سعودی بادشاہ – عمران خان اور سوشل میڈیا

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر کیا گیا سعودی عرب کا دورہ تاحال خبروں میں ہے اور اس کی وجہ سوشل میڈیا صارفین کے تبصرے ہیں۔

کانفرنس کے اختتام پر اعلان مکہ میں کشمیر کا ذکر نہ ہونا پاکستانیوں کے لیے اتنے مباحثے اور دلچسپی کا باعث نہیں بنا جتنا شاہ عبداللہ سے عمران خان کی استقبالی ملاقات کا چرچا ہوا۔

ایران کے پریس ٹی وی کے مطابق پاکستانی وزیراعظم کی سعودی شاہ سے ملاقات میں اشاروں اور رویے سے وہاں کی حکومت ناخوش ہے اور انہوں نے پاکستان کے ساتھ سفارتی سطح پر اس کی شکایت بھی کی ہے تاہم اس امر کی کہیں سے بھی تصدیق نہیں ہو پائی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سعودی گزٹ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی عمران خان کی مکہ کانفرنس کے موقع پر استقبالی ویڈیو پر زیادہ تر پاکستانیوں نے ہی تبصرے کیے ہیں۔

پاکستان کے زیادہ تر سوشل میڈیا صارفین نے کہا ہے کہ عمران خان نے سفارتی آداب کی خلاف ورزی نہیں کی تاہم بعض صارفین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو سعودی بادشاہ کی طرف دیکھ کر مخاطب ہونا چاہئیے تھا نہ کہ ان کے ترجمان کی طرف رخ کر کے یہ اشارہ کرنا چاہئیے تھا کہ بادشاہ کو میری بات سمجھا دیں۔

اکثر صارفین اس رائے سے اتفاق کر رہے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کو اپنی بات کرنے کے بعد فورا موقع سے جانا نہیں چاہیے تھا بلکہ شاہ عبداللہ کے جواب کا انتظار کرتے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے