صدر ٹرمپ کا ٹوئٹر فالورز کمی کا شکوہ

سوشل میڈیا ویب سائٹ پر اپنی موجودگی اور ٹویٹس کے لیے مشہور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹیو سے شکوہ کیا ہے کہ ان کے فالورز کی تعداد میں کمی ہوئی ہے ۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ دنیا میں سب سے زیادہ ٹوئٹر فالورز رکھنے والی شخصیات میں سے ایک ہیں ۔

یہ خبر برطانوی نیوز ایجنسی روئٹرز نے اپنے ذرائع کے حوالے سے دی ہے ۔ خبر ایجنسی کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ شکایت ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک ڈارسی سے منگل کو ہونے والی ملاقات میں کی ۔

روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ کی تشویش کے جواب میں ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹو نے صدر کو واضح کیا کہ کمپنی جعلی ٹویٹر اکاؤنٹس کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس وجہ سے بہت سی نامور شخصیات کے فالورز کی تعداد میں کمی آئی ہے۔

ویب سائٹ کے چیف ایگزیکٹو جیک ڈارسی نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ کمپنی کے اس اقدام سے خود ان کے فالورز بھی پہلے کی نسبت کم ہوئے ہیں ۔ 

جیک ڈارسی کی وضاحت کے باوجود صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ رپبلکن  پارٹی کے رکن ہونے کی وجہ سے ٹوئٹر کمپنی ان سے تعصب رکھتی ہے ۔’بطور رپبلکن  (ٹوئٹر کمپنی) میرے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتی اور یہ بہت امتیازی رویہ ہے۔‘ 

ٹوئٹر کے پبلک پالیسی ڈائریکٹر کارلوس مونشے نے گزشتہ مہینے امریکی سینیٹ میں سماعت کے دوران واضح کیا تھا کہ ان کی کپمنی سے متعلق فیصلے اور ٹویٹر پرشائع کیے جانے والے مواد کا تعین سیاسی نظریات اورپارٹی وابستگیوں کی بنیاد پرنہیں کیا جاتا۔

سوشل میڈیا کے اعدادو شمار پر نظر رکھنے والے ادارے ’کی حول‘ کے مطابق گذشتہ دس ماہ میں صدر ٹرمپ کے پانچ کروڑ ٹوئٹر فالورز میں سے 2 لاکھ 4 ہزار کم ہوئے ہیں ۔

صدر ٹرمپ کا شمار ٹویٹر پر سب سے زیادہ فالو کی جانے والی نامور شخصیات میں ہوتا ہے۔ ان کے ٹویٹر پر پانچ کروڑ نوے لاکھ سے زیادہ فالورز ہیں۔ 

اکتوبر میں بھی صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے ٹویٹ کیا تھا کہ ٹوئٹر نے ان کے اکاؤنٹس سے بہت سے لوگوں کو ہٹایا ہے اور کمپنی نے ایسے اقدامات کیے ہیں جن کی وجہ سے لوگوں کو اکاؤنٹ بنانے میں مشکل آرہی ہے۔ 

امریکہ میں 2016 کے صدارتی انتخابات کے دوران سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر غلط خبروں کی تشہیر کر کے مبینہ طور پر ووٹرز پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کیا گیا تھا جس کے بعد سے ٹویٹر نے مشتبہ اکاؤنٹس کو بند کرنے کا سلسہ شروع کر دیا تھا۔

صدر ٹرمپ سمیت دیگر رپبلکن پارٹی کے ممبران بھی ٹوئٹر پر ان کی جماعت کی طرف تعصب رکھنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ ٹویٹر کمپنی کے عہدیداروں نے ان الزامات کو ہمیشہ رد کیا ہے۔ 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے