نیب چیئرمین کا اعتراف جرم

کالم نگار اور اینکر جاوید چودھری نے روزنامہ ایکسپریس میں 16 اور17 مئی کو ’’چیئرمین نیب سے ملاقات‘‘ کے عنوان سے دو قسطوں پر مشتمل کالم نما انٹرویو شائع کیا ہے ۔ بظاہر اس کالم کے ذریعے چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کو ایک ایماندار، دیانتدار، شریف النفس، ولی کامل، فرشتہ صفت انسان بلکہ پاکستان میں احتساب کی آخری امید کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے مگر چور کتنا ہی ہوشیار کیوں نہ وہ کہیں نہ کہیں کھرا چھوڑ تا ہے ۔

جاوید چودھری اپنے کالم نما انٹرویو لکھتے ہیں کہ ’’اگر اس کالم کو سری سری پڑیں تو واقعی مذکورہ بالا صفات محسوس ہوتی ہیں مگر باریک بینی اور عقل شعور سے پڑھیں تو یہ ’’چئیر مین نیب کا اعتراف جرم ہے‘‘۔ مثلاً ایک جگہ کالم نگار لکھتا ہے کہ [’’میرے لئے چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کا یہ انکشاف حیران کن تھا‘ وہ فرما رہے تھے ”مجھے میرے ایک عزیز کے ذریعے پیشکش کی گئی آپ نیب سے استعفیٰ دے دیں‘ آپ کوسینیٹر بنا دیا جائے گا اور آپ پھر کچھ عرصے بعد صدر پاکستان بن جائیں گے“ وہ خاموش ہو گئے‘ میں نے پوچھا ”آپ کو یہ آفر کس نے دی اور کب دی“ وہ مسکرا کر بولے ”یہ میں آپ کو چند دن بعد بتاوں گا“ میں نے اصرار کیا تو ان کا جواب تھا ”یہ پچھلی حکومت کے آخری فیز میں ہوئی تھی“۔میں نے پوچھا ”کیا یہ واحد پیشکش تھی“ بولے ”نہیں‘ مجھے اس سے پہلے بھی ایک پیشکش ہوئی تھی‘ مجھے کہا گیا تھا آپ مستعفی ہو جائیں‘ آپ دنیا میں۔جہاں کہیں گے آپ کو وہاں سیٹ کر دیا جائے گا“ میں نے پوچھا ”لیکن آپ کے استعفے سے کسی کو کیا فائدہ ہوتا؟“ وہ بولے ”میں اگر مستعفی ہو جاتا تو چیئرمین نیب کی کرسی خالی ہو جاتی‘الیکشن سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان شدید اختلافات تھے‘ دونوں میں نئے چیئرمین کےلئے اتفاق رائے نہ ہوپاتا اور یوں آج کے بے شمارمجرموں کے خلاف انکوائریاں رک جاتیں“۔میں نے پوچھا ”آپ کا کیا جواب تھا“ وہ ہنس کر بولے ”جواب واضح تھا‘ میاں نواز شریف اس وقت جیل میں ہیں اور میں آج بھی چیئرمین کی کرسی پر بیٹھا ہوں‘‘] اس پیراگراف پر غور کریں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ عام انتخابات کی شفافیت کو روکنے اور عوام کو گمراہ کرنے کے لئے الیکشن سے قبل نواز شریف کو سزادینے کا فیصلہ ہوچکا تھا اور چئیرمین نیب اس منصوبے میں نہ صر ف ایک فریق بلکہ بنیادی سہولت کار تھے۔ اگر اس وقت حالات ، جلدی بازی اور پھرتیوں پر غور کریں اور موصوف کے اعتراف کو دیکھے تو پوری طرح بات واضح ہوتی ہے کہ اب الیکشن چورکرنے کا موصوف نے اعتراف کیا ہے۔

کالم نگار لکھتا ہے کہ نیب کے چئیر مین نے کہا کہ [’’یہ تمام لوگ مجھے برداشت کرنے کےلئے تیار نہیں ہیں“ میں نے پوچھا ”کیا موجودہ حکومت بھی آپ کے ساتھ خوش نہیں“ یہ ہنس کر بولے ”یہ بھی مجھ سے خوش نہیں ہیں‘ یہ بھی چاہتے ہیں عمران خان کا ہیلی کاپٹر کیس بند ہو جائے‘ بابراعوان کا ریفرنس‘ علیم خان اور فردوس عاشق اعوان کے خلاف تفتیش اور سب سے بڑھ کر پرویز خٹک کے خلاف مالم جبہ کی غیرقانونی لیز کی انکوائری رک جائے‘ پاکستان پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی قیادت مجھے ویسے ہی اپنا دشمن نمبر ون سمجھتی ہے‘ لینڈ گریبرز بھی میرے خلاف ہیں اور ریاستی ادارے بھی خوش نہیں ہیں‘ یہ سب مل کر اب دبائوبڑھانے کا کوئی آپشن نہیں چھوڑ رہے‘‘]
موصوف جب خود تسلیم کرچکے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی والے ان کو دشمن سمجھتے ہیں ، اس کا مطلب یہ ہے کہ باقی دوست سمجھتے ہیں ۔ لہذا موصوف کی دوستوں کے متعلق رائے تو درست ہوسکتی ہے مگر ’’دشمنوں کے بارے میں رائے ‘‘ کے حوالے سے موصوف کی بات بغیر کسی دلیل اور ثبوت کے جوابی دشمنی ہی تصور کی جائے گی۔

کالم نگار کہتا ہے کہ [’’ میں نے پوچھا ”مالم جبہ کا ریفرنس کب دائر ہو گا اور کیا پرویز خٹک بھی گرفتار ہوں گے“ جسٹس جاوید اقبال نے پورے یقین کے ساتھ جواب دیا ”یہ اب چند دن کی بات ہے‘ ریفرنس مکمل ہو چکا ہے‘ آپ بہت جلد پرویز خٹک کو بھی لاک اپ میں دیکھیں گے بس مجھے صرف ایک خطرہ ہے“ وہ رکے اور ہنس کر بولے ”میں صرف پرویز خٹک کی صحت سے ڈرتا ہوں‘ یہ اگر گرفتار ہو گئے اور انہیں اگر کچھ ہو گیا تو نیب مزید بدنام ہو جائے گا لیکن اس کے باوجود یہ ہو کر رہے گا‘ مالم جبہ کا ریفرنس تگڑا ہے‘ پرویز خٹک کو بھی اپنی کرپشن کا حساب دینا ہوگا‘‘]۔


یہاں پر چئیر مین نیب نے سابق وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا کی صحت کا مذا ق اڑھانے کے ساتھ یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ ثبوت ہونے کےباوجود وزیر دفاع کو دانستہ گرفتار نہیں کر رہے ہیں اور یہ بھی جانبداری کا واضح اعتراف ہے ۔

ایک اور جگہ کالم نگار لکھتاہے کہ چئیرمین نیب نے کہا کہ [’’آصف علی زرداری جس دن انکوائری کےلئے پیش ہوئے تھے ان کی ٹانگیں اور ہاتھ لرز رہے تھے‘ انہوں نے گرین ٹی کا کپ مانگا‘ ہمارے افسر نے پیش کر دیا‘ آصف علی زرداری نے کپ اٹھایا لیکن کپ ان کے ہاتھ میں لرز رہا تھا۔وہ اپنا دوسرا ہاتھ کپ کے نیچے رکھنے پر مجبور ہو گئے‘ وہ بڑی مشکل سے دونوں ہاتھوں کے ساتھ گرین ٹی کا کپ ختم کر پائے‘ شاید فریال تالپور کو خاتون ہونے کی وجہ سے رعایت مل جائے لیکن آصف علی زرداری نہیں بچ سکیں گے ‘‘]۔


پیپلزپارٹی کا یہ دعویٰ ہے کہ آصف علی زرداری کو ریشہ کی بیماری ہے ، یہ بات کافی عرصے سے مشہور بھی ہے اور ملاقاتوں میں بھی ایسا محسوس ہوا ہے ۔ بعض کا دعویٰ ہے کہ یہ ان کی خاندانی بیماری ہے۔ اگر پیپلزپارٹی کے رہنمائوں اور کئی صحافیوں کے مشاہدات درست ہیں تو ’’کسی بیمار کی بیماری کو مذا ق بناکر اس کو خوف سے تعبیر کرنا کیا کسی منصف کو زیب دیتا ہے ؟ اس منصف سے انصاف کی توقع کی جاسکتی ہے ؟ یہاں پر موصوف نے اعتراف کیا ہے کہ وہ جانبدار اور منتقم ہیں ۔

کالم نگار لکھتا ہے کہ [’’ میں نے عرض کیا ”وفاقی وزراءبار بار این آر او کی بات کر رہے ہیں‘ کیا میاں برادران کی طرف سے این آر او یا رعایت کی درخواست کی گئی“ وہ رکے‘ چند سیکنڈ سوچا اور پھر جواب دیا ”میاں شہباز شریف کی طرف سے ایک پیشکش آئی تھی‘ یہ سیاست سے ریٹائر ہونے اور رقم واپس کرنے کےلئے تیار تھے لیکن ان کی تین شرطیں تھیں“۔ یہ رکے اوربولے ”یہ رقم خود واپس نہیں کرنا چاہتے تھے‘ ان کا کہنا تھا کوئی دوسرا ملک پاکستان کے خزانے میں رقم جمع کرا دے گا‘ دوسرا انہیں کلین چٹ دے دی جائے اور تیسرا حمزہ شہباز کو پنجاب کا وزیراعلیٰ بنا دیا جائے“ وہ رکے اور بولے ”۔۔’’ وہ رکے اور بولے ”میاں نواز شریف اور ان کا خاندان بھی اس قسم کے ارینجمنٹ کےلئے تیار تھا“ وہ خاموش ہو گئے‘ میں نے پوچھا ”سر میاں برادران نے یہ پیشکش کس کے ذریعے کی‘ کس کو کی اور کب کی“ وہ فوراً بولے ”یہ میں آپ کو چند دن میں بتاوں گا“ میں نے ہنس کر عرض کیا ”آپ ہر سوال کے جواب میں چند دن کہتے ہیں‘ آپ چند دن میں کہیں مستعفی تو نہیں ہو رہے؟“ وہ ہنس کر بولے ”میں خود نہیں بھاگوں گا‘ میں اپنی مدت پوری کروں گا باقی جو اللہ کرے‘‘] موصوف کی یہ بات کس حد تک درست ہے ، اس کا ا بہتر جواب تو میاں برادران خود ہی دے سکتے ہیں ۔ لیکن کیا یہ ممکن نہیں کہ ایک شخص اپنے دشمن کو بدنام یا کمزور کرنے کے لئے اس طرح کا پروپیگنڈا کرے ؟

کالم نگار لکھتا ہے کہ [’’وہ رکے اور ذرا سا سوچ کر بولے ”تاہم یہ درست ہے ہم اگر آج حکومت کے اتحادیوں کو گرفتار کر لیں تو یہ حکومت دس منٹ میں گر جائے گی لیکن خدا گواہ ہے ہم یہ حکومت کےلئے نہیں کر رہے‘ہم یہ ملک کےلئے کر رہے ہیں‘ ہمارے ایک قدم سے ملک میں خوفناک بحران پیدا ہو جائے گا‘ ملک کو نقصان ہو گا اور ہم یہ نہیں چاہتے“ میں نے پوچھا ”کیا حکومت اپنے اتحادیوں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے“ وہ ہاں میں سر ہلا کر بولے ”یہ ان کی خواہش ہے لیکن میں حکومت کے دبائومیں نہیں ہوں‘ میں صرف ملک کے مفاد میں خاموش ہوں لیکن اس کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں انکوائری یا ریفرنس تیار نہیں ہو رہے۔ نیب کی تیاری مکمل ہے‘جلد یا بدیر حکومت کے اتحادیوں کے خلاف بھی کارروائی ہو گی‘‘] اس حصے میں موصوف معترف ہیں کہ وہ حکومت کے اتحادیوں کی خلاف کارروائی حکومت گرنے کے خوف سے نہیں کر رہے ہیں ۔ یہ اعتراف ہے کہ اس وقت ایک نہیں انصاف کت دو پیمانے ہیں ۔ ایک اپوزیشن اور دوسرا حکومت کے لئے ۔ پھر خان صاحب کی چئیرمین نیب سے ملاقاتوں کو بھی مد نظر رکھا جائے تو صورتحال واضح ہوتی ہے کہ نیب چئیرمین قومی ادارے کے نہیں بلکہ کسی جماعت کے شعبے کے سربراہ ہیں اور ان سے انصاف کی توقع نہیں ۔ موصوف کی گفتگو کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے سوا تمام حکومت مخالفین بالخصوص ن لیگ اور پیپلزپارٹی والے محب وطن نہیں ہے ، یعنی غداری کا سرٹیفکیٹ !!
انٹرویو کے باقی نکات بھی قابل غور ہیں

خلاصہ یہ ہے کہ جاوید چودھری نے غلط بیانی سے کام لیا ہے یا پھر چئیرمین نے یہ طے کرلیا ہے کہ قومی آئینی ادارے کو تحریک انصاف کا ذیلی ونگ کے طور پر چلانا ہے ۔ انہوں نے انٹرویومیں جو کچھ کہا ہے اس کی اجازت قانون اور آئین نہیں دیتا ہے اور کیا کوئی آئنی ادارے کا سربراہ جو اعلیٰ عدلیہ کا سابق چیف جسٹس رہ چکا ہو کیا وہ اتنی غیر محتاط گفتگو کرسکتا ہے ؟؟ اور اگر کی ہے تو پھر اس کو منصف کہا جاسکتا ہے ؟؟۔ اگر انصاف ہو تو یہ موصوف نے اپنے حلف سے انحراف کیا ہے جو قابل تعزیر جرم ہے۔

متعلقہ مضامین