درخواست مسترد، 29 کو فرد جرم

پاکستان میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی ایک عدالت نے سرکاری ٹی وی کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر شاہد مسعود کی کرپشن مقدمے میں بریت کی درخواست مسترد کر دی ہے ۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایف آئی اے عدالت نے شاہد مسعود اور دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے 29 اپریل کی تاریخ مقرر کی ہے ۔

کیس کی سماعت خصوصی عدالت کے جج کامران بشارت مفتی نے کی ۔

اس سے قبل شاہد مسعود نے مقدمے میں شاہد مسعود نے بریت کی درخواست دائر کر کے کہا تھا کہ ان کا اس کیس سے تعلق نہیں اور ان کو پھنسایا گیا ہے۔

عدالت نے شاہد مسعود کے وکیل اور ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر کو سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا ۔

شاہد مسعود اس وقت ضمانت پر ہیں اور ایک نجی ٹی وی پر ٹاک شو کرتے ہیں ۔

خیال رہے کہ شاہد مسعود اس مقدمے میں ضمانت پر رہائی سے قبل دو ماہ اڈیالہ جیل میں قید رہے ۔

گذشتہ سال نومبر سے کئی سماعتوں پر ایف آئی اے کی جانب سے شاہد مسعود پر فرد جرم عائد نہ کی گئی ۔ شاہد مسعود کے خلاف یہ مقدمہ سنہ 2010 سے زیر التوا ہے ۔

شاہد مسعود کو سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں پانچ لاکھ کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کیا ہے ۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود پر بطور ایم ڈی پی ٹی وی مبینہ طور پر 3 کروڑ 80 لاکھ روپے خوربرد کا الزام ہے ۔

شاہد مسعود پر الزام ہے کہ انہوں نے ایم ڈی پی ٹی وی کے عہدے پر فائز رہتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیا رائٹس حاصل کرنے کے لیے جعلی کمپنی سے معاہدہ کیا تھا، جس سے پی ٹی وی کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا تھا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے