ٹیکس محصولات میں اضافہ کیسے ہو

نون لیگ کی حکومت نے اپنے دور حکومت میں ٹیکس کولیکشن کو دگنا کر دکھایا تھا۔ اس میں بہت بڑا کردار سی پیک پراجیکٹس کا رہا ہے۔ موجودہ حالات میں ٹیکس کولیکشن کو بڑھانا بہت مشکل ہے کیونکہ جی ڈی پی بہت کم ہو گئی ہے۔ بہرحال اس کے باجود کچھ ایسے اقدامات ہیں جن پر عمل کرنے سے ٹیکس محصولات کو بڑھایا جا سکتا ہے۔

اس حوالے سے یہ بہت پرانی تجویز ہے۔ لیکن اس سے ٹیکس محصولات کو بڑھانے میں یقیناً بہت مدد مل سکتی ہے۔ ٹیکس دہندگان کو وی آئی پی بنا دیا جائے۔ شنید ہے کہ ایک کروڑ سے زائد ٹیکس دینے والوں کے لئے گولڈ کارڈ جاری کرنے کی تجویز زیر غور ہے جس پر انہیں مختلف سہولیات دستیاب ہوں گی۔ مثلاً ائیر پورٹس پر ان کے لئے الگ سے کاؤنٹر بنائے جائیں گے۔ میری تجویز ہے کہ تین قسم کے کارڈز جاری ہوں۔

۱۔ پلاٹینم کارڈ – ایک کروڑ روپے سے زائد ٹیکس ادا کرنے والوں کے لئے
۲۔ گولڈ کارڈ – پچاس لاکھ سے زائد ٹیکس ادا کرنے والوں کے لئے

۳۔ سلور کارڈ – ایک لاکھ سے زائد ٹیکس ادا کرنے والوں کے لئے

ان کے لئے اسی طرح سہولیات دستیاب ہوں جیسے فوجی افسران، شہداء کے اہلِ خانہ کے لئے ہوتی ہیں۔ مثلاً

۱ ۔ ٹرین، بس، جہاز کے کرایوں میں کارڈ کے حساب سے رعایت دی جائے
۲ – سینما وغیرہ میں ٹکٹ آدھی ہو
۳ – بڑے اسٹورز پر خریداری پر خصوصی رعایت ہو
۴ – گھر، گاڑی اور دوسری چیزوں کے لئے بینکوں سے آسان قرضوں کی سہولت دستیاب ہو
۵ – بچوں اور بچوں کے بچوں کے تعلیمی اخراجات میں سرکاری و نجی تمام تعلیمی اداروں میں خصوصی رعایت دی جائے۔
۶ – وزیرِ اعظم، وزراء، گورنرز اور دوسرے حکومتی ذمہ داران سے 24 گھنٹے کے نوٹس پر ملاقات ممکن ہو۔ تاکہ کوئی شکایت اگر ہو تو براہ راست بیان کر کے مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔
۷ ۔ موٹر وے، جی ٹی روڈ وغیرہ پر چونگی محصول معاف ہو۔
۹ – ہوٹلوں میں ترجیحی بنیادوں پر کمرے دئیے جائیں اور کرائے میں بھی رعایت ہو۔
۱۰ – مقامی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی، میونسپل کارپوریشن، واپڈا، سوئی گیس اور دوسرے محکموں میں ان کی درخواستوں پر ترجیحی بنیادوں پر کاروائی ہو۔ انہیں نارمل کیو سے الگ ٹریٹ کیا جائے۔
۱۱ – سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کے لئے خصوصی سہولیات دی جائیں۔ جیسے وی آئی پی رومز وغیرہ۔
۱۲ – گاڑی اور جائداد کی خریداری میں ٹیکس کی شرح بیت کم کر دی جائے۔
۱۳ ۔ کاروبار یا سرمایہ کاری کے لئے قرض کے حوالے سے بینک انہیں اپنا پریفرڈ کسٹمر قرار دیں اور سب سے پہلے ان کے کیس کو پراسس کریں۔ اس میں بھی مارک اپ ریٹ باقیوں سے کم رکھا جائے۔

ایک کال سنٹر قائم ہو جہاں ٹیکس پئیر اپنے کارڈ کے حوالے سے یا کسی سروس کی عدم دستیابی پر شکایت درج کرا سکے تاکہ مناسب کاروائی کر کے ٹیکس پئیر کی شکایت فوری رفع کی جا سکے۔

علاوہ ازیں، کارڈ پر پوائنٹس سسٹم ہو جس کے تحت سہولیات میں اضافہ یا کمی ہو۔ مجھے یقین ہے کہ ٹیکس پئیر کو عزت دینے سے ٹیکس محصولات میں اضافہ ہو گا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے