ججز ریفرنس: وزیر قانون سرگرم مگر وضاحتیں بھی

پاکستان کی وزارت قانون اور وزیراعظم کے اثاثہ جات ضبطی یونٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس پر ایک مشترکہ وضاحت جاری کی ہے۔


وزارت قانون اور اثاثہ جات ریکوری یونٹ کی مشترکہ وضاحت میں کہا گیا ہے کہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ کو تین فاضل ججز کے بیرون ملک اثاثہ جات بارے شکایت ملی تھی جس کو مناسب اقدامات کے کے لیے وزارت قانون کو بھجوایا گیا۔

مشترکہ وضاحت کے مطابق وزارت قانون نے شکایت کے مندرجات کی تصدیق کرنے کی ہدایت جاری کیں۔

اس سے قبل پاکستان میں اعلی عدلیہ کے ججوں جسٹس قاضی فائز عیسی اور سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس کریم خان آغا کے اثاثوں پر احتساب کے فورم سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کے بعد وفاقی وزارت قانون کی جانب سے ایک ہفتے میں دو وضاحتیں سامنے آ چکی ہیں۔

اتوار کو وزارت قانون سے جاری کی گئی وضاحت میں کہا گیا ہے کہ اعلی عدلیہ کے کسی اور جج کے خلاف کوئی ریفرنس دائر کرنے کا منصوبہ زیرغور نہیں۔

وضاحت میں انگریزی روزنامے کا نام لیے بغیر خبر کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے مستقبل قریب میں چیف جسٹس بننے والی شخصیت کے خلاف بھی حکومت ریفرنس دائر کرنے پر غور کر رہی ہے۔

وزارت قانون نے اپنی وضاحت میں کہا ہے کہ ’آنے والے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی کوشش نہیں ہو رہی اور اس حوالے سے خبریں غیر ضروری تنازع پیدا کرنے کی کوشش ہے۔‘

اس دوران سپریم کورٹ میں موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر قانون نے گذشتہ ہفتے میں تین بار عدالت عظمی کے مختلف بلاکس میں موجود کمروں کا رخ کر کے ملاقاتیں کی ہیں۔

وزارت قانون کے ذرائع کے مطابق وزیر قانون فروغ نسیم ان دنوں بہت سرگرم ہیں اور انہوں نے دفتر کے ساتھ کمرے میں بیڈ لگا رکھا ہے۔

فروغ نسیم کے دن رات دفتر میں سرگرم ہونے کی وجہ سے سرکاری ملازمت کے آٹھ گھنٹے کام کرنے والے افسران تشویش کا شکار ہیں۔

ایک اعلی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’ان لوگوں کا ایجنڈا ہوتا ہے، پہلے یہ مشرف کی خدمات سرانجام دیتے تھے پھر ان کے وکیل بن گئے اور خوب مال بنایا۔ اب مستقبل کے کسی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں مگر ہم سرکاری ملازم ہیں۔ بیوی بچے ہیں ان کو بھی وقت دینا ہوتا ہے۔‘

مشترکہ وضاحت میں مزید کہا گیا ہے کہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ نے نشاندہی کی گئی پراپرٹیز کی تصدیق کرائی جس کے بعد فاضل ججز کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل بھجوایا گیا۔

وضاحت میں کہا گیا ہے کہ صدر مملکت، وزیراعظم، وزارت قانون اور اٹارنی جنرل کے اتفاق رائے سے ریفرنس بھجوایا گیا۔
مشترکہ وضاحت کے مطابق صدر مملکت، وزیراعظم، وزارت قانون اور ریکوری یونٹ آئین و قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں۔

خیال رہے کہ چند دن قبل بھی وزارت قانون کی جانب سے جاری کی گئی ایک وضاحت میں کہا گیا تھا کہ جسٹس قاضی فائز کے خلاف ریفرنس کے پیچھے وزیر قانون فروغ نسیم نہیں بلکہ یہ کام وزیراعظم کے معاون شہزاد اکبر نے کیا ہے۔‘

اس سے قبل ایوان صدر کے ذرائع نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ صدر عارف علوی بھی جسٹس قاضی فائز کے خلاف ریفرنس کے حق میں نہیں تھے مگر وزارت قانون کی جانب سے سخت الفاظ میں بھیجے گئے ریفرنس کی منظوری دیتے ہوئے اس کی زبان کو درست کیا۔

یاد رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس کے کے آغا کے خلاف صدارتی ریفرنسز پر سپریم جوڈیشل کونسل نے 14 جون کو کارروائی کے لیے نوٹس جاری کیے ہیں۔

بلوچستان بار نے صدارتی ریفرنس کے خلاف پیر تین جون کو عدالتوں کے بائیکاٹ کی کال دے رکھی ہے۔

ملک بھر میں وکلا تنظیموں نے جسٹس قاضی فائز کے خلاف صدارتی ریفرنس کو مقتدر قوتوں کی جانب سے عدلیہ پر دباؤ ڈالنے اور غیر جانبدار ججوں کو کام سے روکنے کا حربہ قرار دیتے ہوئے 14 جون کو احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔

متعلقہ مضامین