پاکستان پاکستان24

’شیخ رشید کی چھ ٹرینیں خسارے میں ہیں‘

Reading Time: 4 minutes قومی اسمبلی کی کمیٹی کے اجلاس میں سعد رفیق اور شیخ رشید کا آمنا سامنا ہوا ۔ پہلے شیخ رشید نے غلط بیانی کی پھر تسلیم کیا مگر وزارت کے حکام کی بریفنگ نے سب بتا دیا

مئی 17, 2019 4 min

’شیخ رشید کی چھ ٹرینیں خسارے میں ہیں‘

Reading Time: 4 minutes

نوشین یوسف / صحافی

پاکستان کی پارلیمنٹ کے ارکان کو بتایا گیا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت میں ریلوے کے وزیر شیخ رشید احمد کی جانب سے چلائی گئی 10 مسافر ٹرینوں میں سے چھ کو خسارے کا سامنا ہے ۔ وزارت کے حکام کی جانب سے پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق 30 اپریل تک ریلوے کو 28 ارب 62 کروڑ روپے کا خسارے کا سامنا ہے ۔

شیخ رشید نے پارلیمنٹ کی کمیٹی کے سامنے تسلیم کیا کہ ان کی چلائی گئی دھابیجی ٹرین میں صرف 22 مسافر سفر کرتے ہیں ۔


قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کے اجلاس کے آغاز میں شیخ رشید دعویٰ کرتے رہے کہ صرف دو ٹرین نقصان میں ہیں تاہم ارکان کے سوالات پر وزارت ریلوے کے حکام نے بریفنگ میں اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ 10 میں سے 6 ٹرینوں کو نقصان کا سامنا ہے ۔

وفاقی وزیر ریلوے کی شروع کی گئی 10 نئی ٹرینوں کی کارکردگی رپورٹ کمیٹی کے سامنے پیش کرتے ہوئے حکام نے بتایا کہ دھابیجی، شاہ لطیف ایکسپریس، موہنجوداڑو ایکسپریس، روہی پیسنجر، تھل میانوالی ایکسپریس، فیصل آباد نان سٹاپ اور راولپنڈی ایکسپریس شدید خسارے کا شکار ہیں ۔

رپورٹ کے مطابق صرف رحمان بابا ٹرین کو بہتر آمدن ہو رہی ہے جس میں مسافروں کی شرح 149 فیصد ہے ۔ ’سندھ ایکسپریس، فیصل آباد ایکسپریس اور جناح ایکسپریس بھی منافع بھی نہیں کما رہیں۔‘

حکام نے بتایا کہ میانولی ایکسپریس پر سفر کرنے والے مسافروں کی شرح 62 فیصد ، فیصل آباد نان اسٹاپ پر 60 فیصد، جناح ایکسپریس 53 اور راولپنڈی ایکسپریس پر 52 فیصد ہے ۔


یہ ڈیٹا پیش کیے جانے سے قبل کمیٹی کے رکن خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اگر نئی چلائی جانے والی ٹرینوں کا الگ الگ جائزہ لیں تو سب نقصان میں ہیں جس پر وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا کہ کوئی نئی ٹرین نقصان میں نہیں ہے، پھر تسلیم کیا کہ صرف دو ٹرینیں دھابیجی اور روحی پیسنجر نقصان میں ہیں ۔

شیخ رشید نے بتایا کہ دھابیجی ٹرین پر صرف 22 مسافر سفر کر رہے تھے۔

شیخ رشید کے اجلاس سے چلے جانے کے بعد وزارت ریلوے نے جو ڈیٹا پیش کیا اس کے مطابق 6 نئی مسافر ٹرین خسارے کا شکار ہیں ۔

سعد رفیق بولے کہ وزیر ریلوے نے کہا تھا کہ صرف دو ٹرینیں نقصان میں ہیں۔ ’اب ریلوے حکام خود مان رہے ہیں کہ 10 میں سے 6 ٹرینیں نقصان میں ہیں ۔ پہلی بار سنا ہے کہ کوئی ٹرین 149 فیصد پر چل رہی ہے۔‘

انہوں نے پوچھا کہ کیا نقصان والی ٹرینیں چلانا ٹھیک ہے۔ ریلوے حکام نے بتایا کہ جن نئی ٹرینوں پر نقصان ہے وہ اکانومی ہیں جن کا کرایہ بہت کم ہے ۔


وزرات ریلوے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ’موجودہ حکومت کے پہلے چھ ماہ میں مسافر ٹرینوں کی آمدن 15 ارب 19 کروڑ روپے رہی ۔ مال بردار گاڑیوں کی آمدن آٹھ ارب 62 کروڑ روپے رہی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہے ۔‘

حکام کے مطابق 30 اپریل تک ریلوے کا ریونیو 43 ارب روپے رہا جبکہ ہمارا ہدف 41 ارب روپے تھا ۔


علی پرویز ملک نے کہا کہ ٹرین کی ٹکٹوں کی قیمت میں 30 فیصد اضافہ کیا لیکن ریلوے کو تو صرف 20 فیصد منافع ہوا ۔


شیخ رشید نے کہا کہ 26 ٹرینیں چلانے کے باوجود 17 لاکھ لیٹر فیول بچایا ہے ۔ سعد رفیق بولے کہ یہ کیا جادو کی چھڑی ہے کہ ٹرینیں بھی زیادہ چلیں اور فیول بھی اتنا بچا ہے ۔ انہوں ریلوے کی وزارت کے اعلی افسر سے کہا کہ ’سیکرٹری صاحب آپ نے یہ طریقہ ہمیں نہیں بتایا تھا۔‘

سعد رفیق نے کہا کہ آئے روز جو نئی ٹرینیں چلتی ہیں ان کی فیزبلیٹی کہاں بنتی ہے، کوچز کہاں سے آتی ہیں۔
’آپ کو 15 فیصد ٹرین کی کوچز فارغ رکھنی ہوتی ہیں ، لیکن اس وقت ایک بھی کوچ فارغ نہیں پڑی ۔ ٹرینوں کی تاخیر بھی اس لیے ہو رہی ہے کیونکہ آپ نے فارغ کوچز سے نئی ٹرینیں چلا دیں۔‘

وزارت ریلوے کی تفصیلی رپورٹ کا عکس

ان کا کہنا تھا کہ مسافر ٹرینوں کا تناسب بڑھتا جا رہا ہے، مال گاڑیاں کم ہوتی جا رہی ہیں ۔ دنیا میں کہیں بھی یہ اچھا رجحان نہیں سمجھا جاتا ۔


شیخ رشید احمد نے کمیٹی کو یہ بتایا کہ ہم اکانومی کلاس کی ٹکٹ میں اضافہ ہر گز نہیں کریں گے ۔ صرف اے سی ٹرینوں اور ایلیٹ کی ٹرین کی ٹکٹ بڑھائیں گے ۔
وزارت ریلوے کے حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ 30 اپریل تک پاکستان ریلوے کو 28 ارب 62 کروڑ روپے کا خسارے کا سامنا ہے ۔

حکام کے مطابق ’ریلوے نے 30 اپریل تک 43 ارب ریونیو کمایا، جبکہ اخراجات 72 ارب روپے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ریلوے کو 30 ارب روپے کی سبسڈی بھی دی گئی ۔‘

Array

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے