ججز ریفرنس، سابق چیف جسٹس کا انٹرویو

( پاکستان کے سابق چیف جسٹس جسٹس جواد ایس خواجہ سے درج ذیل گفتگو عمر گیلانی ایڈووکیٹ اور عادل چٹھہ ایڈووکیٹ جو کہ ان کے شاگرد رہ چکے ہیں، نے عید کے موقع پر ایک غیر رسمی ملاقات کے دوران کی۔ جس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف حکومتی ریفرنس، سپریم جوڈیشل کونسل کی کارکردگی، جج صاحبان پر لاگو ہونے والے ضابطۂ اخلاق کے بارے میں ان کی رائے جاننے کی کوشش کی گئی۔)

س۔ اگر حکومت کسی جج پر بدعملی (misconduct) کا الزام لگا کر اس کی بر طرفی کے لیے درخواست
(reference) دائر کرنا چاہے، تو اس کا درست طریقہ کیا ہے؟
ج۔ جج کے خلاف ریفرنس ضابطہ اخلاق مجریہ 2009(code of conduct 2009) کی خلاف
ورزی پر ریفرنس دائر کیا جا سکتا ہے۔ جس پر کارروائی کا طریقہ سپریم جوڈیشل کونسل کے ضوابط 2005 (SJC Procedure of Inquiry, 2005) میں درج ہے۔ اس کی سختی سے پابندی برتی جائے۔


س۔ عدلیہ اور ججوں کے احتساب کے عمل میں کن امور کا خاص خیال رکھنا چاہیے؟
ج۔ میری رائے میں احتساب کے عمل میں سب سے اہم چیز شفافیت ہے۔


س۔ آپ کی رائے میں شفافیت کا معیار کیا ہے؟
ج۔ جج صاحبان کے احتساب اور مواخذہ میں یکساں برابر عمل ہونا چاہیے۔ من مانی کا تاثر اور چند مخصوص درخواستوں کو سماعت کے لیے اُٹھانا اور 300 سے زائد زیرِ التوا درخواستوں کو پسِ پشت ڈال دینا میری رائے میں شفافیت اور مساوی احتساب کے معیار پر پورا نہیں اُترتا۔


س۔ سپریم کورٹ کے فاضل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف جو ریفرنس حال ہی میں دائر ہوا ہے، اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
ج۔ اب تک جو اطلاعات منظرِ عام پر آئی ہیں اور اخبارات میں چھپی ہیں ان کے مطابق یہ ریفرنس غیر شفاف طریقے سے دائر ہوا ہے اور اسے غیر شفاف انداز میں پیش کیا گیا ہے۔


س۔ کیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس واحد ریفرنس ہے جو حال ہی میں سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر ہواہے؟
ج۔ نہیں، ایسا نہیں ہے۔ با وثوق ذرائع کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس موجودہ ریفرنس سے پہلے تقریباً 300 ریفرنس درج ہیں۔ آخرکیا وجہ ہے کہ ایک ریفرنس جو ابھی دائر ہوا ہے، اُسے اخبارات کے مطابق اس ماہ کی 14 تاریخ کو سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ جب کہ اس سے پہلے دائر ہونے والے ریفرنسز کی کسی کو کوئی خبر نہیں۔ میری رائے میں صرف یہ ایک عمل سپریم جوڈیشل کونسل کی کارکردگی کو مشکوک بنانے کیلئے کافی ہے۔
اگر سپریم جوڈیشل کونسل بغیر کسی ترتیب کے ریفرنس کی سماعت کرتی ہے تو ایسے طرزِ عمل سے اس ادارے کی ساکھ مجروح ہو گی۔


س۔ سپریم جوڈیشل کونسل ملک کا انتہائی اہم اور حساس ادارہ ہے۔ کیا اس کی کارکردگی کے حوالے سے ماضی میں کوئی آواز اُٹھی ہے؟
ج۔ میں نے جنوری 2019 میں بھی ایک خط سپریم جوڈیشل کونسل کی کارکردگی کے بارے میں لکھا تھا۔ اس خط میں کونسل کو باور کرایا تھا کہ عدلیہ کا احتساب مستحسن قدم ہے مگر اسے غیر شفاف طریقے سے نہیں ہونا چاہیے ورنہ پورے ملک میں تشویش پھیلے گی۔

’تقریباً دو سال قبل پاکستان بار کونسل نے سپریم جوڈیشل کونسل سے باضابطہ طور پر ریفرنس کی دائری، اس کی سماعت اور ان کے فیصلوں کے حوالے سے شماریات مانگی تھیں۔ مگر سپریم جوڈیشل کونسل نے یہ معلومات دینے سے انکار کر دیا تھا۔‘ اس لیے آج بھی کسی کو حتمی طور پر یہ معلوم نہیں کہ اس وقت کتنے ریفرنس زیر التوا ہیں اور کتنے ریفرنس ہیں جن کے فیصلے ہو چکے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ ایسے احتسابی عمل کو شفاف کیسے کہاجا سکتا ہے۔
س۔ ججز کے ضابطہ اخلاق میں ججز کو کن کن کاموں سے روکا گیا ہے؟
ج۔ ضابطہ اخلاق مجریہ 2009 آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت بنایا گیا ہے۔ اس ضابطے کے آرٹیکل 2 کے
مطابق جج کو خدا ترس اور صاف گو ہونا چاہیے ۔ اسے حرص اور لالچ سے پاک ہونا چاہیے۔ اسی طرح ضابطے کے آرٹیکل 5 میں لکھا گیا ہے کہ جج کو کسی عدالت کے باہر کسی بھی public forum پر اپنی خود نمائی کے لیے تقریروں سے پرہیز کرنا چاہیے اور خاص طور پر متنازعہ امور پر عدالت سے باہر بیان بازی نہیں کرنی چاہیے۔

’یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ پچھلے دو سالوں میں اس ضابطے کی صریح خلاف ورزی ہوئی ہے۔ مگر تعجب کی بات ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل اس مسئلے پر خاموش رہی۔‘


میری رائے میں عدالتی کارروائی کو انگیریزی میں چلانا بھی آئین کے آرٹیکل 251 کی صریح خلاف ورزی
ہے۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ اپنی جگہ موجود ہے۔ اس کی خلاف ورزی بھی حلف شکنی اور (misconduct) کے زمرے میں آتی ہے۔ اس طرف کسی کی توجہ نہیں۔

’مجھے معلوم ہے کہ پاکستان کے ہر خطہ سے درخواست دہندہ ہیں۔ انھوں نے صدرِ پاکستان اور سپریم جوڈیشل کونسل کو اس بارے میں درخواست برائے مواخذہ بھجوائی ہیں، لیکن ان کی کسی کو کوئی خبر نہیں دی گئی۔‘


س۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک مطبوعہ فیصلے (بعنوان ملک بشیر بنام وفاقِ پاکستان68 PLD 2018, ISL.. ) کے مطابق سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے متعدد جج صاحبان وفاقی حکومت سے قیمتی پلاٹ سستے داموں وصول کرتے رہے ہیں بعض جج ایسے بھی ہیں جو ایک یا دوسے زائد پلاٹ بھی وصول کرتے رہے ہیں۔ کیا ضابطہ اخلاق اس کی اجازت دیتا ہے؟
ج۔ بالکل نہیں دیتا۔ میں پہلے بھی اس رائے کا اظہار کر چکا ہوں کہ سرکار سے پلاٹ یا دیگر مراعات وصول کرنا ججز کا استحقاق نہیں ہے، نہ تو ججز سرکاری ملازم ہیں اور نہ ہی سرکاری وفا دار۔

’ان کا سرکار سے پلاٹ تحفتاً یا کوڑیوں کے دام وصول کرنا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔ بہت سے جج صاحبان ہیں جنھوں نے اپنے عہدے کی بنا پر پلاٹ حاصل کیے ہیں۔ سپریم جوڈیشل کونسل کو اس معاملہ کا نوٹس لینا چاہیے۔ آج سے تقریباً دو سال قبل The News اخبار کے ایک صحافی نے اس حوالے سے میرے موقف کا ذکر ایک کالم میں کیا تھا۔‘


س۔ جس زمانے میں آپ سپریم کورٹ کے جج تھے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی عدلیہ کے رکن تھے۔ بطور رفیقِ کار (Professional Colleague) آپ کی ان کے بارے میں کیا رائے ہے؟
ج۔ میری جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے پہلی بالمشافہ ملاقات 2009میں ہوئی جب وہ بلوچستان ہائی کورٹ کے جج تھے۔ اس سے پہلے بھی میں نے ان کے بارے میں سن رکھا تھا، مگر کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔

’جب وہ سپریم کورٹ کے جج مقرر ہوئے تو ہم نے کئی مقدمات کی سماعت اکٹھے بھی کی۔ میری رائے میں وہ ایک بہت ہی باکردار اور با ایمان انسان ہیں۔ انھیں نہ تو کوئی لالچ ہے نہ کوئی حرص۔ وہ خالصتاً اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی میں مشغول ہیں۔‘

میری کبھی اس بارے میں جسٹس قاضی فائز سے براہِ راست بات نہیں ہوئی مگر میرا خیال ہے کہ ان کا شمار ان چند ججوں میں ہوتا ہے جنھوں نے حکومت سے پلاٹ وصول نہیں کیا۔ باقی سپریم جوڈیشل کونسل خود ان سے پوچھ سکتی ہے۔


س۔ ایک اچھے جج کے اوصاف کیا ہیں؟
ج۔ اچھا جج وہ ہے جو آئین اور قانون پر پوری طرح عمل کرے۔ ضابطہ اخلاق میں بیان کردہ خوبیوں کا حامل ہو۔ ’سب سے اہم یہ کہ وہ نڈر اور بے باک ہو۔ ظالم، خاص طور پر طاقتور ظالم کو گرفت میں لینے اور آئین کے تابع بنانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔‘

(بشکریہ! عمر گیلانی ایڈووکیٹ، عادل چٹھہ ایڈووکیٹ)


10جنوری 2019 کو سابق چیف جسٹس پاکستان، جسٹس جواد ایس خواجہ کا سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھا گیا ایک خط ذیل میں پیش ہے۔

’١۔ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے جج کا مواخذہ اور برطرفی صرف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ہی ہو سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک سپریم جوڈیشل کونسل تشکیل دی گئی ہے۔


٢۔ مواخذہ اور برطرفی کے لیے کوئی بھی شخص سپریم جوڈیشل کونسلکو درخواست بھجوا سکتا ہے۔
پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کا مواخذہ ایک حساس معاملہ ہے اور بوجوہ عدلیہ کی آزادی کے لیے از حد ضروری ہے کہ ان کے خلاف مواخذہ کا عمل بدنیتی پرمبنی جھوٹے الزامات پر نہ ہو۔ مواخذہ کے عمل میں جانبداری کا تاثر یا شائبہ بھی اس عمل کو غیرشفاف بنا دے گا۔

میں آجکل LUMSمیں ایک کورس ”مستحسن طرز حکومت” (Good Governance) پر پڑھا رہا ہوں۔ ایسی حکمرانی کا ایک بنیادی عنصر عدلیہ کی آزادی اور ججوں کے مواخذہ کا طریقہ کار ہے۔ مواخذہ کے مقاصد کے لیے آئین میں(SJC) سپریم جوڈیشل کونسل تشکیل دی گئی ہے جس کا سربراہ چیف جسٹس پاکستا ن ہے۔

جج صاحبان کے مواخذہ کے لیے لازم ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسلشفاف اور منصفانہ طریقہ سے اپنے فرائض سر انجام دے۔ شفافیت اور انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ جب سپریم جوڈیشل کونسلکسی جج کے خلاف کوئی شکایت یا درخواست سنے تو اس کا طریقہ کار سب کے لیے یکساں برابر اور مساوی ہو۔ اس عمل میں دوہرے معیار کی کوئی گنجائش نہیں۔

معتبر اور ذی شعور اشخاص جو کہ احسن طرزِ حکمرانی میں دلچسپی رکھتے ہیں اور ججوں کے مواخذہ کے بارے میں سوچتے ہیں۔ وہ اس تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ ججوں کے مواخذہ کے عمل میں یکساں معیار نہیں ہے بلکہ من مانی اور عدم اصولی کا تاثر نمایاں ہے۔ مثلاً چند ذرائع کے مطابق اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل میں 300 سے زائد شکایات ججوں کے خلاف دائر ہیں اور زیرِ التوا ہیں۔

عوام الناس اور ملک کے شہریوں کو کوئی بھی اعداد و شمار یا کوائف ان شکایات کے بارے میں مہیا نہیں کیے گئے اور نہ ہی شکایات کی نوعیت کے بارے میں کچھ بتایا گیا ہے۔ آج سے دو سال قبل پاکستان بار کونسل کے ایک رکن نے ان شکایات کے بارے میں معلومات اور اعدادو شمار حاصل کرنے کے لیے درخواست دی تھی لیکن اُس کی درخواست کو خارج کر دیا گیا باوجود اس کے کہ آئین کے آرٹیکل 19Aکے تحت آئینی استحقاق ہے۔ ایسے اعداد و شمار دینے سے گریز و انکار یقینا شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے اور مواخذہ کے عملی کے غیر منصفانہ اور جانب دار ہونے کا واضح تاثر پیدا کرتا ہے۔ اس طرح عدلیہ بطور آئینی رکن اور عدلیہ کی آزاد حیثیت کو سخت ٹھیس اور نقصان پہنچتا ہے۔

سنجیدہ سوچ رکھنے والے وکلاء جج صاحبان ، قانون کے ماہرین اور اساتذہ نے یہ سوال اٹھایا ہے اور بجا طور پر کہا ہے کہ چند جج صاحبان ایسے ہیں جنھوں نے اپنے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزیاں کی تھیں لیکن سپریم جوڈیشل کونسل نے ان خلاف ورزیوں کو نظر انداز کیا ہے اور خلاف ورزیوں کے مرتکب ججوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسلنے ضابطۂ اخلاق کے اطلاق میں جانب داری کا ثبوت دیا ہے یا واضح تاثر دیا ہے۔

اگر میڈیا کی خبروں کو دیکھا جائے تو بہت سے واقعات سامنے آتے ہیں ججوں کے ضابطۂ اخلاق اور بالخصوص ضابطے کی شقیں 8,7,5,4اور 10کی خلاف ورزیاں عیاں ہوتی ہیں لیکن ان بے ضابطگیوں اور بد عملی کے بارے میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ حالانکہ ایسی بے ضابطگیوں کو بد عملی (miscondcut) گردانا گیا ہے۔ اگر چند ججوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے لیکن بیشتر ججوں کی بے ضابطگیوں کو نظر انداز کر دیا گیا ہے تو پھر مواخذہ اور احتساب کا تصور ہی باقی نہیں رہتا۔

بطور سابق جج اور چیف جسٹس یہ میرے لیے نہایت تشویش کا باعث ہے کہ یہ تاثر قائم ہو کہ ججوں کے محاسبہ میں اور ضابطۂ اخلاق میں جانب داری عیاں ہو۔ سپریم جوڈیشل کونسلکے پچھلے چند برسوں کی کارکردگی سے عدالتوں اور ججوں کی ساکھ پر منفی اثرات سامنے آئے ہیں۔ عدلیہ کی ساکھ کی اہمیت سب سے زیادہ مقدم ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل کے لیے نہایت ضروری ہے کہ وہ یہ تاثر نہ دے کہ وہ متعصب ہے اور یہ کہ احتساب کے عمل میں یکساں برابر اور مساوی مواخذہ کرنے سے قاصر ہے۔‘

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے