’بجٹ کی اچھی اور بری چیزیں‘

پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑے حجم یعنی سات کھرب روپے کا بجٹ پیش کیا گیا۔

معاشرے کے ہر طبقے پر بہت زیادہ ٹیکس لگانے کے باوجود بجٹ کا کل خسارہ لگ بھگ تین کھرب 60 ارب رہے گا۔ یہ ملکی تاریخ میں سب سے بڑا بجٹ خسارہ ہے۔

تحریک انصاف کے تمام تر دعوؤں کے باوجود بجٹ دستاویزات بتاتی ہیں کہ معیشت کی بڑھوتری کی شرح آئندہ سال دو اعشاریہ چار فیصد رہے گی جبکہ مہنگائی تاریخ کے نئے ریکارڈ قائم کرتے ہوئے 13 فیصد تک بڑھے گی۔

حکومت کے سادگی اور کفایت شعاری کا دعوؤں کے برخلاف بجٹ میں ہر محکمے کو اضافی فنڈز دیے گئے ہیں۔

فوج کے بجٹ میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق کل دفاعی بجٹ ایک کھرب 900 ارب روپے ہے۔ اس طرح یہ ملک کے کل بجٹ کا 27 فیصد ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق یہ گذشتہ سال کے دفاعی اخراجات سے گیارہ فیصد یا 200 ارب روپے زیادہ ہے۔

بجٹ دستاویز بتاتی ہے کہ مسلح افواج کے ترقیاتی پروگرام کے لیے الگ سے بھی 308 ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ فوجیوں کی پنشن کے لیے 327 ارب روپے اور قبائلی علاقوں میں سیکورٹی کو بہتر بنانے کے لیے 65 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

بجٹ میں سیکورٹی کے دیگر پیکجز کے لیے بھی 84 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

بجٹ میں چینی پر ٹیکس لگایا گیا ہے جس سے اس کے نرخ تین سے چار روپے بڑھ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین