عمران خان جلسے کیوں کر رہے ہیں؟

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اپنی جماعت تحریک انصاف کے گڑھ صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں جلسے کر رہے ہیں جس پر بعض مبصرین اس تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ کیا وہ اسمبلیاں توڑ کر نئے انتخابات کی طرف جانا چاہتے ہیں؟۔

عمران خان جن کے بارے میں بہت سے تجزیہ کار متفق ہیں کہ ان سے کچھ بھی توقع کی جا سکتی ہے اور وہ جب تک اسٹیبلشمنٹ کو پیارے ہیں تب تک کر بھی سکتے ہیں مگر لوگوں کو پریشانی ان کے زبان پھسلنے سے ہے ۔

وزیراعظم بننے کے بعد بھی عمران خان کی عامیانہ انداز گفتگو سے ان کی اپنی پارٹی کے لوگ بھی مشکل میں پڑ جاتے ہیں ۔

ایران میں پاکستان سے دہشت گردی کے بیان کے بعد انہوں نے تہران میں اپنے تاریخ و جغرافیے کے بارے میں دنیا کو بتاتے ہوئے ’جرمنی و جاپان‘ کو ایک ساتھ لا کھڑا کیا ۔ اور اب اپنی ہی ملک میں ایک بڑی پارٹی کے رہنما کو ’خاتون‘ ہونے کا طعنہ صرف اس کے لہجے کی وجہ سے دینے پر عمران خان کو تنقید کا سامنا ہے ۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری کو طنز و تضحیک کا نشانہ بنانے کے لیے ’صاحبہ‘ کہہ کر پکارنے کے بعد عمران خان کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر شدید تنقید کا سامنا ہے ۔

ٹوئٹر پر کئی صحافیوں اور پختہ لکھنے والے افراد نے کہا ہے کہ ’کوئی کتنا گر سکتا ہے یہ آکسفورڈ سے پڑھے عمران خان کے عورت بے زار اور ہتک آمیز الفاظ سے ظاہر ہے۔‘

بدھ کوجنوبی وزیرستان کے صدر مقام  وانا میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے طنز و نفرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں بلاول بھٹو صاحبہ کی طرح کسی کاغذ کی پرچی پر نہیں آیا تھا کہ جی مجھے والدہ نے جائیداد میں پارٹی دے دی ہے۔ میں محنت کرکے آگے آیا تھا۔‘

بلاول بھٹو نے وزیراعظم عمران خان کی تقریر کے کچھ دیر بعد ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’سلیکٹڈ وزیراعظم، بڑے عہدوں پر چھوٹے لوگ، کیسا رہے گا۔‘؟

عمران خان کی تقریر کے بعد سوشل میڈیا صارفین کے علاوہ سیاسی رہنماؤں اورزندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ بعض سوشل میڈیا صارفین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ کیا اس دفعہ بھی عمران خان کی ’زبان پھسل‘ گئی ہے یا انہوں نے یہ بات جان بوجھ کر کہی ہے۔

وزیراعظم کے بیان کے بعد ٹوئیٹر پر ہیش ٹیگ ’بلاول صاحبہ‘، ’صاحبہ‘ اور عمران خان کے نام سے ٹرینڈ گردش کر رہے ہیں جن میں عمران خان کے خلاف اور ان کی حمایت میں ٹویٹس کی جا رہی ہیں۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے ایک ٹویٹ میں لکھا ’سلیکٹڈ وزیراعظم اس منصب کے ہی اہل نہیں، الفاظ شرمناک ہیں، آج پاکستان کے لیے افسوسناک دن ہے۔‘

سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے ٹوئٹر پر لکھا ’مکمل طورپر نفرت انگیزاور معیوب‘ بیان ہے۔

 امریکی کامیڈین جیریمی میکلیلن نے بھی ٹوئٹر پر عمران خان کے بلاول کو صاحبہ بولنے پر ردعمل ظاہر کیا ہے ۔ انہوں نے ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ’صاحبہ کا مطلب جینٹلمین ہوتا ہے اوریہ زبان صرف جاپان اور جرمنی کی سرحد پر بولی جاتی ہے۔‘

اس طنزیہ ٹویٹ کے بعد انہوں نے اپنے نام کے ساتھ صاحبہ کا اضافہ بھی کیا ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے