مختاراں مائی کی نظرثانی درخواست خارج

پاکستان کی سپریم کورٹ نے مشہور زمانہ ریپ کیس میں ملزمان کی بریت کے خلاف مختاراں مائی کی نظرثانی درخواست خارج کر دی ہے۔

عدالت نے کہا ہے کہ درخواست میں اٹھاے گئے نکات کو کسی دوسرے کیس میں زیر غور لائیں گے۔

بنچ کی سربراہی کرتے ہوئے جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ اپیل میں سامنے نہ لائے جانے والے نکات نظر ثانی میں پیش نہیں جا سکتے۔نظرثانی کیس میں صرف فیصلے کی غلطی کا بتایا جاتا ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے وکیل اعتزاز احسن کے دلائل پر کہا کہ آپ کیس کو مختصر کریں ورنہ یہ دس سال یونہی پڑا رہے گا۔

وکیل نے کہا کہ فیصلے میں لکھا گیا کہ مختاراں مائی پر زخم کا کوئی نشان نہیں۔ ”ریکارڈ سے بتاوں گا کہ جسم پر زخم کے نشان تھے۔“

وکیل نے کہا کہ جرم دور دراز کے علاقے میں ہوا۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کیس میں معروضات لکھوا دیں کسی دوسرے کیس میں ان نکات کا جائیزہ لیں گے۔

مختاراں مائی نے سنہ 2012 میں ملزمان کی بریت کے فیصلے پر نظرثانی درخواست دائر کی تھی۔ جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

متعلقہ مضامین