کیا سری لنکا حملوں کی وجہ یہی ہے؟

عراق سے اٹھنے والی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ یا داعش نے اتوار کو سری لنکا میں ہونے والے بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ اس سے قبل سری لنکا نے کہا تھا کہ گرجا گھروں پر حملے نیوزی لینڈ مساجد حملوں کا ردعمل ہیں ۔

سری لنکا حکومت نے یہ بھی کہا تھا کہ ان حملوں میں مقامی شدت پسند تنظیم نیشنل توحید جماعت ممکنہ طور پر ملوث ہو سکتی ہے تاہم اس کے عالمی رابطوں کا پتہ لگانا باقی ہے۔

داعش کی میڈیا ایجنسی عماق کے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’ایسٹر کے روز سری لنکا میں امریکی اتحاد اور مسیحوں پر حملہ کرنے والے داعش کے جنگجو تھے۔‘

شام اور عراق میں مفتوحہ علاقہ کھونے کے باوجود داعش کی جانب سے عالمی سطح پر بھرتیوں کا سلسلہ جاری ہے، اس کے علاوہ تنظیم شام اور عراق سمیت دنیا بھر میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی ذمہ داری بھی قبول کر رہی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق، اتوار کو کولمبو کے پر تعیش ہوٹلوں اور گرجا گھروں میں ہونے والے دھماکے امریکہ میں ہونے والے نائن الیون حملوں کے بعد بدترین حملے تھے۔

سری لنکن نائب وزیر دفاع روان وجے وردھنے نے منگل کو پارلمینٹ میں ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے دعوی کیا کہ ایسٹر کے موقع پر دھماکے نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملوں کا ردعمل ہیں۔

جے وردھنے نے مزید کہا کہ دو مقامی شدت پسند گروہ ’قومی جماعت توحید‘ اور ’جمعیت ملاتھوابراہیم‘ دھماکوں کے ذمہ دار ہیں۔

وزیراعظم رانیل وکرم سینگھے نے پارلیمنٹ کو آگاہ کیا تھا کہ تحقیقات میں غیر ملکی رابطوں کا تعین کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل سری لنکن فوج اور حکومتی ذرائع سے یہ خبر سامنے آئی کہ حملوں کے شبے میں ایک شامی شہری سمیت 40 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن سے تحقیقات جاری ہیں۔

خیال رہے کہ عراق کے بعد داعش کو شام میں بھی شکست ہو چکی ہے تاہم افغانستان میں طالبان سے ٹوٹے بعض جنگجو اس کا نام استعمال کرتے ہیں ۔

مبصرین اس امر پر شبہ ظاہر کر رہے ہیں کہ کیا داعش کے پاس اتنی صلاحیت ہے کہ وہ سری لنکا میں بھی بھرتیاں کر سکے اور بارود حاصل کر کے اتنی بڑی کارروائی کی جا سکے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے