹ یا کسی بھی ہائیکورٹ میں جتنی آسامیاں خالی ہوں کمیشن کے سامنے چیف جسٹس آف پاکستان کی طرف سے اتنے ہی نام تجویز کیے جاتے ہیں اور جوڈیشل کمیشن ایک رسمی کاروائی کے ذریعے ان ناموں کو من و عن منظور کر لیتا ہے۔ اگر کمیشن کے سامنے خالی آسامیوں کی تعداد سے زیادہ نام غور کے لیے موجود ہوں تو یقینانا ان تعیناتیوں میں کمیشن کا مجموعی کردار بڑھایا جا سکتا ہے۔

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ہائیکورٹ میں تعیناتی کے لیے موزوں ناموں کی وکالت کا بڑا حصہ سپریم کورٹ کی بجائے ہائیکورٹ میں ہی ہوتا ہے اس لیے سپریم کوٹ کے ججوں کی بجائے ہائیکورٹ کے جج ان کی حالیہ سالوں کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے زیادہ واقف اور باخبر ہوتے ہیں اور ان کے بارے میں بہتر رائے دینے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں۔ جبکہ ہائیکورٹ کے ججوں کے پاس نام تجویز کرنے کا اختیار نہ ہونے کی وجہ سے اس عمل میں ان کا کردار کافی حد تک محدود ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے حافظ شاہد ندیم کاہلوں کیس میں زور دیا تھا کہ پارلیمنٹ نے ججوں کی تعیناتی کے لیے آئین میں پرانے نظام کو ختم کرکے چونکہ حقیقی مشاورت پر مبنی نیا نظام متعارف کروایا تھا لہذا اس امر کو یقینی بنایا جانا از حد ضروری ہے کہ اعلی عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی کے ہر مرحلے پر حقیقی مشاورت (collegial debate and discussion) کو بروئے کار لایا جائے اور collegial constitutional ethos کا خیال رکھا جائے۔ اس فیصلے میں مزید کہا گیا تھا ہر ہائیکورٹ کو چاہیے کہ وہ اپنی سطح پر succession planning کے تحت ایک مسلسل عمل کے ذریعے قابل اور موزوں ناموں کا پول تیار کرے تاکہ متعلقہ ہائیکورٹ میں جج کی آسامی خالی ہونے کی صورت میں جوڈیشل کمیشن اس پول میں سے مشاورتی عمل کے ذریعے ججوں کا انتخاب کرسکے۔

عدلیہ کی حقیقی آزادی اور قابل ترین غیر جانبدار اور آزاد منش ججوں کی تعیناتی کو ممکن بنانے کے لیے ضروری ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی کاروائی کے طریقہ کار اور اس ضمن میں مرتب کیے جانے والے رولز کا ازسر نو جائزہ لے کر اسے قانون سازوں کی منشا سے ہم آہنگ بنایا جائے۔ ہر ہائیکورٹ کی سطح پر معزز ججوں کی ایک کمیٹی جج کے طور پر تعیناتی کے لیے ہر قانونی شعبے سے موزوں ناموں کی فہرست ایک مسلسل اور شفاف عمل کے ذریعے مرتب کرے۔ اس فہرست کو مرتب کرنے میں وکلا کی تعلیمی کارکردگی اور پیشہ وارانہ صلاحیت دونوں کو مد نظر رکھا جائے۔ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ عدالتوں میں پیش ہونے والے پرائیویٹ پریکٹشنرز، قانون کی تدریس سے منسلک، قانون کے محقق، ماتحت علیہ کے ججز، انسانی حقوق کے لیے خدمات فراہم کرنے والے، حکومتی اداروں اور دیگر کارپوریشنز کے قانونی شعبوں سے وابسطہ، پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ، اٹارنی جنرل آفس اور ایڈووکیٹ جنرل آفس کے لا آفیسرز، نیز کہ قانون کے ہر شعبہ میں غیر معمولی کارکردگی کے حامل اہل قانون دانوں کو اس فہرست میں شامل کیا جائے اور جوڈیشل کمیشن میں کسی بھی نام کو تجویز کرنے کی بجائے کمیشن مذکورہ فہرست میں شامل قانون دانوں پر غور و خوض اور حقیقی مشاورت کے بعد کثرت رائے سے ان میں سے قابل ترین ناموں کا انتخاب کرکے پارلیمانی کمیٹی کو بھیجے۔

ایسے ہی شفاف، حقیقی اور broad based مشاورتی عمل کے ذریعے سے یقینی بنایا جاسکتا ہے کہ مستقبل میں موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کے calibre کے زیادہ سے زیادہ جج اعلی علیہ میں تعینات کیے جا سکیں، ورنہ ججوں کی قابلیت اور غیر جانبداری پر انگلیاں اٹھتی رہیں گی۔

متعلقہ مضامین