شہباز شریف کا جج سے مکالمہ

پاکستان میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے اپنے خلاف رمضان شوگر ملز کیس کی سماعت کے دوران جج سے مکالمہ کیا ہے۔ انہوں نے لاہور کی احتساب عدالت کے جج سے کہا کہ مقدمے جھوٹ اور بدنیتی پر بنائے گئے۔

عدالت نے شہباز شریف کی آشیانہ ہاوسنگ اور رمضان شوگر ملز ریفرنس میں پیش ہونے کی حاضری لگائی۔ جج جواد الحسن نے کہا کہ ”میاں صاحب، مجھے کسی کی پرواہ نہیں، عدالت میرٹ پر فیصلہ کرے گی۔“

جج نے پوچھا کہ رمضان شوگر ملز کیس میں حمزہ شہباز کیوں پیش نپہں ہوئے۔ وکیل نے بتایا کہ ان کو نیب نے گرفتار کیا ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر نیب کو حمزہ شہباز کو پیش کرنے کی ہدایت کی۔

شہباز شریف نے عدالت میں کہا کہ انہوں نے قوم کے اربوں بچائے اور ان کے خلاف جھوٹے اور فراڈ کیس بنایا۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نیب قوم اور عدالت کا وقت ضائع کر رہا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ ان کو قوم کی خدمت کا صلہ بے بنیاد مقدمات کی صورت میں ملا۔

شہباز شریف نے عدالت میں موجود زیر حراست بیورو کریٹ فواد حسن فواد سے کہا کہ وہ ان سے ملنے آئیں گے۔

عدالت نے رمضان شوگر ملز کیس کی سماعت 26 جون تک ملتوی کر دی۔

دریں اثنا پیرا گون ہاؤسنگ سوسائٹی سکینڈل کیس میں عدالت نے خواجہ برادارن کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 دن کے لیے توسیع کر دی ہے۔

عدالت نے خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کو دوبارہ 27 جون کو پیش کرنے کا حکم دیا۔

خواجہ سعد رفیق نے احتساب عدالت میں پیشی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ نے عوام کی چیخیں دی ہیں۔ ”جلد اس حکومت کی بھی چیخیں نکلنے والی ہیں۔ عمران خان نے عوام کو مہنگائی کا سونامی دیا۔“

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے رات کو چوروں کی طرح تقریر کی۔ عمران خان کے جانے کا وقت ا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے