دو نہیں ایک پاکستان کا کیا بنا؟

ایک ملک ، ایک قوم، ایک اللہ ، ایک ایمان ،ایک چاند ،ایک روزہ ایک عید ۔ یہ سب دعوے محض دعوے ہی نظر اتے ہیں ۔ ۷۰ سالہ پاکستانی تاریخ میں اس قوم نے بہت سے تنازعات دیکھے، چاہے وہ فرقہ واریت ہونسلی یا پھر لسانی تفرقے۔ دیکھا جائے تو معاشرے کے افراد میں کسی مسئلے پر مختلف آرا کا پایا جانا اس معاشرے کی فکری بلندی کے لیے صحت مند عنصر ثابت ہوتا ہے ۔

دین اسلام بھی عبادات سمیت تمام معاشرتی و معاشی معاملات میں مختلف ارا رکھنے کی اجازت دیتا ہے جو شرعی اصولوں کی بنیا د پر مرتب کی جا سکتی ہے ۔ ایک معاشرے میں بسنے والے لوگ ایک ساتھ رہتے ہوئے مخلتف مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہوئے اپنے اپنے مذاہب کی تقلید کرتے دکھائی دیتے ہیں جو ایک خوش آئند عمل ،اس معاشرے اور دین کی خوبصورتی کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔

ہر سال پاکستان سمیت دنیا بھر میں رمضان اور عید کےمعاملے کو لے کر بہت سے مسائل جنم لیتے ہیں جیسے آج امریکا سمیت خلیجی ممالک میں عید ہے۔ جاپان، ملیشیا میں نہیں ہے۔

چاند ایشیا میں کہیں نظر آیا اور کہیں نہیں ۔ ان ریاستوں اور ملکوں کی جانب سے ایک اصول مرتب کر دیا گیا ہے کہ ملک میں چاند نظر آئے گا تو ہی ہم روزہ رکھیں گے یا عید منایئں گے۔

اگر ہم آج سے دوسو سال پیچھے چلے جائیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ مواصلات کا نظام کمزور تھا اور ٹیکنالوجی نے ابھی اتنی ترقی نہیں کی تھی کہ وہ ملکوں اور دور دراز علاقوں میں بھی چاند کے دیکھے جانے پر اطلاع دے سکیں پر آج یہ مسئلہ حل ہو چکا ہے ۔سائنس نے بہت ترقی کر لی ہے اور تو اور چھوٹے سے چھوٹا ملک بھی دنیا بھر کے حالات کا چند سیکنڈ میں جائزہ لے سکتا ہے ۔

تو پھر، تنازع ہے کیا ؟ ایک ہی ملک میں رہتے ہوئے آج پاکستان میں تین عیدیں اوردو رمضان منائے جا رہے ہیں۔ بنوں میں چاند دیکھے جانے کی 14 شہا دتیں ملیں ۔ پشاور میں 27 کے قریب شہادتیں ملیں،جبکہ مختلف پہاڑی علاقوں سے درجنوں سے زائد شہادتیں موصول ہوئیں۔اور تو اور وزارت سائنس ایںد ٹیکنالوجی کی جانب سے ڈیزائن کردہ ایپلیکیشن پر بھی چاند کی نمایاں تصاویر جاری کی گئیں وفاقی حکومت نے وہ بھی نظروں سے اوجھل کر دی ۔ اس طرح اس ایک بار پھر پاکستان دو سے زائد عیدوں اور رمضان میں بٹ گیا۔

سوال تو اٹھتا ہے، اگرصرف پاکستان کی بات کی جائے تو رمضان شروع ہونے پر پشاور میں پہلے شیطان بند کر دیا جاتا ہے اور باقی شہروں میں اگلے روز ؟
یوم علی کےموقع پر لاہور اور کراچی والے بعد میں سوگ منائیں اور پشاور سمیت باقی دنیا والے ایک دن پہلے ؟


نیک اعمال کے عوض ثواب ستر گناہ ہونے والی آفر سعودی عرب میں ایک دن پہلے شروع کر دی جائے گی اور پاکستان سمیت باقی دنیا میں ایک دن بعد ؟


رمضان کے بعد عید کے موقع پر شیطان عرب ممالک سمیت پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں ایک دن پہلے آزاد ہوتا ہے جبکہ اسلام آباد لاہور کراچی میں ایک دن بعد ؟


ان تمام سوالات کہ بعد صرف ایک ہی جواب ذہن میں آتا ہے ، کیا اللہ تعالیٰ کو کسی سرحد ،کسی مذہب ،کسی صوبائی و وفاقی حکومت کی ضرورت ہے ؟
کیا عبادات جیسے مقدس عمل کو ہم فواد چوہدری اور مفتی منیب کی باہمی لڑائی کی نظر کر سکتے ہیں ؟

جناب عالی، مذاق تو یہ ہے کے جب عمران خان کی حکومت خیبر پختونخوا تک محدود تھی تو وہ وفاق کےساتھ ہی عید مناتے تھے ،آج جب حکومت وفاق میں ہے تو صوبائی وزیروں اور گورنر نے کے پی میں ایک دن پہلے عید منانے کا سرکاری اعلان کر رکھا ہے ۔

پورے ملک اور دنیا بھر سے شہادتیں سوشل میڈیا کی زینت بنیں بلکہ من و عن اس کا اظہار بھی کیا گیا۔ لیکن کیونکہ ہماری وزارت اس کے اجلاس ،اور نوکری اللہ اور اس کے حکم سے زیادہ اہم ہے تو اس لیے اس مرتبہ بھی جس نے جب بھی عید منانی ہے منائے۔ مفتی منیب کا اجلاس اپنے مقررہ وقت پر ہی منعقد کیا جائے گا، چاہے اس سے قوم تفرقے میں ہی کیوں نا پڑے۔ چاہے آپ کےپاس جتنی بھی ٹیکنالوجی ہو اپ نے اس کا شرعی استعمال کرنے کی بجائے دین پر سیاست چمکانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا۔ اور یاد آیا کیا بنا ‘دو نہیں ایک پاکستان’ کا؟

خدارا، یہ امت ایک ہے اور اس کی یکجہتی میں اپنی سیاست کے لیے دراڑیں ڈالنے سے اجتناب کریں۔

متعلقہ مضامین