بگ سیف -ورلڈکپ جیتنے کا فارمولا!

باسط سبحانی ۔ سپورٹس ایڈیٹر

1975 میں پہلا ورلڈ کپ کھیلا گیا۔ ون ڈے کرکٹ کا ابتدائی دور تھا۔ ٹیسٹ کرکٹ میں عمومی طور پر بیٹسمین کافی وقت لے کر رنز جوڑا کرتے تھے لیکن ون ڈے کرکٹ کی طرز نے تبدیلی کا عمل شروع کرا دیا۔

یہ وہ دور تھا جب ویسٹ انڈیز کو کالی آندھی سے تشبیہ دی جاتی تھی جس کی ایک بڑی وجہ ان کی پیس بیٹری تھی۔ اینڈی رابرٹس، مائیکل ہولڈنگ، جوئیل گارنر اور کولن کرافٹ پر مشتمل یہ باؤلنگ اٹیک کسی بھی بیٹنگ سائیڈ کے لئے ایک ڈراونے خواب سے کم نہ تھا۔

آسٹریلیا کے ڈینس للی اور جیف تھامسن بھی دنیا بھر میں خوف کی علامت بن چکے تھے۔ ون ڈے کرکٹ میں کم گیندوں پر زیادہ رنز بنانے کے تقاضے نے بیٹسمینوں کو بھی چالاکیاں سکھا دیں تھیں۔ خاص طور پر ایشیائی کنڈیشنز میں ون ڈے میچوں میں فاسٹ باؤلرز اتنے کارگر نہیں ثابت ہو رہے تھے۔ ویوین رچرڈز، جاوید میانداد اور گریگ چیپل جیسے چالاک بیٹسمینوں نے یہ جان لیا تھا کہ اگر شروع کے چند اوورز وکٹ بچا کر چاہے کم رنز بنائیں کام بن جائے گا۔ چونکہ گیند پرانا ہونے کے بعد اتنا سوئینگ نہیں کرتا تو بیٹسمین کھلے رنز بنا سکتا ہے۔ اس اسٹیٹرجی نے بولرز کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔

اس کا توڑ بالآخر پنجاب کے گبرو جوان سرفراز نواز نے نکال لیا۔ سرفراز نواز یکم دسمبر 1948 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ 1969 کو انگلینڈ کے خلاف انہیں ٹیسٹ کیپ سے نوازا گیا۔ سرفراز ابتدائی دنوں میں زیادہ تر ان سوئنگ کٹرز پر ہی انحصار کرتے تھے۔ سوئنگ تو بہت خوب کرتے تھے مگر بہتر سے بہتر ہونے کے جنون میں وہ گھنٹوں پریکٹس کرتے۔

سرفراز نواز نے مجھے اے ٹی وی میں 2012 کی ایک سردیوں کی شام تفصیلی نششت میں بتایا تھا کہ مزنگ لنک کرکٹ کلب میں سخت محنت کے بعد آخرکار ان کو گیند کو دونوں جانب سوئینگ کرنے کا فن آ ہی گیا۔ گیند کی چمک صرف ایک سائیڈ پر رکھ کر وہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہونا شروع ہوگئے۔ ایک دن انہوں نے کافی پرانی گیند کی ایک سائیڈ کو خوب چمکایا تو گیند حیرت انگیز طور پر سوئینگ ہوا۔ پھر گیند کی دونوں جانب رف حالت تھی، جب سرفراز نے ایک سائیڈ چمکائی تو گیند چمکنے والی طرف سوئینگ ہوا۔

باسط سبحانی کی سرفراز نواز سے ملاقات کی ایک تصویر

سرفراز نواز نے ‘ریورس سوئینگ’ کی جدت اپنی بولنگ میں لا کر دنیا کے چوٹی کے بیٹسمینوں کو مشکل میں ڈال دیا۔ جب گیند ریورس سوئینگ ہوتی تو ان کے پاس کوئی جواب نہ ہوتا۔ 1974-75 میں سرفراز کو یہ احساس ہو چکا تھا کہ عمران خان ان کے بولنگ پارٹنر ہوں گے۔ سرفراز نے عمران کو یہ گر سکھائے جس کے بعد دونوں نے مل کر کئی یادگار بولنگ سپیل کئے۔ یہی آرٹ بعد میں عمران خان نے وسیم اکرم اور وقار یونس کو بھی منتقل کر دیا۔ وسیم وقار نے تو مل کر سب کا بھرکس نکال دیا، ریورس سوئینگ اور ساتھ میں ڈیڈلی یارکرز!

انگلینڈ کے 1992 ٹیسٹ ٹور میں میزبان ٹیم کا جو حشر ہوا، انگلش بیٹسمینوں نے رونا پٹنا شروع کر دیا۔ بال ٹیمپرنگ کے الزامات لگائے گئے۔ بڑا شور مچا اور پھر دنیا کو احساس ہوا کہ اس کا حل رون پٹن دے بجائے ایہی گر سکھن چ اے۔

آہستہ آہستہ دنیا بھر کے فاسٹ بولرز ریورس سوئینگ کا آرٹ وسیم وقار کی وڈیوز دیکھ کر پرفیکٹ کرنے لگ گئے۔ ٹو ڈبلیوز کے جانے کے بعد شعیب اختر، عمر گل اور محمد آصف بھی پاکستان کے لئے کامیابیاں حاصل کرتے رہے۔ سنہ 2011 ورلڈ کپ کے بعد یہ تینوں بولرز مختلف وجوہات کی بنا پر پاکستان کرکٹ ٹیم کا حصہ نہیں رہے۔

پاکستان کی چند سال سے ون ڈے کرکٹ میں واجبی پرفارمنس کی وجہ موجودہ پاکستان فاسٹ بولرز کا یہ گر آزمانے کا فقدان بھی ہے۔
2018-9 میں پاکستانی فاسٹ بولرز بلکہ میڈیم پیسرز کہا جائے تو بالکل مناسب ہوگا متاثر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

حالیہ دورے میں انگلینڈ کے میدانوں میں توقعات کے برعکس میڈیم پیسرز کو کنڈیشنز اور وکٹوں سے کوئی سپورٹ نہیں ملی اور شاید ورلڈ کپ 2019 میں اکثر وکٹیں اور کنڈیشنز ایسی ہی ملیں گی ۔ ایسے میں بگ سیف فارمولا ہی چلے گا۔ ساغر بھائی یہی فارمولا اپلائی کر کے پاکستان کرکٹ ٹیم کا مقدر بدلوا سکتے ہیں۔

تجربہ کار محمد عامر یا وہاب ریاض ہوں؛ نوجوان سینسیشن شاہین آفریدی و محمد حسنین یا پھر چیمپیئنز ٹرافی کے ہیرو حسن علی؛ کامیابی کا راز بگ سیف فارمولے میں ہی پوشیدہ ہے۔ پھر نہ کہنا خبر نہیں ہوئی!

اضافی نوٹ: ”بگ سیف“سرفراز نواز اور ”ساغر“ بولنگ کوچ اظہر محمود کا نک نیم ہے۔
———

باسط سبحانی کا یو ٹیوب کرکٹ شو "گگلی” www.youtube.com/basitsubhani پر سبسکرائب کر کے دیکھا جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے