اگلے ہفتےکا "دنگل” اہم ہے

دس جون کو نیب زرداری کی گرفتاری کی آس لگائے بیٹھی ہے۔ گیارہ جون کو نواز شریف کی ضمانت کی سماعت ہونا ہے۔ اسی روز اقتصادی سروے جاری ہونا ہے۔ بارہ جون کو بجٹ پیش ہونا ہے۔ اور اس سے دو روز بعد جسٹس فائز عیسیٰ کیس کی جوڈیشل کونسل میں سماعت ہے۔ کیا ان چاروں معاملات کا آگے پیچھے آنا محض اتفاق ہے یا کسی معجزاتی ہاتھ کا کرشمہ؟

اگر جناب زرداری کی ضمانت منسوخ ہو جاتی ہے اور جناب نواز شریف کی درخواست مسترد تو دونوں بڑی جماعتوں کیلئے صرف "ہوائی فائرنگ” پہ اکتفا کرنا مشکل ہو جائے گا۔ جبکہ چھوٹی اپوزیشن جماعتیں پہلے ہی بھری بیٹھی ہیں۔ دوسری طرف متوقع طور پر (اور حکومتی عہدیداران کوئی جھوٹی تسلیاں بھی نہیں دے رہے) اس بجٹ نے عوام کے ساتھ خواص کی بھی چیخیں نکال دینی ہیں۔ یہ اپوزیشن کی تحریک کا نقط آغاز ہو گا، اس دن پارلیمنٹ اور اس کے بعد سڑکوں پر احتجاج شروع ہو جائے گا۔ اس احتجاج کو مزید تقویت جسٹس فائز عیسیٰ کے ریفرنس کی سماعت سے ملے گی۔ وکلاء قیادت کا رویہ افتخار چودھری کے وقت سے زیادہ جارحانہ ہے- اپوزیشن اور وکلاء تحریک کی یکجائی کا امکان بہت زیادہ ہے اور ابتدائی طور پر اپوزیشن اپنا وزن وکلاء کے پلڑے میں ڈالنا ہی زیادہ پسند کرے گی۔ اگر بجٹ میں اٹھائے گئے ٹیکس اقدامات پر تاجر تنظیمیں بھی سڑکوں پر نکل آئیں تو صورتحال مزید خراب ہو جائے گی۔

دوسری جانب چئیرمن نیب کے اصل سرپرست ان کی وڈیو لیک سے خوش نہیں ہیں۔ متعلقہ ادارے طاہر اے خان اور ان کے چینل کے عہدیداران سے تحقیقات مکمل کر چکے اور شاید چئیرمین نیب کو بھی ان سے آگاہ کر دیا گیا ہے- حضرت چونکہ بنیادی طور پر کینہ پرور انسان ہیں اس لئے بہت زیادہ امکان ہے کہ اگلے ایک ڈیڑھ ماہ میں کچھ حکومتی ارکان بھی مشکل میں پڑنے والے ہیں۔

تیسری جانب پی ٹی ایم کے ساتھ جو پہلے ہوا اور جو عید سے ایک روز قبل پشاور کے دھرنے کے ساتھ کیا گیا ہے، اور کل کے دھماکے کے بعد جس طرح حکومتی ترجمان نے اس کا ذمہ دار بھی پی ٹی ایم کے گرفتار ایم این ایز کو قرار دیا، اس سے لگتا ہے کہ اب رویوں میں لچک ختم ہو چکی۔ پی ٹی ایم اب اس سطح کی تحریک ہے جسے آپ بزور طاقت ختم کر ہی نہیں سکتے۔ آنے والے دنوں میں سابقہ فاٹا اور بلوچستان کی پشتون بیلٹ میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہونے جا رہا ہے- یہ حکومت کیلئے بہت بڑا چیلنج ہے اور اس کے پاس اپنی کوئی حکمت عملی نہیں وہ سو فیصد اسٹیبلشمنٹ کی لائن پہ چل رہی ہے- اور اب پی ٹی ایم کے معاملے پر اسٹیبلشمنٹ کو خود سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ کیا کرے۔

چوتھی جانب جس وقت حکمران جماعت کو ان سب چیلنجز سے نبٹنے کیلئے متحد ہو کر جاندار حکمت عملی بنانا تھی، اس نے اپنا تنظیمی ڈھانچہ توڑ دیا ہے- اب نئے عہدوں کیلئے نیا جوڑ توڑ اور سازشیں شروع ہیں۔ کابینہ کے ارکان اور پارٹی عہدیداروں کے آپس کے اختلافات میڈیا کی ہیڈلائنز بن رہے ہیں۔ خود کابینہ کے کئی اراکین مشیرخزانہ اور اقتصادی ٹیم کے سخت فیصلوں کو اون کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔

اگر مقصد سلگتی آگ کو بجھانا ہے تو زرداری صاحب کی ضمانت برقرار رکھنا ہوگی جبکہ میاں صاحب کو ایک اور لمبی تاریخ دینا پڑے گی تاکہ دونوں جماعتیں فوری تحریک چلانے کی پوزیشن میں نہ رہیں۔ لیکن سب سے اہم فیصلہ سپریم جوڈیشل کونسل کو کرنا ہے- پہلی سماعت وکلاء کی مجوزہ تحریک کا رخ متعین کرے گی۔ اور اگر مقصد جلتی پر تیل چھڑکنا ہے تو پھر سمجھیں دنگل سج چکا۔ سب پہلوان اپنے جسموں پر تیل لگا رہے ہیں۔ کسی بھی سمے وہ خم ٹھونک کر میدان میں اتر سکتے ہیں۔

جب بھینسیں لڑتی ہیں تو گھاس پھوس ہی کچلی جاتی ہے، اس لئے عوام اپنی شکستہ جانوں کو مزید جھٹکوں کیلئے تیار کر لیں۔ عید کی آخری چھٹی کو سکون کی آخری گھڑیاں سمجھ کر خوب انجوائے کریں۔ پھر جو ہوگا دیکھا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے