’پاکستان کو عالمی سطح پر ایک ارب ڈالر جرمانے کا سامنا‘

پاکستان کی وفاقی حکومت کی دستاویزات کے مطابق عالمی ثالثی عدالتوں میں وکیلوں کی فیسوں کی مد میں دس کروڑ ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں جن میں سے ایک کروڑ ڈالر صرف موجودہ دور حکومت میں وکیلوں کو ادا کیے گئے ۔

مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے منگل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اٹارنی جنرل انور منصور کی جانب سے دی گئی بریفنگ کے بارے میں کہا تھا کہ ’اٹارنی جنرل نے حکومت کو پاکستان کے خلاف عالمی ثالثی فورمز پر درپیش چیلنجز کی تفصیلات بتائیں ۔‘

مشیر اطلاعات کے مطابق اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ پاکستان کو ماضی کے فیصلوں کی وجہ سے عالمی عدالتوں اور ثالثی فورمز پر مشکلات کا سامنا ہے اور وکیلوں کو کروڑوں ڈالرز کی فیس دینا پڑی ہے جبکہ فیصلے خلاف آنے کی صورت میں اربوں ڈالر کا جرمانہ بھی ادا کرنا پڑ سکتا ہے ۔

انگریزی روزنامے ایکسپریس ٹریبیون کے صحافی حسنات ملک کی رپورٹ کے مطابق اٹارنی جنرل انور منصور خان نے وفاقی کابینہ کو ایک گھنٹے کی مفصل بریفنگ میں پاکستان کو عالمی فورمز پر درپیش چیلنجز سے آگاہ کیا ۔

اس رپورٹ کے مطابق اٹارنی جنرل نے تجویز دی کہ حکومت ایک ایسا کمیشن تشکیل دے جو ان ذمہ داروں کو تلاش کرے جن کی وجہ سے پاکستان کو عالمی ثالثی فورمز پر مقدمات ہارنے کی صورت میں اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔ ان کے مطابق زیادہ تر ثالثی کے مقدمات پاکستان کی عدلیہ کے فیصلوں کی وجہ سے بنائے گئے ۔

حسنات ملک کی رپورٹ کے مطابق اٹارنی جنرل نے کابینہ کو بتایا کہ پاکستان کو اس وقت عالمی طور پر تین مختلف قسم کے تنازعات پر ثالثی فورمز میں فریق بنایا گیا ہے۔ ان میں سے ایک معاہدوں یا کمرشل تنازعات کا ہے، دوسرے عالمی معاہدوں سے متعلق تنازعات ہیں جبکہ تیسرے قومی سلامتی سے متعلق مقدمات ہیں ۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ریکوڈک ذخائر، کارکے جہاز، بجلی کے نجی کارخانے اور ایران پاکستان گیس پائپ لائن جیسے مقدمات پہلی قسم میں آتے ہیں جن کا عالمی فورمز پر سامنا ہے ۔ ان کے معاشی اثرات ہو سکتے ہیں جبکہ دوسری طرف سندھ طاس معاہدے، کلبھوشن جادیو کیس اور سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ مقدمات عالمی عدالتوں میں ہیں جو پاکستان کی قومی سلامتی سے متعلق ہیں ۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف قانونی چارہ جوئی میں تیزی آئی ہے اور گذشتہ تین برس میں پاکستان کے خلاف دائر مقدمات کی تعداد چھ سے بڑھ کر 45 ہو گئی ہے ۔ اٹارنی جنرل نے کابینہ کو ان مقدمات کی وجوہات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی وجہ پاکستانی عدلیہ کے فیصلے، عالمی طور پر کیے وعدوں کی عدم تکمیل اور کمزور طریقے سے کیے گئے معاہدے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر قانونی چارہ جوئی پر اب تک دس کروڑ ڈالر خرچ کر چکا ہے اور صرف موجودہ تحریک انصاف کی حکومت میں وکیلوں کو ایک کروڑ ڈالر کی فیس ادا کی گئی ہے ۔

اٹارنی جنرل کی بریفنگ کے مطابق پاکستان کو اس وقت صرف تین مقدمات میں عالمی سطح پر ایک ارب 66 لاکھ ڈالرز کے جرمانے کا سامنا ہے جس میں سے 900 ملین ڈالرز کارکے جہاز کیس، 145 ملین ڈالرز بجلی کے 9 نجی کارخانوں کے مقدمے اور 21 ملین ڈالر نیب کے خلاف برطانوی فرم براڈ شیٹ کا کیس ہارنے کی صورت میں ادا کرنے پڑ سکتے ہیں ۔

انہوں نے کابینہ کو بتایا کہ پاکستان کے خلاف گیارہ ارب 57 کروڑ ڈالرز کے دعوے عالمی سطح پر مختلف فورمز پر ابھی زیر التوا ہیں ۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ریکوڈک ذخائر معاہدے سے نکالے جانے والی ٹیتھیان کاپر کمپنی نے پاکستان کے خلاف گیارہ ارب ڈالر کا دعوی دائر کیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بجلی بنانے والی کئی دیگر نجی کمپنیوں نے بھی پاکستان کے خلاف عالمی ثالثی سے رجوع کیا ہے اور 300 ملین ڈالرز کے دعوے دائر کیے ہیں ۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ’پاکستان کے دفتر خارجہ کے پاس بھی عالمی قوانین کا کوئی ماہر موجود نہیں اس لیے ان کو بھی ہم رجوع کرنا پڑتا ہے۔

اٹارنی جنرل نے کابینہ کو بتایا کہ ’عالمی ثالثی میں پاکستان کے مقدمات جیتنے کی کارکردگی فی الوقت تسلی بخش ہے اور اور گذشتہ چھ برس میں 16 میں سے 13 کیسز کے فیصلے ہمارے حق میں آئے ہیں ۔‘

متعلقہ مضامین