’جب ریاست بھکاری ہے تو ہم کیوں نہ مانگیں‘

میں ‌ ذکر کر رہا تھا، اس بھکاری کا، جو چائے نوش جاں کرتے اخبار کا ادارتی صفحہ کھولے بیٹھا تھا۔ میں اپنی پیالی اٹھائے اس کے سامنے جا بیٹھا۔ اُس نے چھچلتی نگہ مجھ پہ کی، اور اخبار میں متوجہ ہو گیا ۔
”آپ حیران ہوئے مجھے اخبار پڑھتا دیکھ کے؟ اکثر حیران رہ جاتے ہیں۔ کیوں بھئی؟ کیا بھکاری اخبار نہیں پڑھ سکتا؟ “ اسی نے گفت گو کا آغاز کیا۔
”کیوں نہیں پڑھ سکتا؟ حیرت یہ ہو رہی ہے کہ پڑھ سکتے ہو تو کوئی ڈھنگ کا کام کیوں نہیں کرتے؟ بھیک کیوں مانگتے ہو؟ “

اچھا؟ تو آپ بھی ان لوگوں میں سے ہیں؟ ”اس نے اخبار ایک طرف رکھتے چائے کا کپ اٹھا لیا۔ “ وہ لوگ، جو سمجھتے ہیں، تعلیم روزگار دلاتی ہے! تعلیم شخصیت کی تعمیر کے لیے ہوتی ہے۔ ”بھکاری کا لہجہ شستہ تھا۔
”شخصیت کی تعمیر؟ بچے کتنے ہیں، تمھارے؟ “ مجھے کچھ خیال آیا تو سوال کر دیا۔
”بڑا پرسنل سا سوال پوچھا ہے۔ لیکن بتا دیتا ہوں۔ نو! “ 
”نو؟ “ میری حیرت دیدنی ہو گی۔
”ہاں! نو۔ نائن۔ اس میں حیرت کی کیا بات ہے؟ “
”نو بچے ہیں، تو بھیک ہی مانگو گے۔ تمھیں پتا بھی ہے، پاکستان کی آبادی اکیس کروڑ ہو گئی ہے، ؟! ”
”۔ “
اور کوئی کام نہیں ہے، تمھیں؟ “
”لیکن بھائی، کبھی سوچا ہے کہ ہماری غربت کی بڑی وجہ کیا ہے؟ یہی آبادی کا روز افزوں بڑھنا۔ دُنیا کے اتنے وسائل نہیں ہیں، جتنی آبادی بڑھتی جا رہی ہے، ۔


”ادھر میرے پنڈ کی ماچھن تھی، وہ آٹے سے توتا مینا بنایا کرتی تھی۔ ہر ایک کا اپنا اپنا فن ہے۔ کوئی لفظوں کی بازی گری دکھاتا ہے، تو کوئی موت کے کنویں میں موٹر سائکل کے کرتب دکھاتا ہے۔ میں کس کی بات کر رہا ہوں، اسے چھوڑیے ؛ یہ سمجھیں کہ بھیک مانگنا بھی ایک فن ہے۔ 
”ہاں! وہ تو ٹھیک ہے، لیکن ہم آبادی کی بات کر رہے تھے۔ “ میں نے اسے موضوع پر لایا۔
”چلیں آبادی کی بات کر لیتے ہیں۔ یہ بتائیے! ایسا کیوں کہا جاتا ہے کہ بچے دو ہی اچھے؟ “
”اس لیے کہ ریاست پر بوجھ نہ پڑے۔ “
”کون سی ریاست؟ “
”ہماری ریاست۔ اور کون سی ریاست؟ “
۔
”سنیں جناب! میرے نو بچے ہیں، ان میں سے چھہ کماؤ ہیں۔ اپنی بھیک خود کماتے ہیں۔ باقی تین چھوٹے ہیں، لیکن ماں ‌ کے ساتھ جاتے ہیں، ان کی آمدن بھی کم نہیں۔ “
میں تلملا کے بولا، ”بھیک مانگنا اچھی عادت نہیں ہے۔ اپنے ہاتھ کی کمائی سے بڑھ کے کچھ نہیں ہوتا۔ “

”پھر وہی رٹا رٹایا جملہ، جس جملے کے معنی بھی نہیں معلوم؟ ہماری ریاست تو خود بھیک مانگتی ہے۔ تفصیل بتاوں کیا، کہ کہاں کہاں، کس کس ملک بھیک کے لیے جاتے ہیں؟ اس بھیک میں سے شہریوں تک کتنا پہنچتا ہے، اس کا کوئی حساب ہے؟ جو ریاست اپنے وسائل نہیں بڑھا سکی، شہری کو اسکول، اسپتال، دوا، انصاف نہیں دے سکی، وہ شہری سے کیوں کر کہتی ہے، کم بچے پیدا کرو؟ شہری اس کی بات کیوں ‌ مانے؟ تم نے دیکھا ہے، جو جتنا غریب ہے اس کے اتنے ہی بچے ہیں۔ “

”یہی تو وجہ ہے ان کے غریب رہنے کی۔ “ جیسے مجھے نکتہ مل گیا ہو۔
”نہیں! ان کی غربت کی یہ وجہ نہیں ہے۔ وہ زیادہ بچے اس لیے پیدا کرتے ہیں، کہ ان کے کمانے والے ہاتھ بڑھیں“۔

نومبر سنہ 2018 میں لکھی گئی ظفر عمران کی یہ تحریر فیس بک سے لی گئی ہے ۔

متعلقہ مضامین