‘سعودی جیل سے ماموں کا بیٹا واپس نہ آسکا’


پاکستان کی قومی اسمبلی میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک تحریری جواب جمع کراتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ سعودی عرب کی جیلوں میں اس وقت بھی 3400 پاکستانی شہری قید ہیں ۔


پارلیمنٹ میں پوچھے گئے سوال کے تحریری جواب میں وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں ہمارا سفارتخانہ 2107 پاکستانی قیدیوں کی رہائی کیلئے مصروف ہے جن کے لیے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے دورہ پاکستان میں اعلان کیا تھا۔


وزیر خارجہ کے جواب کے مطابق ‘ہم نے سعودی حکام سے قیدیوں سے فہرست فراہم کرنے کی درخواست کی ہے، ہمیں قیدیوں کی مانگی گئی معلومات کا انتظار ہے،۔’


قومی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان نے ایک تحریری سوال پوچھا تھا کہ’ سعودی ولی عہد شاہ محمد بن سلمان کے اعلان کے نتیجے میں کتنے پاکستانی رہا ہوئے۔؟’


وفاقی حکومت کی جانب سے لاعلمی پر ن لیگ کے رکن قومی اسمبلی ریاض پیرزادہ نے پوچھا کہ سعودی ولی عہد نے2107پاکستانیوں کی فوری رہائی کا حکم دیا تھا رہا کتنے ہوئے۔؟


اوورسیز وزارت کی پارلیمانی سیکرٹری جویریہ ظفر نے بتایا کہ سعودی حکومت اور ہماری وزارت خارجہ ٹکڑوں میں ڈیٹا شیئر کررہی ہے جلد ہی مکمل تعداد ایوان کو بتائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے دل کے بہت قریب ہیں ۔


جویریہ ظفر کے جواب پر اپوزیشن ارکان نے حیرت ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیا جواب ہے۔؟


دریں اثنا قومی اسمبلی اجلاس کے وقفہ سوالات میں جناح ہاوس کو پاکستان کو حوالے کرنے معاملے پر وزارت خارجہ اپنے تحریری جواب بتایا ہے کہ پاکستان نے بار ہا نئی دلی کی حکومتوں کو جناح ہاوس پر قبضے کے فیصلے کو دہرایا۔


وزارت خارجہ کے جواب کے مطابق پاکستان نے1979 میں بھارت کے جناح ہاؤس پاکستانی قونصلر جنرل کو لیز پر دینے کے فیصلے سے اتفاق کیاتاہم اس کے بعد میں بھارت نے ہر بار نیا عذر پیش کیا۔


وزارت خارجہ نے بتایا کہ ستمبر 1981 میں بھارت نے جناح ہاوس کی املاک کو برٹش ہائی کمشنر کو لیز پر دیا۔ تحریری جواب کے مطابق لیز کے خاتمے کے بعد پاکستانی قونصلیٹ کو دینے کی تجویز دی گئی۔

وزارت خارجہ کے مطابق 1993 میں بھارتی ہائی کمشنر کی جانب سے چار جوابات پاکستان کو دیے گئے۔ ایک وجہ یہ بتائی گئی کہ جناح ہاؤس مسلمانوں کے احتجاج کیلئے جگہ بن جائے گی ۔


بھارت نے پہلے ہی اس کو میوزیم میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت پاکستان نے کئی مرتبہ بھارت کے ساتھ معاملہ اٹھایا مگر بھارت نے کوئی مثبت جواب نہیں دیا۔

وزارت خارجہ کے مطابق بھارت کی جانب سے پاکستانی قونصلر جنرل کے قیام کیلئے جگہ لیز پر دینے کا اتفاق کیا گیا۔ جناح ہاوس کی کرایہ داری کا پاکستانی دعوی قانونی بنیاد پر ہے۔ پاکستان جناح ہاوس کے تحفظ اور دیکھ بھال کیلئے لیز کے معاملے پربھارت سے بات چیت جاری رکھے گا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے