نئے پاکستان میں مزاح نہیں چلے گا

پاکستان میں ٹی وی چینلز کو ریگولیٹ کرنے والے ادارے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے نیوز چینلز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے مزاحیہ پروگراموں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے وابستہ شخصیات، سیاسی لیڈروں اور دوسرے افراد کو خاکوں، کارٹون، فوٹوشاپ تصاویر اورمزاحیہ میمز کے ذریعے مذاق اور استہزا کا نشانہ بنانے سے گریز کریں۔

اس پر ٹی وی اینکر ماریہ میمن نے لکھا ہے کہ کیا اب نئے پاکستان میں مزاح بھی نہیں چلے گا۔


پیمرا کی جانب سے چینلز کو مزاحیہ کانٹینٹ نشر کرنے کے حوالے سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ اتھارٹی نے حالیہ دنوں میں مشاہدہ کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام اور سیاسی جماعتوں سے وابستہ شخصیات کو خاکوں، کارٹونز، فوٹوشاپ تصاویر اور مزاحیہ میمز کے ذریعے مذاق اور استہزاء کا نشانہ بنانے کا ٹرینڈ بڑھا ہے۔


ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ اتھارٹی کو عوام کی جانب سے بھی اس حوالے سے کئی شکایات موصول ہوئی ہے۔

عوام سیاسی رہنماؤں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام کا اس طرح مذاق اڑانے اور استہزا کا نشانہ بنانے کو ناپسند کرتے ہیں۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ عوام کا خیال ہے کہ نیوز اور کرنٹ افئیرز کے چینلز ایسے ٹرینڈ کو فروع دے رہے ہیں جس سے ملک کی قیات کی نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سطح پر بھی بدنامی ہو رہی ہے۔

ان تصاویر اور خاکوں میں خواتین سیاستدانوں کی شہرت کو بھی بری طرح خراب کیا جا رہا ہے۔


ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ پیمرا نے کئی مرتبہ ٹی وی چینلز کو اپنا اندرونی خود احتسابی کا میکینزم بنانے اور اپنے ایڈیٹوریل اسٹاف کو موجودہ قوانین، صحافیانہ اخلاقیات، سماجی اقدار اور اس حوالے سے حساسیت کے بارے میں آگاہی دینے کا کہا ہے۔

اس کے علاوہ پیمرا نے میڈیا سے وابستہ افراد کی ٹریننگ کا بھی بندوبست کیا ہے تاہم اس سب کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ تخلیق کی جگہ بھیڑ چال نے لے لی ہے اور ہر چینل نقل کرنے کی دوڑ میں لگا ہوا ہے اور اس کا احساس ہی نہیں کہ اس کا ناظرین اور ان فراد پر جن کو ٹاگٹ کیا جاتا ہے کتنا منفی اثر ہوتا ہے۔


ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ایسے مواد کو نشر کرنا پیمرا آرڈیننس کے سیکشن 20 ایف اور الیکٹرانک میڈیا کوڈ آف کنڈکٹ کی شق 3 (1)، 4 (7)، 4 (10)، 5، 12، 13 اور 17 کی خلاف ورزی ہے۔


"اس لیے تمام ٹی وی چینلز کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ایسا مواد نشر کرنے سے گریز کریں جو استہزائیہ ہو، کسی شخصیت کے خلاف نفرت ابھارے یا کسی سیاسی جماعت سے وابستہ فرد یا کسی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افراد کا مذاق اڑائے۔


ایڈوائزری کے مطابق ٹی وی چینلز اندورنی طور پر ایڈیٹوریل کمیٹی تشکیل دیں جو پیمرا قوانین پر عملدرآمد یقینی بنائیں اور ایسے ناپسندیدہ مواد کو نشر ہونے سے روک دیں۔ "

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے