ترکی: 50 ہزار پاکستانیوں کی واپسی

پاکستان کی حکومت نے ترکی میں غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کے لیے کام شروع کیا ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے اور نیشنل ڈیٹا بیس اتھارٹی نادرا کی سات رکنی ٹیم یکم جولائی سے ترکی میں قید تین ہزار سے زائد پاکستانیوں سے ملاقات کر کے شناخت کا عمل مکمل کرے گی۔

واضح رہے کہ ترک حکومت نے پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم اڑھائی لاکھ افراد میں سے 50 ہزار دو سو کا تعلق پاکستان سے ہے۔

خیال رہے کہ یونان اور ترکی کے راستے یورپ جانے کے خواہش مند پاکستانی ایران اور دیگر راستوں سے وہاں پہنچتے ہیں۔

پاکستانی حکومت نے تفتیشی اہلکاروں پر مشتمل سات رکنی سرکاری ٹیم کو ترکی بھیجنے کی منظوری دی ہے جو یکم جولائی کو ترکی کے لیے روانہ ہوگی۔

دستاویزات کے مطابق ترکی جانے والی سات رکنی ٹیم میں ایف آئی اے کے چار اور نادرا کے تین افسران شامل ہیں۔

ایف آئی اے کے ڈائریکٹر،ایڈیشنل ڈائریکٹر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور ایک انسپیکٹر ٹیم کاحصہ ہوں گے جبکہ نادرا کے ایک جی ایم، ایک ڈپٹی ڈائریکٹر اور ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر ترکی جانے والی ٹیم میں شامل ہیں۔

سات رکنی ٹیم ترکی کی جیلوں میں قید غیر قانونی پاکستانی تارکین کی شہریت کی جانچ پڑتال کرے گی۔

ترکی جانے والی نادرا اور ایف آئی اے کی ٹیم کے دس روزہ دورے پر 21 ہزار پانچ سو دس ڈالر خرچ کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

پاکستان کی حکومت کا دعوی ہے کہ وہ انسانی سمگلنگ اور غیر قانونی ہجرت کے خلاف موثر حکمت عملی ترتیب دے رہی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ ترکی میں 2018 موجود 250،000 لاکھ غیر قانونی تارکین میں سے 50248 کا تعلق پاکستان سے ہے جبکہ ترکی کے 18 صوبوں کے 21 سینٹرز میں اس وقت 3110 پاکستانی زیر حراست ہیں۔

متعلقہ مضامین