اسد عمر – اصل سازش

2011 کے آغاز میں جب واضح ہوچکا تھا کہ اب عمران خان کا راستہ روکنا ناممکن ہوچکاہے تو ایک گھناؤنا کھیل رچایا گیا جس کی تفصیلات میں جانے کا یہ وقت نہیں ۔ بالآخر 2013 کے انتخابات میں دھاندلی، بدمعاشی اور عیاری سے خان کا راستہ روک دیا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ بات سب کی سمجھ میں آنے لگی کہ بہت دیر تک خان کو اسلام آباد سے دور رکھنا ممکن نہیں ہے۔ اس موقع پر ایک دوسری طویل مدتی سازش کا آغاز کیا گیا۔

یہ کراچی کے پوش علاقے کے ایک بنگلے کا منظر تھا۔ ڈرائنگ روم میں چار افراد صوفوں پر براجمان تھے۔ چائے کا دور چل رہا تھا۔ نظر نہ آنے والے سپیکرز سے جنید جمشید کی مدھر آواز آ رہی تھی "ہم کیوں چلیں اس راہ پر”۔ ایک طویل قامت ہینڈسم بندہ اس پر فٹ ٹیپنگ کرر ہا تھا۔ سفید بالوں والے ایک شخص نے کھنکھار کر گلا صاف کیا اور کہا،

"دیکھیں، بہتر یہی ہوگا کہ اسد کو اس کے پاس ہی رہنے دیتے ہیں۔ ابھی تک اس کو کوئی شک نہیں ہوا۔ یہ اس کو پٹّی پڑھاتا رہے کہ میں اکانومی دس دن میں ٹھیک کردوں گا۔ میرے پاس سارا پلان ہے۔ آپ فکر نہ کریں۔ جیسے وہ اسلام آباد پہنچے گا۔ اسد اپنا کام شروع کردے گا اور چند مہینوں میں ہی ہم اس کا وہ حال کریں گے کہ دنیا دیکھے گی۔”

سفید بالوں والے یہ شخص نواز شریف کے سب سے قریبی ساتھی خواجہ آصف تھے۔ ان کے ساتھ اسد عمر اور زبیر عمر تھے۔ چوتھے فرد کا ذکر کرنا مناسب نہیں۔ اسد عمر نے یہ سن کر سر اثبات میں ہلایا۔ پہلو بدلا۔ چائے کا سِپ لیا۔ بسکٹ کا چھوٹا سا بائٹ لے کر چباتے ہوئے بولے، "خواجہ صاحب۔۔ آپ اس کو اتنا لائٹلی نہ لیں۔ وہ بہت ہوشیار، ذہین، قابل اور بہادر انسان ہے۔ اگر اس کو تھوڑا سا شک بھی ہوگیا تو میری خیر نہیں۔ اس نے تو اپنے کزن ماجد خان کو ٹیم سے بزّت کرکے نکال دیا تھا۔ جمائمہ سے پیسے بھی نکلوائے اور پھر بھی اس کو طلاق دے دی۔ یہ بندہ جب کمٹمنٹ کرلے تو خود کی بھی نہیں سنتا۔ مجھے گارنٹی چاہیئے کہ اگر اس کو وقت سے پہلے پتہ چل گیا تو میری حفاظت کا کیا بندوبست ہوگا؟ وہ مجھے کبھی نہیں چھوڑے گا اور پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالے گا۔”

خواجہ آصف کے چہرے پر مکار سی مسکراہٹ آگئی۔ کہنے لگے کہ اس کی آپ فکر نہ کریں۔ کل سے ہی آپ کو تمام چینلز پر روزانہ ائیر ٹائم ملا کرے گا۔ آپ اس میں ہماری حکومت کی رج کے بیستی کریں۔ لمبی لمبی چھوڑیں۔ ایسے دعوے کریں کہ سوائے انصافیوں کے سب ان پر ہنسیں۔ میں اٗس کو جانتا ہوں۔ لمبی لمبی چھوڑنے والے اس کو بہت پسند ہیں۔ کچھ عرصہ میں ہی وہ آپ کو پی ٹی آئی کا برین کہنا شروع کردے گا۔ آپ اس کے انر سرکل میں شامل ہوجائیں گے۔ بس وہی وقت ہوگا کہ اس کو اپنی باتوں سے شیشے میں اتارنا ہے۔ آپ نے ایم بی اے کیا ہوا ہے اس کی مشکل مشکل اصطلاحات اس کے سامنے بول کر معاشی مسائل کے خود ساختہ حل اس کو روزانہ کی بنیادوں پر سناتے رہیں۔ اس کو یقین دلا دیں کہ معیشت کا جو بھی حال ہوگا ہم اس کو چند ماہ میں ایسا کردیں گے کہ لوگ مغربی ممالک سے یہاں نوکریاں کرنے آئیں گے۔ خواجہ آصف کی اس بات پر زور کا قہقہہ گونجا۔ زبیر عمر جو اس وقت تک خاموشی سے باتیں سن رہے تھے، بولے۔۔۔ اب ایسا بھی نہیں ہے خواجہ صاحب۔ وہ بھی آکسفورڈ سے پڑھا ہوا ہے۔ اس کو اتنا چونا لگانا شاید ممکن نہ ہو۔ یہ نوکریوں والی بات تو وہ کبھی نہیں دھرائے گا۔ یہ تو بالکل بے وقوفی والی بات ہے۔ کوئی چھوٹا سا بچہ بھی اس پر ہنس دے گا۔ خواجہ آصف نے سنٹر ٹیبل پر پڑی پلیٹ سے کریم والی پیسٹری اٹھاکر منہ میں ٹھونسی اور انگلی سے انتظار کا اشارہ کیا۔ پیسٹری نگل کر ٹشو سے منہ صاف کرکے بولے۔ وہ بہت صاف دل انسان ہے۔ اگر اس کا اعتبار جیت لیا جائے تو وہ سمجھتا ہے کہ جیسا میں صاف نیّت کا ہوں ایسے ہی میرے دوست اور اعتبار والے بندے بھی صاف نیّت والے ہیں۔ یہی موقع ہوگا جب ہم اس پر وار کریں گے اور اس کی 22 سالہ جدوجہد کو مٹی میں ملا دیں گے۔ یہ کہہ کر خواجہ آصف کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ آگئی۔

اسد عمر نے اٹھ کر خواجہ آصف سے ہاتھ ملایا اور کہا کہ ڈیل ڈَن۔ خواجہ آصف نے چوتھے بندے کو اشارہ کیا، وہ ڈرائنگ روم سے باہر چلا گیا۔ تھوڑی دیر میں بڑے سائز کے دو سوٹ کیس دھکیلتا ہوا ڈرائنگ روم میں داخل ہوا۔ اسد عمر کے چہرے پر خوشی اور حیرت کے تاثرات تھے۔ خواجہ آصف کے اشارے پر چوتھے شخص نے سوٹ کیس کھول کر دکھائے۔ ایک سوٹ کیس سونے کی اینٹوں سے لبالب بھرا ہوا تھا اور دوسرے میں ہیرے بھرے تھے۔ خواجہ آصف نے انگلی اٹھا کر کہا،

"اسد، یہ 40 کروڑ ڈالرز ہیں۔ یہ صرف بیعانہ ہے۔ تم ہمارا کام تسلّی بخش طریقے سے کردو تو اس سے چار گنا مال اور ملے گا۔ تمہاری نسلوں کو بھی کبھی کام کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ "

اس کے بعد جو ہوا وہ تاریخ ہے۔ ہر ٹاک شو میں اسد عمر پی ٹی آئی کے نمائندے کے طور پر موجود ہوتے۔ عوام کو یقین دلاتے کہ ہم ان کی تقدیر بدل دیں گے۔ پاکستان میں دنیا بھر سے لوگ کام تلاش کرنے آئیں گے۔ تعلیم، صحت سب مفت ہوں گے۔ غریبوں کے لیے ماہانہ وظیفہ ہوگا۔ پی ٹی آئی کے سپورٹرز کے لیے عمران اور اسد عمر میں کوئی فرق نہیں تھا۔ وہ دونوں کو یک جان دو قالب سمجھتے تھے۔ جولائی 2018 کے انتخابات میں شاندار کامیابی کے بعد کپتان کی حکومت بنی تو اسد عمر وزیر خزانہ کے لیے آٹومیٹک چوائس تھے۔یہی وہ موقع تھا جہاں ان کو اپنی سازش کو انجام تک پہنچانا تھا۔ 8 مہینے میں اسد عمر نے ہر وہ کام کیا جس سے کپتان نے انہیں منع کیا تھا۔ کپتان خود حیران تھا کہ آخر اسد کو ہو کیا گیا ہے۔ میں اس کو جس کام کا کہتا ہوں یہ اس سے بالکل الٹ کرتا ہے۔

آخر کار اسد عمر کی ڈینگیں مارنے کی عادت نے انہیں پکڑوا دیا۔ کوہسار مارکیٹ کے ایک ریستوران میں خواجہ آصف سے خفیہ ملاقات طے تھی۔ اسد عمر اپنی کامیابی اور مزید کروڑوں ڈالرز ملنے کے نشے میں اپنے کسی دوست سے کہہ بیٹھے کہ اس کپتان کا وہ حشر ہوگا کہ ساری دنیا اس کا تماشہ دیکھے گی۔ وہ دوست ایک سچا محب وطن اور کپتان کا ٹائیگر تھا۔ اس نے فورا جا کر نعیم الحق سے رابطہ کیا اور ساری بات بتائی۔ کوہسار مارکیٹ کے اس ریسٹورنٹ کو پوری طرح بَگ کر لیا گیا تھا۔ جب اسد عمر اور خواجہ آصف کی ملاقات جاری تھی تو اسی وقت کپتان وہاں نعیم الحق کے ساتھ پہنچ گیا اور دونوں کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ سنا گیا کہ کپتان نے خواجہ آصف کو دو تین جھانپڑ بھی لگائے۔ اسی وقت اسد کو وزیر خزانہ کی پوسٹ سے ہٹا دیا گیا۔ نعیم الحق کہتے ہیں کہ واپس بنی گالہ جاتے ہوئے کپتان نے گاڑی میں یہ گانا لگایا ہوا تھا۔۔۔
دشمن نہ کرے دوست نے وہ کام کیا ہے
عمر بھر کا غم ہمیں انعام دیا ہے

جعفر حسین، ہمارے دور کے بہترین مزاح نگاروں میں سے ایک ہیں ۔ ان کی ایک تحریر نذیر ناجی نے ’اپنی‘ بنا کر اخباری کالم میں سچ سمجھ کر شائع کر دی تھی اور نعیم الحق اس کی حقانیت پر ڈٹ گئے تھے ۔ جعفر حسین کی دیگر کئی مزاحیہ تحریریں بھی ایک ریٹائرڈ فوجی نے اپنے نام سے ’تحقیقی مقالے‘ سمجھ کر شائع کی ہیں ۔




متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے