نالائق جج عذاب بن جاتا ہے، فواد چودھری

پاکستان کے وفاقی وزیر برائےسائنس و ٹیکنالوجی فواد چوھدری نے کہا ہے کہ نالائق جج عذاب بن جاتا ہے اس لیے اعلی عدلیہ میں ججوں کے تقرر کے طریقر کار کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔

ٹوئٹر پر اپنے بیان میں وفاقی وزیر نے لکھا ہے کہ ’افتخار چوہدری سپریم کورٹ کے صرف دو فیصلوں کے نتیجے میں وکیلوں کو 100 ملین ڈالر فیسیں ادا کرنے کے بعد اب پاکستان کو 1.4 بلین ڈالر کے جرمانے کا سامنا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’احتساب ان جیسے ججز کا بھی ہونا چاہئے، نالائق جج ایک بہت بڑا عذاب بن جاتا ہے اس لئے ججز کے تقرر کا طریقہ بدلنے کی ضرورت ہے ۔‘

خیال رہے کہ فواد چوھدری کا یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک کے اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کابینہ کے اجلاس کو بریفنگ میں بتایا تھا کہ عالمی سطح پر ثالثی عدالتوں میں ریاست پاکستان کو ایک ارب ڈالر جرمانے کا سامنے کرنا پڑ سکتا ہے اور حکومت نے وکیلوں کو انٹرنیشنل فورمز پر 100 ملین ڈالرز فیس ادا کی ہے ۔

 اٹارنی جنرل نے تجویز دی تھی کہ حکومت ایک ایسا کمیشن تشکیل دے جو ان ذمہ داروں کو تلاش کرے جن کی وجہ سے پاکستان کو عالمی ثالثی فورمز پر مقدمات ہارنے کی صورت میں اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔ ان کے مطابق زیادہ تر ثالثی کے مقدمات پاکستان کی عدلیہ کے فیصلوں کی وجہ سے بنائے گئے ۔

اٹارنی جنرل نے کابینہ کو بتایا تھا کہ پاکستان کو اس وقت عالمی طور پر تین مختلف قسم کے تنازعات پر ثالثی فورمز میں فریق بنایا گیا ہے۔ ان میں سے ایک معاہدوں یا کمرشل تنازعات کا ہے، دوسرے عالمی معاہدوں سے متعلق تنازعات ہیں جبکہ تیسرے قومی سلامتی سے متعلق مقدمات ہیں ۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ریکوڈک ذخائر، کارکے جہاز، بجلی کے نجی کارخانے اور ایران پاکستان گیس پائپ لائن جیسے مقدمات پہلی قسم میں آتے ہیں جن کا عالمی فورمز پر سامنا ہے ۔ ان کے معاشی اثرات ہو سکتے ہیں جبکہ دوسری طرف سندھ طاس معاہدے، کلبھوشن جادیو کیس اور سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ مقدمات عالمی عدالتوں میں ہیں جو پاکستان کی قومی سلامتی سے متعلق ہیں ۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف قانونی چارہ جوئی میں تیزی آئی ہے اور گذشتہ تین برس میں پاکستان کے خلاف دائر مقدمات کی تعداد چھ سے بڑھ کر 45 ہو گئی ہے ۔ اٹارنی جنرل نے کابینہ کو ان مقدمات کی وجوہات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی وجہ پاکستانی عدلیہ کے فیصلے، عالمی طور پر کیے وعدوں کی عدم تکمیل اور کمزور طریقے سے کیے گئے معاہدے ہیں ۔

اٹارنی جنرل انور منصور خان

انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر قانونی چارہ جوئی پر اب تک دس کروڑ ڈالر خرچ کر چکا ہے اور صرف موجودہ تحریک انصاف کی حکومت میں وکیلوں کو ایک کروڑ ڈالر کی فیس ادا کی گئی ہے ۔

اٹارنی جنرل کی بریفنگ کے مطابق پاکستان کو اس وقت صرف تین مقدمات میں عالمی سطح پر ایک ارب 66 لاکھ ڈالرز کے جرمانے کا سامنا ہے جس میں سے 900 ملین ڈالرز کارکے جہاز کیس، 145 ملین ڈالرز بجلی کے 9 نجی کارخانوں کے مقدمے اور 21 ملین ڈالر نیب کے خلاف برطانوی فرم براڈ شیٹ کا کیس ہارنے کی صورت میں ادا کرنے پڑ سکتے ہیں ۔

انہوں نے کابینہ کو بتایا کہ پاکستان کے خلاف گیارہ ارب 57 کروڑ ڈالرز کے دعوے عالمی سطح پر مختلف فورمز پر ابھی زیر التوا ہیں ۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ریکوڈک ذخائر معاہدے سے نکالے جانے والی ٹیتھیان کاپر کمپنی نے پاکستان کے خلاف گیارہ ارب ڈالر کا دعوی دائر کیا ہے ۔

انہوں نے کہا تھا کہ بجلی بنانے والی کئی دیگر نجی کمپنیوں نے بھی پاکستان کے خلاف عالمی ثالثی سے رجوع کیا ہے اور 300 ملین ڈالرز کے دعوے دائر کیے ہیں ۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ’پاکستان کے دفتر خارجہ کے پاس بھی عالمی قوانین کا کوئی ماہر موجود نہیں اس لیے ان کو بھی ہم رجوع کرنا پڑتا ہے۔

اٹارنی جنرل نے کابینہ کو بتایا تھا کہ ’عالمی ثالثی میں پاکستان کے مقدمات جیتنے کی کارکردگی فی الوقت تسلی بخش ہے اور اور گذشتہ چھ برس میں 16 میں سے 13 کیسز کے فیصلے ہمارے حق میں آئے ہیں ۔‘

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے