’شہلا رضا اور حضرت معاویہ کا طرز حکومت‘

پاکستان میں سندھ اسمبلی کی پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی رکن شہلا رضا کے ایک بظاہر ’فرقہ وارانہ‘ بیان سے نیا تنازع اٹھ کھڑا ہوا ہے ۔

جیو نیوز ٹیلی ویژن کے پروگرام میں عمران خان اور تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے شہلا رضا نے حضرت امیر معاویہ کے طرز حکومت پر سوال اٹھائے جس کے بعد سوشل میڈیا پر اکثریتی سنی مسلمانوں نے اس کو ’نفرت انگیز تقریر‘ اور فرقہ وارانہ منافرت پر مبنی قرار دے کر ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔

شہلا رضا نے تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے اینکر منیب فاروق کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کی ہمیں سمجھ نہیں آتی کبھی کہتے ہیں کہ ہمیں معاویہ کا طرز حکومت چاہیے۔‘

اینکر نے کہا کہ بحث کو دوسرے رخ پر جانے سے روکنے کے لیے کہا کہ ’ہمیں وقفے لینے کے لیے کہا جا رہا ہے، ہم وقفہ لیتے ہیں۔‘

تاہم شہلا رضا بولتی رہیں اور انہوں نے کہا کہ ’میری بھی ہسٹری کمزور ہے، کبھی آپ کہتے ہیں کہ معاویہ کا طرز حکومت چاہیے مجھے۔‘ انہوں نے کہا کہ آپ پوری تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں اس میں معاویہ کا طرز حکومت کیا تھا۔؟

شہلا رضا کا کہنا تھا کہ تاریخ میں حضرت معاویہ کے طرز حکومت کا کہیں ذکر نہیں ہے کہ ان کا کوئی طرز حکومت تھا۔

اس پروگرام میں ان کے ساتھ ن لیگ کے طلال چودھری جبکہ تحریک انصاف کے ندیم افضل چن بھی شریک تھے ۔

ریحام خان نے لکھا ہے کہ ’شہلا رضا کے بیان سے سنی مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور ان کو اس بیان پر معافی مانگنی چاہیے۔ تاہم ان کی علم کی کمی کا یہ مطلب نہیں کہ ہم بھی عقل کو استعمال نہ کریں۔ اس پر فتوے بازی اور فرقہ واریت نہیں پھیلانی چاہیے۔‘

ٹوئٹر پر تحریک انصاف کے رہنما نعیم بخاری کے فین پیج سے اس پروگرام کا کلپ اپلوڈ کر کے لکھا گیا ہے کہ ’آپ دیکھیں کیسے جاہلانہ انداز میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا نام لے رہی ہے جاہل عورت اگر آپ کا کسی بھی فرقےسےتعلق ہے تواس طرح میڈیا پر سرعام بیٹھ کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی توہین ناقابل برداشت ہے ۔‘

91 ہزار فالورز رکھنے والے اس اکاؤنٹ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ’شہلا رضا کوفوری طور پر اسمبلی سے کک آؤٹ کردینا چاہیے۔‘

ایک اور ٹوئٹر صارف محمد اسامہ نامی نے ٹویٹ کیا ہے کہ ’پی ٹی اے کو اس پر جیو کو نوٹس دینا چاہیے۔ اس طرح کی نفرت انگیز بات ناقابل برداشت ہے۔‘

خیال رہے کہ سنی مسلمانوں کی اکثریت حضرت امیر معاویہ کو پانچواں خلیفہ سمجھتی ہے ۔

شیعہ فرقے کے لوگ ان کی خلافت و حکومت سے نالاں ہیں ۔

پاکستان میں سنی عالم دین ابو الاعلی مودودی نے حضرت امیر معاویہ کی حکومت کے بارے میں ایک کتاب ’خلافت و ملوکیت‘ میں ذکر کیا تھا جس کا جواب مفتی تقی عثمانی نے ’حضرت معاویہ اور تاریخی حقائق‘ نامی کتاب لکھ کر دیا تھا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے