زرداری، سگریٹ اور عدالتی کارروائی

احتساب عدالت کا احوال
اویس یوسف زئی سے
احتساب عدالت نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں گرفتار سابق صدر آصف علی زرداری کو تفتیش کے لیے 10 روزہ جسمانی ریمانڈٖ پر نیب کے حوالے کیا ہے اور 21 جون کو دوبارہ عدالت کے سامنے پیش کر کےنیب کو تفتیش میں پیش رفت سے آگاہ کرنے کا حکم دیا ہے ۔

آصف زرداری کےکمرہ عدالت میں سگریٹ کے کش اور غیر رسمی گفتگو
آصف علی زدراری کو کڑے پہرے میں عقبی دروازے سے احتساب عدالت پہنچایا گیا۔اس موقع پر وہ خوشگوار موڈ میں نظر آئے۔ کمرہ عدالت میں پارٹی کارکن رخسانہ بنگش سے موبائل فون لے کربچوں سے گفتگو کی اور سگریٹ کے کش بھی لگائے۔

کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے سابق صدر نے کہا کہ سیلیکٹیڈ وزیراعظم کو کچھ نہیں پتہ، جو کچھ ہورہا ہے وزیرداخلہ کروا رہے ہیں۔ میری گرفتاری پریشر ٹیکٹکس ہیں، مگر تھرڈ ورلڈ ممالک میں گرفتاری یہاں کی سیاست کا حسن ہے۔

”مشرف منتخب نہیں تھا اس لئے جیل جانے کو تیار نہیں کیونکہ انہوں نے عوام کے پاس نہیں جانا، ہم نے ووٹ مانگنے عوام کے پاس جانا ہے۔“

آصف زرداری کا کہنا تھا ”میں نے ٹھیک کہا تھا کہ چیئرمین نیب کی کیا مجال میرے خلاف کیسز بنائے؟ یہ سب کچھ تو حکومت کرتی ہے۔“

آصف زرداری سے سوال کیا گیا کہ جس طرح نواز شریف کو پارلیمنٹ سے آؤٹ کردیا گیا، کیا آپ پر بھی ہوئی فارمولا اپلائی کیا جارہا ہے؟ جس پر آصف زرداری نے کہا فرق کیا پڑے گا؟ میں نہیں ہوں گا تو بلاول ہوگا، بلاول نہیں ہوگا تو آصفہ ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے دور ایک بھی سیاسی قیدی نہیں تھا حالانکہ قائداعظم کے دور میں بھی اچکزئی کےوالد گرفتار تھے ۔ ”ہم نے تو سزائے موت پر بھی پابندی لگا رکھی تھی۔“

آصف زرداری نے پیش گوئی کی کہ وہ عمران خان کو لندن بھاگتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ کمرہ عدالت میں سگریٹ پینے کے سوال پر آصف زرداری نے کہا عدالت تب ہوتی ہے جب جج موجود ہو، ابھی یہ صرف کمرہ ہے۔

گرفتاری کے لیے عدالت سے اجازت کیوں نہیں لی؟

جج آدھے گھنٹے کے انتظار کے بعد سماعت شروع ہوئی تو ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے جسمانی ریمانڈٖ کی استدعا کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ بنک حکام کی معاونت سے جعلی اکاؤنٹس کھولے گئے جن میں اربوں روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی ۔ آصف زرداری نے فرنٹ مین کمپنی اور بےنامی داروں کے ذریعے منی لانڈرنگ کی۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چیئرمین نیب کے پاس تفتیش کے دوران گرفتاری کا اختیار ہے، ریفرنس دائر ہونے کے بعد نہیں۔ اس کیس کے 26 ملزم ہیں مگر صرف آصف زرداری کے وارنٹ جاری کر کے گرفتار کیا گیا، یہ امتیازی سلوک ہے۔ عدالت وارنٹ گرفتاری منسوخ کرنے کا حکم دے۔

جج محمد ارشد ملک نے استفسار کیا کہ گرفتاری کے لئے اس عدالت سے اجازت کیوں نہیں لی گئی ؟

نیب پراسیکیوٹر نے کہا چیئرمین نیب کو وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا خصوصی اختیار ہے۔ اسی کیس میں 8 ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں۔ تفتیشی نے طے کرنا ہوتا ہے کہ کس ملزم کو گرفتار کرنا ہے۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پھر عدلیہ کی آزادی کہاں گئی ؟ ہر سماعت پر عدالت میں حاضری یقینی بنانے کے ضمانتی مچلکوں کے بعد آصف زرداری عدالت کی تحویل میں تھے ۔

اٹینڈنٹ چاہیے جو شوگر لیول چیک کرتا رہے

آصف زرداری دوران سماعت آصف زرداری خود بھی روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ میں لو شوگر کا مریض ہوں ، رات کو شوگر لو ہو جاتی ہے۔ شوگر چیک کرنے کا الیکٹرانک گیجٹ میرے پاس موجود ہے۔ مجھے ایک اٹینڈنٹ چاہئے جو وقتا فوقتا شوگر لیول چیک کرتا رہے اور چاکلیٹ دے ۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا آصف زرداری کی صحت اور زندگی اہم ہے، اس حوالے سے مخالفت نہیں کریں گے۔عدالت نے آصف زرداری کو جسمانی ریمانڈ کے دوران ایک مرتبہ اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت بھی دی ۔

جج کو عدالت پہنچنے میں مشکلات

آصف علی زرداری کی احتساب عدالت پیشی کے موقع پر فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس کے اطراف تمام سڑکوں کو عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔

عدالت کی طرف آنے والے راستوں پر مختلف پولیس چیک پوسٹس قائم تھیں جن پر شناخت کے باوجود سائلین، وکلاء اور کوریج کے لیے آنے والے میڈیا کے نمائندوں کو روکا گیا ۔

حد اس وقت ہوئی جب کسٹم ایپلیٹ ٹریبونل کے جج ساجد عباسی کو بھی تین مختلف چیک پوسٹس اور جوڈیشل کمپلیکس کے گیٹ پر روکے رکھا گیا ۔

اس دوران گیٹ پر موجود پولیس اہلکاروں سے جج کی تلخ کلامی بھی ہوئی ۔ جج کسٹم ایپلیٹ ٹریبونل نے کہا کہ یہ کون سی سیکورٹی ہے کہ ججز کو بھی کمرہ عدالت میں آنے سے روکا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے