”ظفرکمال اور ڈولی“

آپ ظفر کمال کو دیکھ لیں۔ آپ ان کی زندگی پر نظر دوڑائیں۔ آپ حیران رہ جائیں گے۔ یہ فلاسفر، دانشور، حکیم، شاعر، مصنف، پریمی اور منصف ہیں۔ ایک بندے میں اتنی خوبیاں شاذو نادر دیکھنے کو ملتی ہیں۔ پولینڈ کی کہاوت ہے کہ ہر صدی میں ایسے دو انسان ہوتے ہیں جن میں یہ خوبیاں موجود ہوں۔ ہم برصغیر کو دیکھیں۔ ہم جان جائیں گے کہ پچھلی صدی میں علامہ اقبال ایسی شخصیت تھے اور اس صدی میں جناب ظفر کمال۔ یہ لاہور کے مضافات میں سپاہیانوالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کی زندگی جدوجہد سے عبارت ہے۔ یہ بچپن سے ہی خوبصورت اور ذہین تھے۔ سکول میں اساتذہ ان سے بہت محبت کرتے تھے۔ ہر جماعت میں یہ بآسانی پاس ہوجاتے۔ کالج اور یونیورسٹی میں بھی ان کی ذہانت اور حسن کے چرچے تھے۔ یہ جب آنکھوں میں سُرمہ لگاتے۔ بالوں میں چنبیلی کا تیل لگا کر پٹیاں جما کر باہر نکلتے تو لوگ انگلیاں منہ میں داب لیتے۔

ایجوکیشن کمپلیٹ کرنے کے بعد یہ سرکاری افسر بن گئے۔ ان کی فرض شناسی، معاملہ فہمی نے ہر طرف دھوم مچا دی۔ یہ افسر بن کر بھی سپاہیانوالہ کو نہیں بھولے۔ یہ ہر ویک اینڈ پر وہاں جاتے۔ یہ سپاہیانوالہ کی پنچائت کے سر پنچ بھی ہوگئے۔ یہ لوگوں کے جھگڑوں اور لڑائیوں میں منصف بن گئے۔ یہ کبھی انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے۔ فریقین ان کا فیصلہ ہنسی خوشی قبول کرتے۔ یہ ہر ویک اینڈ پر واپس آتے تو ان کے سکوٹر کی ٹوکری اور پچھلی سیٹ مختلف چیزوں سے لبالب بھری ہوتی۔ کوئی ان کو مرغیاں دے جاتا۔ کوئی ہدوانے اور گنے دے جاتا۔ کوئی دیسی گھی اور کوئی پنجیری۔ لوگ ان کو نقد نذرانے بھی دیتے۔ ان کی جیب بھر جاتی۔ یہ درویش طبیعت کے تھے۔ یہ پیسے اپنے پاس نہیں رکھتے تھے۔ یہ انہیں اپنے چپراسی کے اکاؤنٹ میں جمع کرا دیتے۔ چپراسی کا نام عنایت اللہ تھا۔ یہ میانوالی کے علاقے عیسی خیل کا رہائشی تھا۔ ظفر کمال کو اس سے خاص انسیت تھی۔ یہ اسے کبھی ماتحت نہیں سمجھتے تھے۔ یہ اسے کبھی کبھار سکوٹر پر بٹھا کر راوی کنارے بھی لے جاتے۔ یہ دونوں گھنٹوں راوی کنارے جنگلات میں چہل قدمی کرتے ۔ یہ گنے بھی چوپتے ۔ یہ چھلیاں بھی کھاتے۔

ایک دن ظفر کمال کی لائف میں ایک دم چینج آگیا۔ یہ ویک اینڈ پر سپاہیانوالہ میں پنچائت اٹینڈ کرنے گئے۔ پنچائت میں خلاف معمول رش زیادہ تھا۔ یہ سرپنچ کی کرسی پر جا کر بیٹھے تو سب خاموش ہوگئے۔ اچانک ایک جوان العمر دوشیزہ اٹھی۔ سَرو قد۔ کتابی چہرہ۔ میدہ شہاب رنگت۔ بھرے بھرے ہونٹ۔ بادامی آنکھیں۔ گولائیوں اور قوسوں میں تِرشا سراپا جسے ریشمی چادر بھی چھپانے میں ناکام تھی۔ دوشیزہ نے ظفر کمال کی طرف دیکھا اور یوں مخاطب ہوئی،

"میرا نام ڈولی جوئیہ ہے۔ میرے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے۔ دشمنوں نے میرے شوہر کو جھوٹے الزام میں پھنسا کر گرفتار کرا دیا ہے۔ تھانے میں کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ کسی نے آپ کا ذکر کیا کہ ظفر کمال کے پاس جاؤ۔ انصاف ملے گا”۔

ظفر کمال کی نظریں بے اختیار جھک گئیں۔ یہ باعزت اور شرم حیا والے انسان تھے۔ یہ کبھی کسی کی دھی بہن کو غلط نظروں سے نہیں دیکھتے تھے۔ ظفر کمال نے ڈولی جوئیہ کو تسلی دی اور کہا کہ اس کے ساتھ ضرور انصاف ہوگا۔ انہوں نے ڈولی کو اگلے منگل اپنے دفتر آنے کا کہا۔

ڈولی جوئیہ اور اس کا شوہر طارق حفیظ فراڈئیے تھے۔ یہ مالدار ادھیڑ عمر مردوں کو ڈولی کے جال میں پھنسا کر بلیک میل کرتے تھے۔ ڈولی فون پر ان کے ساتھ گندی باتیں کرتی تھی۔ یہ ساری کالیں ریکارڈ کر لیتے تھے۔ یہ بعد میں ان لوگوں کو بدنام کرنے کی دھمکی دیتے تھے۔ یہ ان کو لوٹ لیتے تھے۔ ظفر کمال ان کا نیا شکار تھا۔ منگل والے دن ڈولی ڈیپ کٹ کی سکائی بلیو پرنٹڈ شرٹ اور بلیک ٹراؤزر میں ملبوس، ڈارک گلاسز لگائے ظفر کمال کے دفتر میں جا پہنچی۔ عنایت اللہ نے ڈولی کو دیکھا تو اس کی فوک وزڈم نے الارم بجا دیا۔ وہ سمجھ گیا کہ یہ عورت خطرناک ہے۔ وہ ظفر کمال کو خبردارکرنا چاہتا تھا لیکن اسی اثناء میں ڈولی دفتر میں داخل ہو چکی تھی۔ ظفر کمال ڈولی کو اس حلیے میں دیکھ کر حیران رہ گئے۔ یہ ڈولی اس پنچائت والی ڈولی سے بالکل مختلف تھی۔ ظفر کمال نے ڈولی کو بیٹھنے کو کہا۔ ڈولی اک ادائے ناز سے آگے کو جھکی اور ایسے کرسی پر بیٹھی کہ ظفر کمال کی نظریں ڈولی کی شرٹ میں الجھ کر رہ گئیں۔

ظفرکمال نے عنایت اللہ کو بلا کر چائے لانے کو کہا اور ڈولی کی طرف متوجہ ہو کر بولے کہ بتائیے آپ کا مسئلہ کیا ہے۔ ڈولی نے گلاسز آنکھوں سے ہٹا کر سر کے بالوں میں اٹکائے۔ کرسی کی پشت سے سر ٹکایا اور ٹھنڈی سانس لے کر سیدھی ہوئی۔ اس کی آنکھوںمیں آنسو تھے۔ اس نے کہا کہ اس کی محبت کی شادی تھی۔ لیکن بعد میں پتہ چلا کہ اس کا شوہر ایک دھوکے باز ہے۔ یہ اس کو مالدار مردوں سے افئیر لڑانے پر مجبور کرتا ہے تاکہ ان سے پیسے اینٹھے جا سکیں۔ ڈولی کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ اس نے میز پر پڑے ٹشو باکس سے ٹشو نکالا۔ گال اور ناک صاف کیا۔ ظفر کمال کی طرف محبت بھری نظروں سے دیکھا اور کہا کہ مجھے آپ سے بہت امید ہے کہ آپ مجھے اس شیطان کے چنگل سے بچا سکتے ہیں۔ پلیز میری ہیلپ کریں۔ میں کبھی بھی آپ کا احسان نہیں بھولوں گی۔ یہ کہہ کر ڈولی بلک بلک کر رونے لگی۔ ظفر کمال بے اختیار ہو کر کرسی سے اٹھے اور ڈولی کے قریب جا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ ڈولی نے ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہونٹوں پر رکھا اور اسے چوم کر کہنے لگی،

"ظفر مجھے اس سے بچا لو۔ میں جانتی ہوں میں تمہارے لائق نہیں لیکن میں ساری زندگی تمہاری باندی بن کے رہوں گی۔ تم جو کہو گے میں وہ کروں گی”۔

یہ کہہ کر ڈولی اٹھی اور ظفر کمال کے فراخ سینے میں سما گئی۔ وقت جیسے تھم سا گیا ہو۔ ڈولی کا گداز سراپا ظفر کمال کو کسی اور ہی دنیا میں لے گیا جو عنایت اللہ کی دنیا سے قطعی مختلف تھی۔ اسی لمحے ظفر کمال نے فیصلہ کیا کہ وہ ڈولی کے لیے کچھ بھی کرے گا۔ ظفر کمال کی زندگی میں عزت، شہرت، مرتبہ، مقام سب کچھ تھا صرف محبت نہیں تھی۔ ڈولی نے اسے محبت سے بھی آشنا کر دیا۔ ظفر کمال اور ڈولی کی ملاقاتیں ہونے لگیں۔ اب ظفر کمال راوی کنارے جنگلات میں ڈولی کو لے کر گھنٹوں گھومتے رہتے۔ یہ ڈولی کو لمبی لمبی فون کالز بھی کرتے۔ یہ اس کے لیے شاعری بھی کرنے لگے۔ یہ ڈولی کو مجبور کرنے لگے کہ طارق حفیظ سے طلاق لے کر ان سے شادی کرلے۔ ڈولی اس موضوع پر ظفر کمال کو طرح دے جاتی۔ یہ کہتی کہ پہلے اس کو باہر آنے دیں۔ میں اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ کر سکتی ہوں۔ ویسے بھی میرا سب کچھ تو آپ کا ہے شادی کی کیا ضرورت ہے؟ یہ کہہ کر ڈولی ایک ادا سے ظفر کمال کی طرف دیکھتی تو وہ گھائل ہو کر رہ جاتے۔

بالآخر ظفر کمال کی کوشش سے طارق حفیظ رہا ہو گیا۔ ڈولی اس کے ساتھ ظفر کمال کے دفتر آئی۔ دونوں بہت خوش نظر آرہے تھے۔ ظفر کمال یہ دیکھ کر کٹ کے رہ گئے۔ ان کا دل ملول ہوگیا۔ ان کو ڈولی سے یہ امید نہیں تھی۔ ڈولی نے ظفر کمال کے چہرے سے ان کے دلی حالت کا اندازہ لگا لیا۔ یہ ان کی طرف دیکھ کر طنزیہ انداز میں مسکرائی اور بولی، "ظفر صاحب! میرا پیچھا چھوڑ دیں۔ میں جو حاصل کرنا چاہتی تھی وہ مجھے مل گیا ہے۔ اگر آپ نے دوبارہ مجھے تنگ کرنے کی کوشش کی تو آپ کی فون کالز کی ریکارڈنگز میرے پاس موجود ہیں۔ راوی کنارے والی بہت سی تصاویر بھی ہیں۔ یہ سب روزنامہ 69 میں چھپ جائیں گی۔ آپ کسی کو منہ دکھانے لائق نہیں رہیں گے۔ آج کے بعد میرا آپ کا کوئی تعلق نہیں۔ آپ نے میری جو مدد کی اس کا صلہ میں آپ کو ساتھ ساتھ دیتی رہی ہوں۔ ہمارا آپ کا حساق بے باق ہوا”۔

یہ کہہ کر ڈولی اٹھی، طارق حفیظ کا ہاتھ پکڑا اور دفتر سے نکل گئی۔ ظفر کمال اپنی سیٹ پر دل شکستہ اور دم بخود حالت میں بیٹھے تھے۔ ان کی دنیا اچانک اندھیر ہوگئی تھی۔ عنایت اللہ آہستگی سے دفتر میں آیا۔ ظفر کمال کو دیکھا اور نم آنکھوں سے ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا۔
دل لگایا تھا دل لگی کے لیے
بن گیا روگ زندگی کے لیے


https://hal-e-dil-jafar.blogspot.com/2019/05/blog-post.html#comment-form

متعلقہ مضامین